’4 ہزار سے بھی کم تعداد میں رہ جانے والی کیلاش قوم مٹنے کو ہے‘

29 دسمبر 2019

ای میل

رات کے گہرے اندھیرے میں شاہ محراب کے قدم تیزی سے پہاڑ کی ڈھلانوں پر تھرک رہے تھے۔ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا تھا مگر شاہ محراب اور اس کے ساتھی اس خطرے کو بھلائے گیت گاتے چلے جارہے تھے جو ان کی تہذیب کو فنا کردینے کے لیے کناروں تک پہنچ چکا تھا۔ وہ خوش تھے، محوِ رقص تھے۔

آج خوشی کی رُت تھی، نئے سال کو خوش آمدید کہنے پورا گاؤں ناچ رہا تھا۔ گیتوں میں دعائیں کررہا تھا، لیکن کیلاشیوں کے دل کے نہاں خانوں میں کچھ الجھنیں ایسی تھیں جو دُور ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔ کڑاکے کی سردی جہاں جسموں کو کپکپا رہی تھی، وہیں آنے والی گرمیوں کا سوچ کر دل تھرا رہے تھے۔

شاہ محراب جانتا ہے کہ موسمی تغیرات کے لحاظ سے پاکستان کا شمار دنیا کے پہلے 10 ممالک میں ہوتا ہے، بالخصوص اس کا وطن، خطہ کیلاش تباہ کن موسمی تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ 4 ہزار سے بھی کم تعداد میں رہ جانے والی قوم مٹنے کو ہے۔

سالہا سال برف کی سفید چادر اوڑھے پہاڑ، اب گلوبل وارمنگ اور بے وقت کی مسلسل بارشوں کے باعث برفانی تودے اور کالاش کو گھیرے استوئی، زِنور، باداریت اور اوٹک گلیشیئر پگھل رہے ہیں۔

2015ء میں جب سیلاب نے اپنا ہدف جب کیلاش کو بنایا اور وادی کو گھیرے میں لیے 3 دیو قامت گلیشیئرز میں موجود تالاب پھٹے تو سیلاب نے بمبورت کا نقشہ ہی بدل ڈالا۔ بہتا پانی کئی ایکڑ زرعی زمین نگل گیا۔ پہاڑوں سے گرتی بڑی بڑی چٹانوں نے گھروں کو روند ڈالا، سیاحوں کے لیے بنائے گئے کیمپنگ ایریا بھی پتھروں سے بھر گئے۔

سیلاب کے بعد کی صورتحال—فوٹو: اے پی
سیلاب کے بعد کی صورتحال—فوٹو: اے پی

وادیٔ لوٹکوہ کے ایک تباہ شدہ گاؤں شوگور کا ایک منظر—فوٹو ڈان
وادیٔ لوٹکوہ کے ایک تباہ شدہ گاؤں شوگور کا ایک منظر—فوٹو ڈان

دریا کنارے آباد کچھ کیلاشیوں نے اپنی زندگی کے لیے دوبارہ اونچائی پر مسکن بنائے، کئی لوگ ناقابلِ تلافی نقصان کوپورا کرنے شہروں کو سدھار گئے، اور شہری زندگی میں اپنی ثقافت سے دُور ہوتے گئے۔

2019ء میں ضلع چترال کے حصے کیلاش کی دُور افتادہ وادی بریر بھی موسمی یلغار کا شکار ہوئی۔ مینہ کی بوچھاڑ سے آنے والا سیلاب (Flash Flood) یہاں بھی کھیت کھلیان بہا لے گیا۔ مکانات کی تباہی آج بھی گزری قیامت کی داستان سناتی ہے۔ آنے والا مون سون سیزن اور گلیشیرز کا تیزی سے پگھلتا پانی پہاڑوں پر رہنے والوں کو مزید ڈراتا ہے۔

ان تباہیوں کے بعد سے چٹانوں کی ڈھلانوں پر تہہ درتہہ بنے لکڑی کے گھروں میں اب تہذیب بدلتی محسوس ہوتی ہے۔ تعمیرات اور مرمت نے لکڑی سے بنے گھروں کے ثقافتی ورثے کو سیمنٹ کی تہوں میں چھپانا شروع کردیا ہے۔ بیشتر مکانات میں لکڑی کی چھتوں کو بھی لوہے کی چادر چڑھا دی گئی ہے۔ ہاں، اس طرح مکانات کو مضبوطی تو مل رہی ہے لیکن کیلاشیوں کی ثقافت کے مظہر لکڑی کے مکانات بتدریج کم ہونے لگے ہیں۔

