ایف بی آر اور تاجروں کے درمیان مذاکرات بحال

اپ ڈیٹ 10 جنوری 2020

ای میل

صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تاجروں کے لیے ریلیف پیکج کے اعلان کے بعد یہ پہلی مرتبہ دونوں اطراف کی ملاقات عمل میں آئی ہے۔ — اے پی پی:فائل فوٹو
صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تاجروں کے لیے ریلیف پیکج کے اعلان کے بعد یہ پہلی مرتبہ دونوں اطراف کی ملاقات عمل میں آئی ہے۔ — اے پی پی:فائل فوٹو

اسلام آباد: وفاقی بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کے اعلیٰ ٹیکس حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے یکم فروری سے اشیا کی خرید و فروخت کے معاملے پر قومی شناختی کارڈ کی شرط کے نفاذ پر کیے گئے معاہدے پر نظر ثانی کے لیے تاجروں کے نمائندوں سے ملاقات کی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تاجروں کے لیے ریلیف پیکج کے اعلان کے بعد یہ پہلی مرتبہ دونوں فریقین کی ملاقات عمل میں آئی ہے۔

ایف بی آر کی نگراں چیئرپرسن نوشین امجد، رکن آئی آر پالیسی حامد عتیق سروس اور ڈی جی ریٹیل حمید میمن نے ایف بی آر کی ٹیم کی قیادت کی۔

مزید پڑھیں: ریونیو کے بھاری نقصان کی وجہ درآمدات میں کمی، ایف بی آر

تاجروں کے نمائندوں میں کاشف چودری، نعیم میر اور اجمل بلوچ شامل تھے۔

سینیئر ایف بی آر حکام نے ڈان کو بتایا کہ ملاقات کے دوران تاجروں نے کو ان کے وعدے کے بارے میں یاد دلایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے تاجروں کو بتایا ہے کہ ایف بی آر نے معاہدے کے تحت اپنا وعدہ پورا کیا ہے اور اب تاجروں کا اپنا وعدہ پورا کرنے کا وقت آگیا ہے'۔

کاشف چوہدری نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر میں نئی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'کمیٹیاں 3 جگہوں پر کام کریں گی جن میں سے ایک ایف بی آر کو نئے انکم ٹیکس فائلرز کی تلاش کرنے میں مدد، ظاہر کردہ ٹرن اوور کے حوالے سے تنازع کو سامنے لانا، ایک ہزار مربع فیٹ سے بڑے کاروبار کی نشاندہی کرنا کہ گویا وہ سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن کے اہل ہیں یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام کمیٹی اراکین کے نام ایف بی آر کو دے دیے گئے ہیں اور جلد ٹیکس ادارہ ان کو نوٹیفائی کردے گا۔

ٹیکس سال 2020 کے لیے 10 کروڑ کے ٹرن اوور والے تاجروں کے لیے رعایت کے تحت کم از کم ٹیکس کا ریٹ 1.5 فیصد سے کم کرکے 0.5 فیصد کردیا گیا ہے۔

ایسے تاجر جنہوں نے ٹیکس سال 2018 کے ریٹرز فائل کیے ہیں، کو برابر ٹیکس یا 2019 یا 2020 میں ادا کیے گئے ٹیکس سے زیادہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

تاہم کاشف چوہدری کا کہنا تھا کہ تاجر جن کا ٹرن اوور 10 کروڑ سے زائد ہے تاہم اس کا منافع کم ہے، ایسے تاجروں کے کیسز کو علیحدہ دیکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر اور ٹیکس اکٹھا کرنے کے نظام کی تنظیم نو کا فیصلہ

ان کا کہنا تھا کہ ٹرن اوور کو زیادہ رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ ہول سیلرز پر لاگو ہوگا اور اس سطح پر زیادہ تر ٹرانزیکشنز واضح ہوتی ہیں اور منافع کو چھپانا مشکل ہوتا ہے۔

لوہے اور اسٹیل، کھانے پینے کی اشیا بشمول چینی ، دال ، گھی وغیرہ اسی زمرے میں آتا ہے، اسی طرح سیمنٹ ، ٹائرز، موبائل ہینڈسیٹ، آٹوموبائلز، سوت، کاغذ کے علاوہ دیگر اشیا بھی اس نقطے پر زیر غور آنے کی توقع کی جارہی ہے۔

تاجروں کے نمائندگان اور ایف بی آر کے سینیئر حکام کے درمیان مشترکہ اجلاس 22 جنوری کو اسلام آباد میں ایف بی آر ہاؤس میں منعقد کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اس اجلاس میں شرکت کریں گے اور توقع کی جارہی ہے کہ اجلاس میں ملک بھر سے 100 کے قریب تاجر بھی موجود ہوں گے۔

واضح رہے کہ ایف بی آر حکام اور تاجر کے نمائندگان کے درمیان ملاقات کے حوالے سے پہلے ہی فیصلہ کیا گیا تھا کہ 24 جنوری کو اسلام آباد کے دفتر، 27 جنوری کو کراچی، 29 جنوری کو ملتان، 30 جنوری کو فیصل آباد اور 31 جنوری کو لاہور میں اجلاس منعقد کیا جائے گا۔

پوائنٹ آف سیلز (پی او ایس) سسٹم کے پروگریس پر سینیئر حکام کا کہنا تھا کہ اب تک 4 ہزار 944 بڑے ریٹیلرز رجسٹر ہوچکے ہیں۔ 15 جنوری کو بڑے ریٹیلرز کی پی او ایس کے حوالے سے خدشات پر ملاقات طے ہے۔

بڑے تاجروں کے آؤٹ لیٹس پر پی او ایس لگانے کا عمل حکومت کی بڑے ریٹیلرز کی فروخت کو دستاویزات پر لانے کی مہم کے تحت آغاز پہلے ہی کیا جاچکا ہے۔

اس کے تحت 20 ہزار کے قریب ایسے ریٹیلرز کو جون 2020 تک نظام میں لانا ہے۔