2019 میں ماحولیاتی منظرنامہ - دیوار کیا گری مرے کچے مکان کی!

اپ ڈیٹ 20 دسمبر 2019

ای میل

اسپین میں منعقد ہونے والی کانفرنس COP25 بالآخر اختتام کو پہنچی۔ ماحول کے شعبے سے تعلق رکھنے والے جانتے ہیں کہ اس کانفرنس کی کیا اہمیت ہے۔

دسمبر 2019ء میں اسپین کے شہر میڈرڈ میں ہونے والی 25ویں عالمی سربراہی کانفرنس کے اس ’ہائی پروفائل‘ اجتماع پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز تھیں لیکن نتیجے کے اعتبار سے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی معاملہ نشستن، گفتن اور برخاستن سے آگے نہیں بڑھ سکا اور کلیدی فیصلوں کو اگلی کانفرنس تک کے لیے روک دیا ہے۔ اس کانفرنس میں کوئی فیصلہ نہ ہونا اس لیے بھی حیران کن ہے کہ اس میں 196 ممالک کے سرکاری اداروں اور دیگر وفود شریک تھے۔

ہاں لیکن اس بار یہ ضرور ہوا کہ عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے شرکا طویل بحث و مباحثے کے بعد اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ مضر گیسوں کے اخراج سے متعلق پیرس ماحولیاتی معاہدے میں جن اہداف کا تعین ہوا تھا اس پر عملدرآمد توقعات سے کم ہوا جو دنیا کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں۔

ہمیں فخر ہے کہ پاکستان اپنے منفرد جغرافیہ کی بدولت وسائل کی دولت سے مالامال ہے۔ یہاں سمندر سے لے کر بلند و بالا شمال تک ہر قسم کا ایکو سسٹم موجود ہے۔ یعنی سمندر، ساحل، زرعی میدان، صحرا، دریائی نظام اور 7 ہزار سے زائد گلیشیئرز۔ یہاں 3 عظیم پہاڑی سلسلے کوہ ہندوکش، ہمالیہ اور قراقرم کا سنگم واقع ہے۔ اگرچہ یہ جغرافیائی تنوع ہماری دولت تو ہے لیکن ہمارے لیے خطرات بھی بڑھتے جارہے ہیں۔

ایک طرف گلیشیئرز پگھلنے اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے سیلاب کا خطرہ منڈلاتا ہے تو دوسری جانب خشک سالی کے سائے چھائے رہتے ہیں۔ سمندری طوفان اور سمندری کٹاؤ جیسے خطرات بھی منہ کھولے آبادیوں کو نگلنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ پاکستان جیسی کمزور معیشت کے لیے ان خطرات سے نمٹنا اتنا آسان کام نہیں ہے۔

خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں کمی

بدقسمتی سے پاکستان میں ماحول کے بارے میں لوگ زیادہ نہیں سوچتے ہیں بلکہ اس کو انتہائی غیر اہم موضوع بنادیا گیا ہے، یعنی پرند، چرند، پھول پودوں کی بات کردی اور بس۔ لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ اس موضوع پر بھی لکھتے ہوئے ’خون دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں ہم نے‘ والی کیفیت ہوتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی نامی بلا نے جس طرح ہمارا گھر دیکھ لیا ہے اور اس سے ملک کے اکثر حصوں میں قدرتی آفات نے زندگی کو جس طرح تلپٹ کیا وہ تو اپنی جگہ، مگر مزید افسوس یہ کہ جاتے جاتے بھی یہ سال جھولی میں ایک اور بُری خبر ڈال گیا ہے۔

جی ہاں، اب موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کے شکار اوّلین 10 ممالک میں پاکستان پانچویں نمبر پر آگیا ہے، جبکہ پچھلے سال ہم آٹھویں نمبر پر تھے۔ گویا ان خطرات سے لڑنے کی ہماری صلاحیت میں 3 درجے کمی واقع ہوئی ہے۔

