ڈینگی پر قابو پانے کیلئے آسٹریلین ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 23 دسمبر 2019

ای میل

ملک میں ڈینگی کے 53 ہزار 805 کیسز رپورٹ کیے گئے—فائل فوٹو: اے ایف پی
ملک میں ڈینگی کے 53 ہزار 805 کیسز رپورٹ کیے گئے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: حکومت نے 2020 میں ڈینگی کے مزید مہلک ہونے کے خدشے کے پیش نظر اس پر قابو پانے کے لیے آسٹریلیا سے نئی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ فروری 2020 سے ہی حفاظتی اقدامات شروع کیے جائیں گے تاکہ ڈینگی مچھر کا لاروا پھیل نہ سکے۔

واضح رہے کہ رواں سال 53 ہزار 805 ڈینگی کے کیسز سامنے آئے جن میں سے 95 افراد کی اموات ریکارڈ کی گئیں۔

مزید پڑھیں: دنیا کا وہ ملک جو مچھروں سے 'پیار' کرتا ہے

ڈان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق اسلام آباد سے 13 ہزار 292 کیسز رپورٹ کیے گئے، اس کے علاوہ دیگر مقامات میں سندھ سے 16 ہزار 657، پنجاب سے 10 ایک سو 118، خیبرپختونخوا سے 7 ہزار 876، بلوچستان سے 3 ہزار 474، آزاد جموں کشمیر سے ایک ہزار 690 اور 696 کیسز 'دیگر' کٹیگری کے شامل تھے۔

کچھ کیسز میں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مچھر نے کس صوبے میں مریض کو کاٹا تھا، لہٰذا ایسے کیسز کو 'دیگر' کی کٹیگری میں رکھا گیا۔

ڈینگی کے باعث صوبہ سندھ میں 46 افراد، اسلام آباد میں 22، پنجاب میں 23، بلوچستان میں 3 اور آزاد کشمیر میں ایک شخص جاں ہوا۔

اس حوالے سے قومی ادارہ برائے صحت (این آئی ایچ) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر میجر جنرل ڈاکٹر عامر اکرم نے ڈان کو بتایا کہ رواں سال کے کیسز اور اموات پر غور کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ پیش گوئی کرنے والے اس ماڈل پر توجہ دی جائے گی جس کا استعمال یہ معلوم کرنے کے لیے ہوتا ہے کہ آئندہ برس کا صورتحال ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پیش گوئی کرنے والے ماڈل پر تربیت کے لیے ٹیمز برطانیہ بھیجی تھیں اور اب ہمیں یہ پختہ یقین ہے کہ اگر تمام صوبائی حکومتیں بروقت اقدامات کرتی ہیں تو ڈینگی کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈینگی میں اضافے کے باوجود اسپرے اور ادویات کی فروخت میں واضح کمی

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ علاوہ ازیں ہم نے ڈینگی کنٹرول کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر تربیت کے حصول کے لیے ٹیموں کو آسٹریلیا بھی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، مارچ 2020 سے ہم ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کریں گے کیونکہ آسٹریلیا نے بھی ٹیکنالوجی کی منتقلی پر اتفاق کیا تھا۔

ڈاکٹر عامر اکرم کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا نے ایک 'وولباچیا' نامی ایک جراثیم (بیکٹریا) تیار کیا تھا جسے مچھر میں منتقل کیا جاتا ہے، ایک مرتبہ وولباچیا مچھر کے اندر منتقل ہوجاتا ہے تو وہ نسل در نسل اس کے ڈی این اے میں رہتا ہے اور وہ اسے ڈینگی کو انسانوں میں منتقل نہیں کرنے دیتا۔

وولباچیا ایک گرام نیگیٹو (منفی) جراثیم کی نسل ہے جو کیڑوں کی بڑی تعداد اور کچھ راؤنڈ وارم سمیت آرتھوپوڈ قسم کو متاثر کرتا ہے۔