گوگل کا اے آئی ٹول بریسٹ کینسر کی تشخیص کے لیے موثر قرار

02 جنوری 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

بریسٹ کینسر دنیا بھر میں خواتین میں عام سرطان کی سب سے عام قسم ہے مگر بدقسمتی سے اس وقت میموگرام کے ذریعے اس کی تشخیص کا عمل کئی بار درست نہیں ہوتا۔

مگر اب گوگل نے اس مرض کی درست تشخیص کا مسئلہ دور کرنے والا حل پیش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

گوگل کے ہیلتھ ڈویژن نے گزشتہ چند سال اس حوالے سے تحقیق کی ہے اور آرٹی فیشل انٹیلی جنس (مصنوعی ذہانت) کے ذریعے درست تشخیص کا عمل ڈیپ مائنڈ، کینسر ریسرچ یوکے امپرئیل سینٹر، نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی اور رائل سرے کاﺅنٹی ہاسپٹل کی مدد سے متعارف کرایا ہے۔

جریدے جرنل نیچر میں شائع مقالے میں اس حوالے سے بریسٹ کینسر کی تشخیص کے لیے اے آئی ماڈل کے کامیاب نتائج کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

اس اے آئی ماڈل کے ذریعے محققین نے برطانیہ اور امریکا سے تعلق رکھنے والی 28 ہزار سے زائد خواتین کے میموگرام اسکین کا تجزیہ کیا اور کینسر کی تشخیص کی جو ریڈیولوجسٹ پکڑنے میں ناکام رہے تھے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس طریقہ کار سے وہ صحت مند خواتین میں بریسٹ کینسر کی غلط تشخیص کے کیس کی تعداد کرنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔

گوگل ہیلتھ سے تعلق رکھنے والے ڈومینک کنگ نے ایک بیان میں کہا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ٹیم نے بریسٹ کینسر کی درست تشخیص کے حوالے سے اچھا ٹول تیار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مزید ٹیسٹ، طبی تصدیق اور ریگولیٹری اجازت درکار ہوگی جس کے بعد اس کا باضابطہ استعمال کیا جاسکے گا، مگر ہم اس مقصد کے لیے حصول کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

اگر اس حوالے سے تحقیق میں کامیابی کا سلسلہ جاری رہا تو دنیا بھر میں خواتین کو اس سے فائدہ ہوکے گا۔

میموگرافی اس کینسر کی تشخیص کے لیے سب سے عام استعمال والا طریقہ ہے مگر ریڈیولوجسٹ ہر 5 میں سے ایک بریسٹ کینسر کو پکڑ نہیں پاتے جبکہ امریکا میں گزشتہ 10 سال میں اسکریننگ کے عمل سے گزرنے والی 50 فیصد خواتین میں کینسر کی غلط تشخیص ہوئی۔

ابتدائی مراحل میں گوگل کا اے آئی ٹول کینسر کے ان کیسز کو پکڑنے میں کامیاب رہا جو طبی ماہرین نے نظرانداز کردیئے ہوں، مگر ایسے کیسز بھی سامنے آئے جو یہ ٹول پکڑ نہیں سکا اور ریڈیولوجسٹ نے ان کی تشخیص کی۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس اے آئی ٹول کو مزید بہتر بنایا جائے گا تاکہ کینسر کیس کو پکڑنے کی شرح سوفیصد ہوسکے جبکہ غلط تشخیص کے عمل کی روک تھام بھی کی جاسکے۔

اس کی کامیابی سے ریڈیو لوجسٹ سے ڈبل اسکریننگ کی ضرورت نہیں رہے گی جبکہ رئیل ٹائم ہی کینسر کو پکڑنا ممکن ہوجائے گا۔

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے ڈاکٹر معیز الراعتمادی نے اپنے بیان میں کہا کہ ابتدائی نتائج حوصلہ بخش رہے ہیں، مگر اس حوالے سے مزید ٹرائلز کی جرورت ہے تاکہ اس کی افادیت کو طبی مشق کا حصہ بنایا جاسکے۔