ہر سال کی طرح اس سال بھی جرمن واچ The Global Climate Risk Index نے اپنی فہرست جاری کی ہے۔ اس ادارے کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں 1998ء سے 2018ء یعنی گزشتہ 20 سالوں میں آنے والی قدرتی آفات کے باعث 9 ہزار 9 سو 89 جانوں کا ضیاع اور 3.8 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔

اب پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کے شکار اوّلین 10 ممالک میں پانچویں نمبر پر آگیا
اب پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کے شکار اوّلین 10 ممالک میں پانچویں نمبر پر آگیا

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر حکومت اس حوالے سے سنجیدہ نہیں ہوئی تو پاکستان کے عوام کو سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔ پاکستان کو موسمیاتی تغیر کے حوالے سے کثیرالجہتی خطرات کا سامنا ہے۔ شمال میں پگھلتے گلیشئرز، شہروں میں بڑھتی فضائی آلودگی اور خشک سالی ملک کے لیے بڑے خطرات ہیں۔ مختلف علاقوں میں ہونے والی جنگلات کی کٹائی صورت حال کو مزید خراب کررہی ہے۔

گلیشیائی جھیلوں کا پھٹنا

چند سال پہلے ماہرین جس خطرے سے خبردار کیا کرتے تھے یعنی گلیشیائی جھیلوں کا پھٹنا وہ اب معمول بنتا جارہا ہے۔ اس سال جولائی میں چترال کی ایک وادی سیلاب کی لپیٹ میں آگئی۔ یہ سیلاب وادی گولین کے روگھیلی گلیشیر کی ایک جھیل کے پھٹنے سے آیا تھا جس سے وادی کی سڑکیں، گھر، دکانیں، مویشی، کھڑی فصلیں، باغات اور بہت سے درخت بہہ گئے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق گولین وادی کے اوپر پہاڑوں میں 53 چھوٹے بڑے گلیشیرز موجود ہیں جن کے پانی سے 9 جھیلیں وجود میں آچکی ہیں، جن میں سے 2 کو انتہائی خطرناک قرار دیا جاچکا ہے۔ یہ بھی بتاتے چلیں کہ حکومتِ پاکستان نے مختلف اداروں کے تعاون سے ایسی جھیلوں سے بچاؤ کے لیے ’گلوف ٹو‘ منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس منصوبے کا پہلا حصہ کامیابی سے مکمل ہوچکا ہے۔

کیچڑ کا سیلاب

حال ہی میں ہم نے بلتستان کے مختلف علاقوں کا سفر کیا تھا اور علاقے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا تھا۔ اس علاقے خصوصاً سلسلہءِ قراقرم میں ایک نئی ارضیاتی تبدیلی کا مشاہدہ کیا گیا جسے ماہرین ملبے یا کیچڑ کا سیلاب (debri flow) کہتے ہیں۔

بارشوں کے دوران آسمانی بجلی کسی پہاڑی نالے پر گرتی ہے جس سے وہ نالہ پھٹ پڑتا ہے اور پھر نالے کا پانی اپنے ساتھ پہاڑی پتھر، مٹی اور ملبہ ساتھ لیے نیچے بہنے لگتا ہے اور راستے میں آنے والے پورے کے پورے گاؤں اس میں غرق ہوجاتے ہیں۔ یہاں لفظ ’غرق‘ بالکل صحیح بیٹھتا ہے کیونکہ سیلاب کے پانی کے راستے جو کچھ بھی آتا ہے وہ سب بہہ جاتا ہے پھر چاہے وہ اشیا ہوں، مویشی ہوں، زمینیں ہوں یا خود انسان۔

اگرچہ کیچڑ کا سیلاب بہت تیز رفتار نہیں ہوتا لیکن اس کا ججم بہت زیادہ ہوتا ہے۔ بڑے بڑے پہاڑی پتھر اس میں شامل ہوتے ہیں اور وہ خوفناک تباہی مچا دیتے ہیں۔

