سینیٹ میں گاڑیوں کی صنعت شدید تنقید کی زد میں

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2020

ای میل

غیر محفوظ گاڑیاں بنانے والے مینوفیکچررز کو سزا دینے کے اصول وضع کیے جارہے ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
غیر محفوظ گاڑیاں بنانے والے مینوفیکچررز کو سزا دینے کے اصول وضع کیے جارہے ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: مینوفیکچرنگ کے نام پر گاڑیوں کی اسمبلنگ، بغیر کسی چیک کے قیمتوں میں اضافے اور سیفٹی اسٹینڈرڈ نہ ہونے کے باعث ڈرائیو کرنے والوں کے لیے خطرہ بننے کی وجہ سے کار کی مقامی صنعت پر سینیٹ میں شدید تنقید کی گئی۔

اجلاس میں سینیٹر اعظم سواتی نے بتایا کہ غیر محفوظ گاڑیاں بنانے والے مینوفیکچررز کو سزا دینے کے اصول وضع کیے جارہے ہیں جس کا مسودہ وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جاچکا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ اگر کسی کار میں ایئر بیگ نہ کھلے یا دیگر سیفٹی اسٹینڈرڈز موجود نہ ہوئے تو حادثے میں انسانی جان ضائع ہونے کی صورت میں کمپنیاں ذمہ دار ہوں گی اور انہیں لاکھوں روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: پاک سوزوکی نے گاڑیوں کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ کردیا

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ حکومت کی پیش کردہ نئی پالیسی کے تحت کار بنانے والے 18 نئے پلانٹس لگائے جائیں گے جس میں سے 5 تیاری کے مراحل میں ہیں اور اس مسابقت میں چین اور کوریا کی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ حکومت قیمت مقرر نہیں کرسکتی کیونکہ طلب و رسد کا فرق مارکیٹ میں قیمت کا تعین کرتا ہے لہٰذا اگر پیداوار طلب سے زائد ہوگی تو قیمتیں کم ہوجائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ کمپنیوں کو مشینیں درآمد کرنے کے لیے زیرو ٹیکس کی سہولت دی جارہی ہے لیکن وہ مینو فیکچرنگ کے نام پر کار اسمبل کررہے ہیں۔

قبل ازیں سینیٹر عتیق احمد شیخ نے کہا تھا کہ پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت آٹو انڈسٹری کو بند کیا گیا اور ملک میں ایک کارٹیل بنا کر خراب کوالٹی کی گاڑیاں اسمبل کی جارہی ہیں۔

مزید پڑھیں: پاک سوزوکی کا 4 روز کیلئے پیداوار بند کرنے کا فیصلہ

ان کا مزید کہنا تھا کہ کمپنیاں بغیر کسی چیک کے قیمتوں میں اضافہ کرتی ہیں اور اس کارٹیل کی وجہ سے اس شعبے میں سرمایہ کاری بھی نہیں آرہی۔

الیکشن کمیشن تعیناتی پر ڈیڈ لاکس

علاوہ ازیں سینیٹ اجلاس میں الیکشن کمیشن اراکین کی تقرری کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔

واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور اراکین کی تعیناتی پر ڈیڈ لاک برقرا رہنے کی وجہ سے انتخابی ادارہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے غیر فعال ہے، لہٰذا اس قسم کی تعطل سے نکلنے کی راہ تجویز کرنے کا بل سینیٹ میں پیش کیا گیا۔

یہ بل لیفٹننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے پیش کیا جس میں آئین کی دفعہ 213 (2 اے) میں شرط شامل کرنے کی تجویز دی گئی تھی جس کے مطابق اگر پارلیمانی کمیٹی اراکین الیکشن کمیشن کی تعیناتی کے لیے ناموں پر اتفاق کرنے میں ناکام ہوجائے تو یہ معاملہ سپریم کورٹ بھیج دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: آٹو انڈسٹری کی فروخت میں کمی، ملازمتوں کو خطرہ

اس بل میں آئین کی دفعہ 215 میں ترمیم کی بھی تجویز دی گئی جس کے مطابق اس کی ذیلی شق میں یہ شرط شامل کی جائے کہ الیکشن کمیشن میں متوقع آسامیوں کو پُر کرنے کے عمل کی تکمیل کرلی جائے تا کہ غلطیوں سے بچا جاسکے۔

سینیٹر کا کہنا تھا کہ سندھ اور بلوچستان کے اراکین کی گزشتہ برس ریٹائرمنٹ اور چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے سبکدوش ہوئے ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود تعیناتی نہ ہوسکی جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن غیر فعال ہے اور اس بارے میں آئین بھی خاموش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمییشن کے اہم افعال مثلاً حد بندی، انتخابی فہرستوں کی تیاری اور ان پر نظر ثانی انتخابات کا انعقاد اور انتظام اور ووٹرز کو آگاہی دینا تعطل کے باعث متاثر ہوئے ہیں اور کسی رکن کی ریٹائرمنٹ سے قبل ہی اس کی جگہ تعیناتی یقینی بنانے اور اس سلسلے میں کسی غلطی سے بچنے کے لیے قانون میں ترمیم کی جانی ضروری ہے۔

مذکورہ بل کو غور کے لیے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو ارسال کردیا گیا تاہم وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے ای سی پی تعیناتیوں کا معاملہ سپریم کورٹ کو ارسال کرنے کی تجویز کی مخالفت کی۔

۔