’سعودی عرب کا مقبوضہ کشمیر پر او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کے انعقاد کا ارادہ‘

اپ ڈیٹ 27 دسمبر 2019

ای میل

سعودی وزیر خارجہ نے پاکستان کا ایک روزہ دورہ کیا— فوٹو: نوید صدیقی
سعودی وزیر خارجہ نے پاکستان کا ایک روزہ دورہ کیا— فوٹو: نوید صدیقی

اسلام آباد: سفارتی ذرائع نے کہا ہے کہ سعودی عرب مسئلہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس منعقد کرنے کا ارادہ کررہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود نے دفتر خارجہ میں اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے ملاقات میں یہ پیغام دیا۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق ’دونوں وزرائے خارجہ نے کشمیر کاز کو آگے بڑھانے کے لیے او آئی سی کے کردار پر تبادلہ خیال کیا‘۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم عمران خان سے سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی ملاقات

اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے فیصل بن فرحان السعود کو بھارت کے 5 اگست کے اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور وہاں پیدا ہونے والے انسانی بحران سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بھارتی حکومت کی جانب سے حال ہی میں نافذ کیے گئے شہریت ترمیمی ایکٹ اور شہریوں کی قومی رجسٹریشن اور بھارت میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنائے جانے پر بھی گفتگو کی۔

سعودی وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ’برادرانہ اور تزویراتی‘ قرار دیا اور سعودی قیادت کی طرف سے ’ خطے کے امن اور استحکام کو برقرار رکھنے میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔

انہوں نے پاکستان کے بنیادی مفاد کے معاملات پر سعودی عرب کے تعاون کی یقین دہانی کروائی اور پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات قائم کر نے کی خواہش کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ریاض دونوں ممالک کے درمیان ’بنیادی تعلق‘ کے عزم پر قائم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کثیر الجہتی تعاون کو مزید گہرا کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کے وزیرخارجہ کا عہدہ سنبھالنے والے شہزادہ فیصل بن فرحان السعود جمعرات کو پاکستان پہنچے تھے، جہاں دفترخارجہ آمد پر ان کے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی نے ان کا استقبال کیا تھا۔

رواں برس اکتوبر میں منصب سنبھالنے کے بعد سعودی وزیرخارجہ کا یہ پہلا دورہ پاکستان تھا، جس میں دو طرفہ دلچسپی کے امور اور علاقائی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