آوارہ کتوں کی ویکسینیشن: منصوبے کی منظوری کیلئے سندھ حکومت کو آخری مہلت

اپ ڈیٹ 24 دسمبر 2019

ای میل

عدالت نے ٹاسک فورس کو مسائل کو حل کرنے کی ہدایت کی—فوٹو: بشکریہ انڈس ہسپتال
عدالت نے ٹاسک فورس کو مسائل کو حل کرنے کی ہدایت کی—فوٹو: بشکریہ انڈس ہسپتال

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے آوارہ کتوں کی نس بندی اور ان کی ویکسینیشن کے بعد انہیں چھوڑنے سے متعلق مجوزہ منصوبے کی منظوری میں تاخیر برتنے پر صوبائی حکام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ عہدیداران کو 20 دن میں مذکورہ عمل مکمل کرنے کا آخری موقع فراہم کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے مقامی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنی مشکلات سے متعلق ٹاسک فورس کو آگاہ کریں۔

مزید پڑھیں: کتے بے شک نہ ماریں، مگر انسان تو بچالیں!

واضح رہے آوارہ یا گلیوں کے کتوں کی نس بندی اور ان کے کنٹرول سے متعلق ٹاسک فورس تشکیل دی گئی تھی۔

عدالت نے ٹاسک فورس کو مسائل حل کرنے کی ہدایت کی۔

محکمہ صحت کے حکام نے کہا تھا کہ صوبے بھر کے سرکاری اسپتالوں میں انسداد ریبیز ویکسین کی مناسب انوینٹری برقرار ہے لیکن حال ہی میں لاڑکانہ میں کتوں کے کاٹے ہوئے لڑکے کو سنگین حالت میں کراچی منتقل کردیا گیا تھا اور بعد میں اس کی موت ہوگئی۔

تاہم عدالت نے محکمہ صحت کے ایڈیشنل سیکریٹری کو ہدایت کی تھی کہ وہ چانڈکا میڈیکل کالج اسپتال لاڑکانہ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ سے مل کر اس بات کا پتہ لگائیں کہ آیا اس بچے کو انسداد ریبیز ویکسین پلائے گئے۔

بینچ نے صوبے میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں اضافے اور سرکاری ہسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین کی قلت سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیں: کتے کے کاٹنے کی ویکسین نہ ہونے سے بچہ زندگی کی بازی ہار گیا

واضح رہے کہ اکتوبر میں مقامی حکومت کے سیکریٹری نے پیش ہو کر کہا تھا کہ جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سوسائٹی کی مدد سے آوارہ کتوں کی آبادی پر قابو پانے اور انسداد ریبیز کے خلاف ایک پروجیکٹ شروع ہوچکا ہے اور مجوزہ منصوبے کا پی سی ون ایک ہفتے کے اندر تیار ہوگا اور منظوری کے لیے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ (پی اینڈ ڈی) کو پیش ہوگا۔

جس کے بعد سے اب تک بینچ مذکورہ منصوبے کی تکمیل کے لیے متعلقہ حکام کو متعدد مرتبہ ہدایات جاری کررہا ہے۔

بعدازاں محکمہ بلدیات کے ایک عہدیدار نے منصوبہ سے متعلق پیشرفت رپورٹ میں کہا کہ ایک ارب سے زائد رقم پر مشتمل مجوزہ منصوبے کی پی سی ون منظوری کے لیے 18 دسمبر کو منصوبہ بندی اور ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیئرپرسن کو بھجوا دی گئی۔

بینچ نے ریماکس دیے کہ پی سی ون کو 18 دسمبر کو ارسال کی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملے کو بلا کسی جواز کے تاخیر برتی جبکہ معاملہ عوامی مفادات کی نوعیت کا ہے اور حکومتی عہدیداروں کو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

بینچ نے مزید ریمارکس دیے کہ ضلعی میونسپل کارپوریشنز (ڈی ایم سی) اور کنٹونمنٹ بورڈ پیشرفت رپورٹس پیش کرتے رہے لیکن محکمہ بلدیات کے مجوزہ منصوبہ منظوری کے مراحل پر ہے اور اس طرح کے معاملے کو غیر معینہ مدت تک چھوڑا نہیں جاسکتا ہے۔

مزیدپڑھیں: سگ گزیدگی روکنا آسان لیکن اختتام خوفناک - یہ حکومتی ریڈار پر کیوں نہیں؟

علاوہ ازیں بینچ نے ریمارکس دیے کہ سیکریٹری، محکمہ بلدیات، حکومت سندھ اور چیئرپرسن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ کو 20 دن کا وقت دیتے ہیں تاکہ وہ پی سی ون پر غور کریں اور اس کی منظوری کے بعد منصوبے کو مکمل کریں۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ اسکیم کی منظوری کے لیے ان کے اختتام پر مزید کارروائی کی جاسکے اور منظوری کے فوراً بعد ہی یہ پروگرام سندھ میں شروع کیا جائے اور عام آگہی کے لیے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں عوامی پیغام جاری کیا جائے۔

بینچ نے مزید ریمارکس دیے کہ پروگرام کے آغاز کے دوران شکایات سیل یا ہیلپ لائن بھی بنائی جاسکتی ہے اور تمام ڈی ایم سی اور کینٹومنٹ بورڈ کو آوارہ کتوں کے خلاف اپنی مہم جاری رکھنے اور آئندہ سماعت پر مزید پیشرفت کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