طیارہ حادثے کے خلاف ایرانی عوام سراپا احتجاج، خامنہ ای کے استعفے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 12 جنوری 2020

ای میل

ایران میں مظاہرین حادثے کے ذمے داران کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی
ایران میں مظاہرین حادثے کے ذمے داران کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی

ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے یوکرین کا مسافر طیارہ گرائے جانے کے اعتراف کے بعد ہونے والے احتجاج کے پیش نظر دارالحکومت تہران میں بڑے پیمانے پر پولیس تعینات کردی گئی ہے۔

اتوار کو بڑے پیمانے پر احتجاج کے اعلان کے بعد تہران کے ولی عصر اسکوائر میں پولیس اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار بڑی تعداد میں موجود ہیں تاکہ کسی بھی غیرمتوقع صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

مزید پڑھیں: ایران میں مسافر طیارہ گر کر تباہ، 176 افراد ہلاک

8 جنوری کو ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں عراق میں امریکا اور اس کی اتحادی افواج کے 2 فوجی اڈوں پر متعدد بیلسٹک میزائل داغے تھے اور 80 امریکی ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

اس واقعے کے کچھ گھنٹے بعد اسی دن تہران کے امام خمینی ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے والا یوکرین کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یوکرینی وزیراعظم نے طیارے میں 176 افراد سوار ہونے کی تصدیق کی تھی جس میں 167 مسافر اور عملے کے 9 اراکین شامل تھے۔

یوکرینی وزیر خارجہ نے بتایا تھا کہ طیارے میں 82 ایرانی، 63 کینیڈین، سویڈش، 4 افغان، 3 جرمن اور 3 برطانوی شہری جبکہ عملے کے 9 ارکان اور 2 مسافروں سمیت 11 یوکرینی شہری سوار تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے یوکرین کا مسافر طیارہ مار گرانے کا اعتراف کرلیا

ایران کی جانب سے ابتدائی طور پر طیارہ گرانے کے الزامات کی تردید کی گئی تھی لیکن عالمی برادری کے دباؤ اور ناقابل تردید ثبوت سامنے آنے کے بعد ایران نے اپنی غلطی تسلیم کر لی تھی۔

اس مقام کی سیٹلائٹ تصویر جہاں یوکرین کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوا— فوٹو: اے ایف پی
اس مقام کی سیٹلائٹ تصویر جہاں یوکرین کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوا— فوٹو: اے ایف پی

طیارہ گرانے اور پھر اس کے بعد اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے مستقل وضاحتیں پیش کرنے پر ایرانی عوام نے حکام پر شدید غم و غصے کا مظاہرہ کرتے ہوئے حادثے کے ذمے داران کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

ہفتے کو رات گئے بدقسمت مسافروں کے لیے منعقدہ شمع روشن کرنے کی تقریب باقاعدہ مظاہرے کی شکل اختیار کر گئی جہاں سیکڑوں افراد نے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت ایران کی اعلیٰ قیادت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

اس مظاہرے میں شرکت کرنے والے ایران میں برطانوی سفیر روب میکیئر کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا جس پر برطانیہ نے اسے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

روب میکیئر نے کہا تھا کہ وہ محض شمع روشن کرنے کی تقریب دیکھنے کے لیے گئے تھے تاکہ حادثے میں مرنے والے برطانوی باشندوں کو خراج عیقدت پیش کر سکیں اور انہیں علم نہیں تھا کہ یہ تقریب ایک احتجاج کی شکل اختیار کر جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ مجھے مظاہرے کے مقام سے نکلنے کے آدھے گھنٹے بعد گرفتار کیا گیا تاہم چند گھنٹے بعد برطانوی سفیر کو رہا کردیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ایرانی عوام کے ساتھ ہیں، دوبارہ پرامن مظاہرین کا قتل نہیں ہونا چاہیے، ٹرمپ

برطانوی وزیر خارجہ ڈومینیک ریب نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی حکومت کے سامنے دو راستے ہیں، ایران سیاسی اور معاشی پابندیوں کے ساتھ اپنی الگ تھلگ حیثیت برقرار رکھ سکتا ہے یا سفارتی راستہ اپنا کر کشیدگی کو کم کر سکتا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ سفیر کی گرفتاری کے حوالے سے پولیس رپورٹ کے منتظر ہیں اور اس کے بعد ہی اپنا موقف پیش کریں گے۔

تاہم ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیم سرکاری تنظیم سے گفتگو میں گرفتاری کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی سفیر کو ان مظاہروں کے انعقاد اور اس میں شرکت کے لیے لوگوں کو اکسانے کے شک میں گرفتار کیا گیا تھا جو عالمی سفارتی ضابطوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

ان کا کہنا تھا ڈومینیک ریب کو بعدازاں وزارت خارجہ لے جا کر رہا کردیا گیا۔

ایران کی نیشنل سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی پر پارلیمانی کمیٹی کے رکن علاالدین بروجردی نے سفیر پر مظاہروں کے انعقاد کا الزام لگاتے ہوئے انہیں ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی رہنماؤں کا ایران پر یوکرین کا طیارہ مار گرانے کا الزام

