آرمی ایکٹ کیلئے پالیسی کے خلاف ووٹ دینے پر سینیٹر کو پارٹی سے نکال دیا گیا

اپ ڈیٹ 09 جنوری 2020

ای میل

ڈاکٹر عبدالمالک کے مطابق اشوک کمار نے پارٹی کی سیاسی سوچ اور فلسفے کی نفی کی—تصویر:فیس بک
ڈاکٹر عبدالمالک کے مطابق اشوک کمار نے پارٹی کی سیاسی سوچ اور فلسفے کی نفی کی—تصویر:فیس بک

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے سینیٹ میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت کرنے پر سینیٹر اشوک کمار کو پارٹی سے نکال دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس کے ساتھ نیشنل پارٹی نے ان کی بنیادی رکنیت بھی معطل کردی گئی۔

ایک بیان جاری کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کے خلاف ووٹ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ڈاکٹر اشوک کمار نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سینیٹ میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت میں ووٹ دیا‘۔

یہ بھی پڑھیں: سروسز چیفس بلز کی تحریر نے تنازع کھڑا کردیا

ان کا مزید کہنا تھا کہ اشوک کمار نے پارٹی کی سیاسی سوچ اور فلسفے کی نفی کی۔

نیشنل پارٹی نے اعلان کیا کہ وہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ریفرنس ارسال کرکے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر ڈاکٹر اشوک کمار کا بحیثیت سینیٹر انتخاب ڈی نوٹیفائی کرنے کی درخواست کرے گی۔

خیال رہے کہ 7 جنوری کو قومی اسمبلی میں پاکستان آرمی، نیوی اور ایئرفورس ایکٹ ترامیمی بلز 2020 کی منظوری کے بعد انہیں سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا، جس کے بعد وہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع میں موجود تھے، جہاں اس کی منظوری دی گئی تھی۔

بعد ازاں گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں سینیٹر ولید اقبال نے قائمہ کمیٹی برائے دفاع کی تینوں ترامیمی بلز سے متعلق رپورٹ پیش کیں۔

مزید پڑھیں: سینیٹ میں بھی آرمی، نیوی، ایئرفورس ایکٹس ترامیمی بلز کثرت رائے سے منظور

علاوہ ازیں وزیر دفاع پرویز خٹک نے پاکستان آرمی، ایئرفورس اور نیوی ایکٹس ترامیمی بلز کو پیش کیا، جہاں اس پر شق وار منظوری لی گئی اور ایوان میں موجود اراکین نے کثرت رائے سے اس کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

ایوان میں ان ترامیمی بلز کو پیش کرنے کے وقت نیشنل پارٹی کے 4 سینیٹرز نے مخالفت کی جبکہ ایک سینیٹر ڈاکٹر اشوک کمار نے بل کی حمایت کی تھی۔

اس کے علاوہ جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) نے احتجاج کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کرگئے تھے۔

آرمی ایکٹ میں ترامیم کیا ہیں؟

پاکستان آرمی (ترمیمی) ایکٹ 2020 کے عنوان سے کی جانے والی قانون سازی کے نتیجے میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور چیئرمین آف جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کی ریٹائرمنٹ کی زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 64 برس ہوجائے گی۔

اس کے ساتھ مستقبل میں 60 برس کی عمر تک کی ملازمت کے بعد ان کے عہدے کی مدت میں توسیع کا استحقاق وزیراعظم کو حاصل ہوگا جس کی حتمی منظوری صدر مملکت دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی مشروط توسیع

پیش کردہ بل کے مطابق آرمی ایکٹ میں دفعہ 8 اے، بی، سی، ڈی، ای، ایف شامل کیے جائیں گے جبکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت اور عمر کے حوالے سے دفعہ 8 سی کہتی ہے کہ: اس ایکٹ کے قواعد و ضوابط کے مطابق کسی جنرل کی مقررہ ریٹائرمنٹ کی عمر اور مدت ملازمت کی کم از کم عمر کا اطلاق چیف آف آرمی اسٹاف کی تعیناتی کی مدت، دوبارہ تعیناتی اور توسیع کے دوران نہیں ہوگا اور اس کی زیادہ سے زیادہ عمر 64 سال ہوگی۔

اس عرصے کے دوران چیف آف آرمی اسٹاف، پاک فوج میں جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہیں گے۔

دفعہ 8 اے (بی) کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف کے لیے شرائط و ضوابط کا تعین صدر مملکت وزیراعظم کے مشورے پر کریں گے۔

اس حوالے عہدیدار کا کہنا تھا کہ آرمی ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو کسی قانونی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔

دفعہ 8 بی (ٹو) کے مطابق اس ایکٹ یا کسی اور قانون میں موجود مواد، کسی حکم یا کسی عدالت کے فیصلے، تعیناتی، دوبارہ تعیناتی، چیئرمین کی توسیع، جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی، یا اس سلسلے میں کسی کو تعینات کرنے کی صوابدیدی کو کسی عدالت میں کسی بھی بنیاد پر چیلنج نہیں کیا جاسکتا‘۔