جرمنی کے وزیر مملکت کی علاقائی سلامتی کیلئے پاکستان کے کردار کی تعریف

اپ ڈیٹ 13 جنوری 2020

ای میل

جرمن دفتر خارجہ کے وزیر مملکت نیلس انین نے جنرل قمر جاوید باجوہ سے جی ایچ کیو راولپنڈی میں ملاقات کی — فوٹو: بشکریہ ریڈیو پاکستان
جرمن دفتر خارجہ کے وزیر مملکت نیلس انین نے جنرل قمر جاوید باجوہ سے جی ایچ کیو راولپنڈی میں ملاقات کی — فوٹو: بشکریہ ریڈیو پاکستان

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کے دوران جرمنی کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور نے علاقائی سلامتی کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے جرمن دفتر خارجہ کے وزیر مملکت نیلس انین نے جی ایچ کیو راولپنڈی میں اہم ملاقات کی۔

ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے امور زیر غور آئے۔

جرمنی نے وزیر مملکت کے معزز مہمان نے علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔

واضح رہے کہ جرمنی کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور کی آرمی چیف سے ملاقات ایسے موقع پر ہوئی ہے جب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے، وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر خطے میں کشیدگی میں کمی کی کوششوں کے طور پر ایران اور سعودی عرب کے دورے کیے۔

یہ بھی پڑھیں: امیر قطر کا دورہ ایران: 'تناؤ میں کمی اور مذاکرات ضروری ہیں'

وزیر اعظم نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی ہدایت کی تھی کہ وہ سعودی عرب، ایران اور امریکا کے فوجی رہنماؤں سے ملاقات کریں اور واضح پیغام دیں گے کہ 'پاکستان امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن اسلام آباد کسی جنگ کا حصہ نہیں بن سکتا۔'

خیال رہے کہ 3 جنوری کو بغداد میں امریکا کے حملے میں ایران کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن اور ایران کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔

ایران نے بغداد کے ایئرپورٹ پر امریکی حملے میں قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر واشنگٹن سے بدلہ لینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے اسے خطرناک نتائج کی دھمکی دی تھی۔

ایران کے سپریم کمانڈر آیت اللہ خامنہ ای نے امریکا کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے قاسم سلیمانی کو مزاحمت کا عالمی چہرہ قرار دیا اور ملک میں تین روزہ یوم سوگ کا اعلان کیا تھا۔

8 جنوری کو امریکا سے بدلہ لیتے ہوئے عراق میں امریکی و اتحادی فورسز کے زیر اثر 2 فوجی اڈوں پر درجن سے زائد بیلسٹک میزائل داغے تھے۔

ایران نے اس حملے میں 80 امریکیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا جبکہ امریکا نے اس دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمام امریکی محفوظ ہیں۔

مزید پڑھیں: ایران کا جوابی حملہ امریکا کے منہ پر تھپڑ ہے، خامنہ ای

ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 میں کیے گئے جوہری معاہدے سے مکمل طور پر دستبرداری کا اعلان بھی کیا تھا۔

چند روز قبل قوم سے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حکومت پر فوری طور پر اضافی اقتصادی پابندیاں لگانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ پابندیاں اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک ایران اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا۔

12 جنوری کو امریکا نے خطے کو غیر مستحکم کرنے کے الزام میں ایران کے 8 اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