ادھر طیارہ مار گرانے کا الزام ثابت ہونے کے بعد ایران کو عوام کے ساتھ میڈیا کی جانب سے بھی شدید تنقید کا سامنا ہے۔

ایران کے اخبارات وطن امروز، ہمشاہری اور 'دی ایران ڈیلی' نے اس واقعے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے صفحہ اول بڑی بڑی سرخیاں لگا کر اس عمل کو ناقابل معافی اور شرمناک قرار دیا۔

ایرانی اخبارات نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے طرز عمل کو شرمناک قرار دیا— فوٹو: اے ایف پی
ایرانی اخبارات نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے طرز عمل کو شرمناک قرار دیا— فوٹو: اے ایف پی

ایران کے روزنامہ 'اعتماد' نے اتوار کو اپنے اخبار میں 'معافی مانگیں اور استعفیٰ دیں' کی سرخی لگاتے ہوئے کہا کہ عوام، طیارہ حادثے کے ذمے داران کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اپوزیشن رہنما مہدی کروبی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کو براہ راست ذمے دار ٹھہرانے ان پر کڑی تنقید کی جس پر انہیں گھر میں نظربند کردیا گیا ہے۔

انہوں نے آیت اللہ خامنائی کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے آپ براہ راست اس حملے کے ذمے دار ہیں، براہ مہربانی ہمیں بتائیں کہ کیا آپ کو بدھ کی صبح اس تباہ کن حادثے کا علم تھا؟ یا جیسے کہ میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ آپ کو جمعہ کو اس بارے میں پتہ چلا؟۔

مزید پڑھیں: دوران پرواز آگ لگنے کے بعد یوکرینی طیارے نے واپس آنے کی کوشش کی، ایران

مہدی کربی نے کہا کہ اگر آپ جانتے تھے اور آپ نے فوج اور سیکیورٹی حکام کو عوام کو گمراہ کرنے کی اجازت دی تو پھر اس بات میں کسی شک و شبے کی گنجائش نہیں کہ آپ میں آئینی قیادت کی اہلیت کی کمی ہے۔

ایران میں سپریم لیڈر پر تنقید کی دوسال تک قید ہے۔

احتجاج اور خامنہ ای کے استعفے کا مطالبہ

ایران کی جانب سے طیارہ حادثے کی ذمے داری قبول کرنے کے بعد ہفتے کو کم از کم دو جامعات کے باہر مظاہرے کیے گئے جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کر کے مظاہرین کو منتشر کیا۔

دارالحکومت تہران کی امیر کبیر یونیورسٹی کے باہر طلبا متاثرین سے خراج عقیدت کے لیے شمعیں روشن کرنے کی تقریب کے لیے اکٹھا ہوئے لیکن پھر یہ احتجاج شکل اختیار کر گیا جس میں حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔

مظاہرین نے حادثے کے ذمے داروں کو سزا دینے کے ساتھ ساتھ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے بھی استعفیٰ کا مطالبہ کیا جبکہ کچھ نے ایران کے سپریم لیڈر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے 'آمر کو سزائے موت دو' کے نعرے بھی لگائے۔

ایران میں ہونے والے مظاہرے میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی— فوٹو: اے ایف پی
ایران میں ہونے والے مظاہرے میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی— فوٹو: اے ایف پی

سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق مظاہرین نے حکومت مخالف نعرے بازی کرنے کے ساتھ ساتھ سلیمانی کے پوسٹرز بھی پھاڑ دیے۔

اتوار کو مظاہرین ایک مرتبہ پھر احتجاج کے لیے اکٹھا ہو گئے ہیں اور حکومت مخالف نعرے بازی کر رہے ہیں جہاں کسی بھی غیرمتوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری بھی موقع پر موجود ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام کو بہادر قرار دیتے ہوئے ایران کی قیادت کو خبردار کیا ہے کہ وہ مزید قتل عام سے گریز کریں۔

انہوں نے انگریزی فارسی میں دو ٹوئٹ کیں جس میں ایرانی عوام سے تکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں اور مظاہروں کا جائزہ لے رہا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کی یوکرین اور بوئنگ کو طیارے کی تحقیقات میں شرکت کی دعوت

انہوں نے ٹوئٹ کی کہ بہادر اور ایک عرصے سے مصائب کا سامنے کرنے والے ایرانی عوام: اپنے دور صدارت کے آغاز کے وقت سے ہی میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں اور میری انتظامیہ آپ لوگوں کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

انہوں نے گزشتہ برس نومبر میں ایران حکام کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کی جانے والی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پرامن مظاہرین کا دوبارہ قتل عام نہیں ہونا چاہیے نہ ہی انٹرنیٹ سروس بند کی جانی چاہیے۔