ہم نے شگر وادی کے قریب ایسا ہی ایک گاؤں کوتھم پائن دیکھا تھا جو جون 2019ء میں قراقرم کے پہاڑوں سے اترتے کیچڑ کے سیلاب میں شدید متاثر ہوا تھا۔ گاؤں والے بتاتے ہیں کہ رات 12 بجے ایک عجیب سی خوفناک گڑگڑاہٹ سے ان کی آنکھ کھلی اور انہوں نے رات کی تاریکی میں پہاڑوں سے اترتی اس خوفناک بلا کو دیکھا۔ لوگوں نے بڑی مشکل سے اونچے مقام پر بنے ہوئے اسکول کی پکی عمارت میں پناہ لے کر جان بچائی۔ اس آفت میں 2 لوگ اور 150 مویشی جان سے گئے۔ اس کے علاوہ لوگوں کے مکانات اور کھڑی فصلیں بھی تباہ ہوگئیں۔ یہ کوئی واحد ایسا واقعہ نہیں بلکہ اس سال کیچڑ کے سیلاب کے 3 واقعات رونما ہوچکے ہیں۔

مٹی اور کیچڑ کے سیلاب کے بعد کی صورتحال—تصویر لکھاری
مٹی اور کیچڑ کے سیلاب کے بعد کی صورتحال—تصویر لکھاری

فضائی آلودگی اور اسموگ

اس سال بھی پاکستان میں فضائی آلودگی اور اسموگ کا مسئلہ چھایا رہا اور عوامی سطح پر اس کے مستقل حل کی تلاش کا مطالبہ کیا جاتا رہا۔ اگرچہ حکومت کے خیال میں فضائی آلودگی کی ایک بڑی وجہ کسانوں کا فصل کی باقیات کو آگ لگانا یا اینٹوں کے بھٹوں میں جلنے والا غیر معیاری ایندھن ہے مگر ہماری تحقیق کے مطابق فضائی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ شہروں کا خراب ٹرانسپورٹ کا نظام ہے۔

بسوں اور دیگر گاڑیوں میں غیر معیاری ایندھن 50 فیصد فضائی آلودگی کا ذمے دار ہے۔ اس کے بعد صنعتی آلودگی، اینٹوں کے بھٹوں اور فصلوں کی باقیات کا نمبر آتا ہے۔

اس حوالے سے پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور کو اس سال یعنی مسلسل پانچویں سال بھی اسموگ کا شدید سامنا رہا اور اس سے بچنے کے لیے ایمرجنسی الرٹ بھی جاری کیا گیا اور اسکول بھی بند کردیے گئے۔ صورتحال اتنی خراب ہوگئی تھی کہ لاہور میں ایئر کوالٹی انڈیکس 500 تک پہنچ گیا تھا۔

اس سال بھی پاکستان میں فضائی آلودگی اور اسموگ کا مسئلہ چھایا رہا—فوٹو اے ایف پی
اس سال بھی پاکستان میں فضائی آلودگی اور اسموگ کا مسئلہ چھایا رہا—فوٹو اے ایف پی

عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صرف فضائی آلودگی سے 20 ہزار افراد قبل از وقت جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی سے اتنی ہلاکتیں نہیں ہوتیں جتنی آلودگی کے باعث ہوتی ہیں۔ اچھی خبر اس حوالے سے یہ ہے کہ وزیرِاعظم عمران خان نے اس حوالے سے فوری سدِباب کے احکامات دیے ہیں۔

آسمانی بجلی کا گرنا

جس تعداد میں اور شدت کے ساتھ آسمانی بجلی گررہی ہے اسے دیکھتے ہوئے ماہرین اسے بھی موسموں کے تغیر میں شامل کررہے ہیں۔ شمالی علاقہ جات میں تو یہ مسئلہ بڑھ ہی رہا ہے لیکن آسمانی بجلی گرنے کے دوسرے بڑے واقعات تھرپارکر میں ہوئے ہیں۔ پچھلے ماہ بارشوں کے دوران تھر پارکر کے مختلف مقامات پر بجلی گری اور 5 خواتین سمیت 21 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ 100 کے قریب جانور جن میں مور بھی شامل تھے ہلاک ہوگئے۔

