کراچی: انجینئر نے ڈاکٹر بیوی کو قتل کرکے خودکشی کرلی

اپ ڈیٹ 13 جنوری 2020

ای میل

کنزا سسرال والوں سے اختلافات کے باعث میکے آگئی تھیں، پولیس — فائل فوٹو / اے ایف پی
کنزا سسرال والوں سے اختلافات کے باعث میکے آگئی تھیں، پولیس — فائل فوٹو / اے ایف پی

کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں سول انجینئر نے گھریلو تنازع پر ڈاکٹر بیوی کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے بعد گولی مار کر اپنی زندگی کا بھی خاتمہ کر لیا۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) شرقی تنویر عالم نے کہا کہ 35 سالہ ہادی مبارک نے گلستان جوہر کے بلاک 14 میں اپنی 26 سالہ اہلیہ کنزا احمد کو ان کے ہی گھر جاکر قتل کیا اور بعد خودکشی کرلی۔

سینئر پولیس افسر نے کہا کہ اپنے سسرال والوں سے اختلافات کے باعث متاثرہ خاتون اپنے والدین کے گھر آگئی تھیں جہاں ہادی مبارک ان سے تصفیے کے لیے آیا تھا۔

تاہم جب کنزا نے واپس گھر آنے سے انکار کردیا تو ہادی نے پہلے انہیں اور پھر خود کو گولی مار لی۔

دونوں کو تشویشناک حالت میں نجی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: بیروزگاری، غربت سے تنگ آکر چار بچوں کے باپ کی خودکشی

شاہراہ فیصل پولیس کا کہنا تھا کہ ہادی پیشے سے سول انجینئر تھے جبکہ ان کی اہلیہ ڈاکٹر تھیں۔

جوڑا شاہ فیصل کالونی کے گرین ٹاؤن میں رہائش پذیر تھا اور ان کی دو بیٹیاں ہیں۔

کنزا احمد اتوار کی رات اپنے ولدین کے گھر آگئی تھیں۔

علاقے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) سرور کمانڈو نے کہا کہ ہادی کے والدین نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے بیٹے سے غلطی ہوئی۔

یاد رہے کہ تین روز قبل کراچی میں درمیانی عمر کے شخص نے مبینہ طور پر شدید مالی مشکلات کے باعث اپنے اہلخانہ کی ضروریات پوری نہ کر پانے پر خودکشی کرلی تھی۔

پولیس کے مطابق متوفی کی عمر لگ بھگ 40 سال تھی اور وہ علاقہ ابراہیم حیدری کا رہائشی تھا جبکہ اس کے چار بچے تھے۔

مزید پڑھیں: خودکشی، پاکستان میں نظر انداز کیا گیا مسئلہ

متوفی کے بیٹے نے ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے والد سے چند روز قبل اسکول میں پہن کر جانے کے لیے گرم کپڑے خرید کر دینے کا کہا تھا۔

متوفی کی جیب سے وزیر اعظم عمران خان کے پتے پر لکھا گیا ایک خط میں ملا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ وہ بہت غریب ہیں لہٰذا انہیں روزگار اور گھر فراہم کیا جائے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں روزانہ 15 سے 35 افراد اپنی جان لے لیتے ہیں، یعنی خودکشی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

یہ تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ہر گھنٹے میں ایک شخص خودکشی کر رہا ہے۔