ان سب کے باوجود شاہ محراب کو اپنے پربت، جنگلات سے محروم نظر آتے ہیں۔ ان پہاڑوں پر کھیلتے بچپن میں دیکھی ہریالی اب کہیں نظر نہیں آتی۔ تمام کیلاشیوں کی طرح محراب اس کا ذمہ دار اپنے جیسے انسانوں کو ہی گردانتا ہے۔

ٹمبر مافیہ کی بے دردی نے گزشتہ 10 سالوں میں ان وادیوں کے 50 فیصد درختوں کا صفایا کردیا ہے۔ چونکہ چلغوزے اور اخروٹ سے ان کی تجارت جڑی ہے، اس لیے یہ درخت اب بھی وادیوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ لیکن سب سے قیمتی درخت دیار ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔

علاقے میں لکڑیوں کی ٹال—تصویر ڈان
علاقے میں لکڑیوں کی ٹال—تصویر ڈان

ان پہاڑوں پر شاہ بلوط کے جنگلات زیادہ نظر آتے ہیں، جس کی لکڑی جلانے اور پتّے بکریوں کو کھلانے کے کام آتے ہیں۔ چیڑ کے درخت بھی گھروں کو گرم رکھنے اور چولہوں کی آگ کو بھڑکائے رکھنے کے لیے خوب کاٹے اور جلائے جاتے ہیں۔

پہاڑ بنجر ہونا شروع ہوئے تو وادی بمبورت، رامبور اور بریر میں مویشیوں کی تعداد بھی گھٹنے لگی۔ شاہ محراب اور اس کے ہم وطن اس پریشانی میں گھرے ہیں کہ ان کے مویشی پہاڑوں کی گھاس کم کر رہے ہیں، ان کے چلنے سے مٹی بھی خراب ہو رہی ہے جو سیلابی ریلے کو بڑھا دیتی ہے۔

اجڑتے پہاڑ واضح نظر آسکتے ہیں—فوٹو لکھاری
اجڑتے پہاڑ واضح نظر آسکتے ہیں—فوٹو لکھاری

دوسری جانب جس برادری کا ہر تہوار، موت، پیدائش اور شادی کی تمام رسومات بکریوں کی قربانی سے جڑی ہوں، ساتھ ہی ساتھ ان کا ذریعہ معاش بھی یہ مویشی ہوں، وہاں یہ اندازہ لگانا بالکل بھی مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ بھیڑ بکریوں میں تیزی سے کمی، ان کی زندگیوں اور تہذیب پر کتنے بھیانک اثرات مرتب کررہی ہوگی۔

محراب کی آنکھیں ہر سال حکومت کی جانب سے نئے درختوں کی شجر کاری ہوتے تو دیکھتی ہیں لیکن پہاڑوں کے راز جاننے والا یہ بھی جانتا ہے کہ برسوں پرانے درختوں کی جگہ بھلا سست رفتار افزائش کرنے والے ننھے شجر کب لے سکتے ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ کیلاشی نہ مون سون بارشوں سے آنے والے سیلاب کو روک پائے اور نہ اپنی وادیوں اور نہ ہی یہاں کے باسیوں کو تباہی سے بچا پائے۔

پہاڑوں کے سائے تلے یہ تہذیب ریزہ ریزہ ہونے کو ہے، کائنات اور قدرتی مظاہر کی پرستش کرنے والے یہ گلنار چہرے بجھنے کو ہیں۔ اس روشنی کو بچانے کا حل کیلاش کے سماجی کارکن شاہ محراب نے یہ بتایا کہ فضائی اور زمینی آلودگی کو کم کرنے کے لیے سیاحوں کی مخصوص تعداد کو ہی وادیوں کی سیر کی اجازت دی جائے۔ اگر حکومت شجر کاری کے ساتھ ساتھ گیس لائنوں اور بڑے پاوور پلانٹس لگائے تو کیلاشی مہنگی گیس خریدنے سے بچ سکتے ہیں، نیز اسی طرح درختوں کی کٹائی بھی روکی جاسکتی ہے۔

ماحولیاتی خطرات اپنی بقا کی جنگ لڑتی کلاشی تہذیب کے لیے بھیانک خواب بن کر ابھر رہے ہیں۔ یہاں کے مکین اندیشوں میں زندگی کی گاڑی کو گھسیٹ رہے ہیں کہ ناجانے کب، سب کچھ ان کے ہاتھوں سے پھسل کر دریا برد ہوجائے۔