بجلی گرنے کے واقعات کو موسمیاتی تغیر سے جوڑا جاسکتا ہے۔ سائنس کے مطابق اگر کسی خاص علاقے کا درجہ حرارت اوسط درجہ حرارت سے ایک سینٹی گریڈ بڑھ جائے تو وہاں بجلی گرنے کے امکانات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

خشک سالی اور نقل مکانی

تھرپارکر ضلع میں کئی سالوں سے خشک سالی کا ڈیرہ ہے۔ اگرچہ اس سال بارشیں ہوئی ہیں مگر لوگ کہتے ہیں کہ کم وقت میں تیز برستی اور بے موسم بارشوں نے تھر کے لوگوں کے دکھ اور بھی بڑھادیے ہیں، کیونکہ اس طرح ان کی کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔

قحط سالی کی وجہ سے تھر کے لوگوں کو اپنے جسم و جاں کے رشتے کو بحال رکھنے کے لیے دوسرے علاقوں میں نقل مکانی کرنی پڑتی ہے۔ ڈاہلی، چھاچھرو، ڈیپلو اور ننگر پارکر کے دیہات سے علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد سب کچھ چھوڑ کر عارضی طور پر سندھ کے بیراجی علاقوں میں ہجرت کرتے ہیں۔ یہ نقل مکانی کبھی بھی مقامی لوگوں کے لیے آسان نہیں رہی، بلکہ یہ ان غریبوں کے لیے معاشی اور سماجی مشکلات میں اضافے کا سبب بن جاتی ہے۔

تھرپارکر سے ہجرت کے بعد ویران پڑے ہوئے آنگن اور چوئنرے— فوٹو ابوبکر شیخ
تھرپارکر سے ہجرت کے بعد ویران پڑے ہوئے آنگن اور چوئنرے— فوٹو ابوبکر شیخ

پلاسٹک کے تھیلوں پر پابندی

ملک میں بڑھتی آلودگی کے پیش نظر پلاسٹک کی روک تھام کے لیے ملک بھر میں مختلف وقتوں میں مہم چلتی رہیں، اور پھر ایک وقت آیا کہ اس سال حکومت نے اسلام آباد میں پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال پر مکمل طور پر پابندی عائد کردی۔ اچھی بات یہ رہی کہ یہ پابندی محض رسمی نہیں بلکہ دارالحکومت میں پلاسٹک کا استعمال تقریباً نہ ہونے کے براہر ہوگیا۔ لیکن اسلام آباد سے بھی پہلے یہ پابندی گلگت میں لگی اور وہاں بھی بہت کامیابی سے یہ سلسلہ چل رہا ہے۔

دوسری طرف سندھ میں بھی یکم اکتوبر سے ان تھیلیوں کا استعمال ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر محسوس ہوا کہ اس بار شاید سختی زیادہ ہے اور برقرار رہے گی، لیکن بدقسمتی سے ایسا کچھ نہیں۔ اگر کراچی شہر کی بات کی جائے تو آج بھی وہاں اتنی ہی وافر مقدار میں پلاسٹک استعمال ہورہا ہے، جتنا پابندی لگنے سے پہلے ہورہا تھا۔

پلاسٹک کی روک تھام کے لیے ملک بھر میں مختلف وقتوں میں مہم چلتی رہیں—فوٹو شٹر اسٹاک
پلاسٹک کی روک تھام کے لیے ملک بھر میں مختلف وقتوں میں مہم چلتی رہیں—فوٹو شٹر اسٹاک

ہمیں اب یہ سمجھنا ہوگا کہ جب تک ہم اپنے ماحول کو صاف رکھنے کے لیے سنجیدہ نہیں ہوں گے تب تک یہاں کچھ نہیں ہوسکتا۔

الیکٹرک وہیکل پالیسی

ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ناقص نظام کی بہتری کے لیے ملک کی پہلی الیکٹرک وہیکل پالیسی کی منظوری دی گئی اورایسی گاڑیاں اور موٹر سائیکل بنانے والی کمپنیوں کو مراعات دی گئی ہیں۔ پالیسی کے مطابق2030ء تک ملک کی 30 فیصد گاڑیاں بجلی سے چلیں گی اور کچھ مقامی سی این جی اسٹیشنز کو تجرباتی طور پر الیکٹرک چارجنگ یونٹ بنایا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے ٹرانسپورٹ کے ناقص شعبے میں سبز انقلاب آجائے گا۔

حکومت کیا کہتی ہے؟

وزیرِاعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کی اسپین میں کی گئی تقریر کے مطابق پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس نے مینگرووز (ساحلی جنگلات) کے رقبے کو بڑھایا ہے۔ جانوروں کی 3 نایاب نسلوں کا احیا ہوا جن میں اڑیال، انڈس ڈولفن اور مارخور شامل ہیں۔ پاکستان نے میرین پروٹیکٹڈ ایریاز (سمندری محفوظ علاقے) دریافت کیے اور ایک مزید ڈھونڈ رہے ہیں۔ وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ حکومت نے شجرکاری کا بلین ٹری سونامی منصوبے کا آغاز کیا اور اسے کامیابی سے مکمل کیا۔

وزارتِ برائے موسمیاتی تبدیلی اگلے 4 سال کے لیے 5 نکاتی کلین گرین ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، جس میں

  • 10 بلین ٹری منصوبہ،
  • پلاسٹک بیگز پر پابندی،
  • کلین گرین انڈیکس کا اجرا،
  • الیکٹرک وہیکل پالیسی کا نفاذ اور
  • ری چارج پاکستان شامل ہیں۔

ملک اسلم مزید کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ وہ صفائی ستھرائی اور سبزے کے لیے 35 مختلف اشاریوں پر کام کررہے ہیں۔ ملک میں 10 بلین ٹری منصوبے پر کامیابی سے عمل درآمد جاری ہے، اس پر رواں برس 16 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ اس منصوبے کے تحت زیتون کے 5 کروڑ پودے بھی لگائے جائیں گے۔

حکومت نے شجرکاری کا بلین ٹری سونامی منصوبے کا آغاز کیا—فوٹو عاصم علی
حکومت نے شجرکاری کا بلین ٹری سونامی منصوبے کا آغاز کیا—فوٹو عاصم علی

آج کا سچ

جب بھی ماحولیاتی مسائل کو حل کرنے سے متعلق پاکستان کے کردار کی بات ہوتی ہے تو ماہرین کے نزدیک ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی راہ کی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ پاکستان اس وقت 22 کروڑ آبادی کے ساتھ دنیا کا چھٹا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ اس وقت 3 کروڑ سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کررہی ہے۔ 6 کروڑ پاکستانیوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ ساڑھے 6 کروڑ افراد ایک کمرے کے ڈربے جیسے مکان میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ساڑھے 8 لاکھ افراد کو صاف بیت الخلا کی سہولت میسر نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک چشم کشا رپورٹ کے مطابق ایشیا پیسیفک خطے میں تیز رفتار معاشی ترقی کے باوجود تقریباً نصف آبادی بھوک اور خوراک کی قلت کا شکار ہے۔ عالمی ادارہ برائے خوراک کی علاقائی ڈائریکٹر جنرل کْندہاوی کادیر کا کہنا ہے کہ یہ بہت کڑوا سچ ہے کہ سال 2020 کروڑوں انسانوں کے لیے ایک تکلیف دہ سال ثابت ہوگا خصوصاً پاکستان جیسے کمزور معیشت کے حامل ممالک کے لیے۔ پاکستان میں صرف 3 فیصد بچوں کو صحت مند غذا میسر ہے۔

پاکستانی معاشی ماہرین کے نزدیک غربت کا خاتمہ تب ہوگا جب روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، عوام کو زیادہ مالی وسائل دستیاب ہوں گے اور افراطِ زر کی شرح بھی قابو میں رہے گی۔ ہمیں امید ہے کہ ماحولیاتی بہتری کے لیے سرگرم ہماری حکومت ان نکات کو بھی پیش نظر رکھے گی۔