فلوریڈا قتل واقعے کے بعد سعودی عرب نے 21 کیڈٹ واپس بلالیے

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2020

ای میل

فائرنگ کے واقعے کو امریکی اٹارنی جنرل ولیم بار نے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا۔ — فوٹو: اے پی
فائرنگ کے واقعے کو امریکی اٹارنی جنرل ولیم بار نے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا۔ — فوٹو: اے پی

سعودی افسر کی جانب سے امریکی ریاست فلوریڈا میں فائرنگ کے واقعے کے بعد سعودی عرب نے امریکا میں زیر تربیت اپنے 21 کیڈٹس کو واپس بلالیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق فائرنگ کے واقعے کو امریکی اٹارنی جنرل ولیم بار نے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا ہے۔

6 دسمبر کو ہونے والے واقعے سے امریکا ایران اور سعودی کے درمیان جاری کشیدہ صورتحال کے دوران ہی امریکا-سعودی تعلقات میں مزید کھنچاؤ پیدا ہوگیا ہے۔

فلوریڈا کے علاقے پینساکولا میں ہونے والے واقعے کے بعد ڈپٹی شیرف نے مسلح سعودی ایئرفورس کے سیکنڈ لیفٹننٹ محمد سعید الشامرانی کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

ولیم بار نے سعید الشامرانی کے واقعے سے قبل کی سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلات جاری کیں۔

مزید پڑھیں: امریکا کا زیر تربیت 12 سعودی اہلکار ملک بدر کرنے کا فیصلہ

ان کا کہنا تھا کہ 'تحقیقات میں انتہا پسند تنظیموں سے روابط اور چند افراد کے چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث ہونے یا سوشل میڈیا پر انتہا پسند یا امریکا مخالف میں مواد پائے جانے پر 21 سعودی کیڈٹس کی امریکی فوج میں تربیت روک دی گئی ہے اور وہ امریکا سے چلے جائیں گے'۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکا کی جانب سے انہیں نکالے جانے کے بجائے سعودی عرب نے خود اپنے کیڈٹس کو واپس بلایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی حکام نے انہیں بتایا ہے کہ وہ ان کے خلاف مقدمات درج کریں گے۔

جسٹس ڈپارٹمنٹ کے حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ امریکی حکام نے انہیں ہٹانے کے فیصلے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

ولیم بار نے نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ 'زیر تربیت سعودی افراد کے محمد الشامرانی کی مدد کرنے میں ملوث ہونے یا اس حملے کے بارے میں پیشگی اطلاع ہونے کے کوئی شواہد نہیں ہیں'۔

واضح رہے کہ پینساکولا نیول ایئر اسٹیشن میں حملے سے 3 امریکی سیلرز ہلاک اور دیگر 8 زخمی ہوگئے تھے۔

ولیم بار کا کہنا تھا کہ 'واقعہ دہشت گردی کا ہے، شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ حملہ آور انتہا پسند نظریات کا پیروکار تھا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ حملہ آور نے 11 ستمبر کو ایک پیغام چھوڑا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ سعید الشامرانی نے نیو یارک سٹی میں 11 ستمبر 2001 کو القائدہ کے سعودی ہائی جیکرز کی جانب سے کیے گئے حملے کے متاثرین کے لیے بنائے گئے یادگار کا دورہ بھی کیا تھا اور سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر حملے سے 2 گھنٹوں قبل امریکا مخالف، اسرائیل مخالف پیغامات بھی دیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ’امریکی بحری اڈے پر حملہ کرنے والا سعودی فضائیہ کا اہلکار تھا'

ان کا کہنا تھا کہ 'موبائل فون بنانے والی کمپنی ایپل اب تک ایف بی آئی کو سعید الشامرانے کے 2 موبائل فونز کھولنے میں مددگار ثابت نہیں ہوئی ہے اور ایف بی آئی خود سے فون کھولنے کی کوششیں کر رہی ہے'۔

ایپل نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تحقیقات میں معاونت نہ کرنے کا الزام مسترد کیا۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ 'ایپل ایف بی آئی کی جانب سے واقعے کے روز سے موصول ہونے والی متعدد درخواستوں پر فوری جواب دیا ہے اور تفتیش کاروں کو بڑی تعداد میں ڈیٹا فراہم کردیا ہے'۔

ولیم بار کا کہنا تھا کہ ایک سعودی شخص کے پاس 'بڑی تعداد میں' چائلڈ پورنوگرافی کی تصاویر پائی گئی ہیں جبکہ دیگر 14 کے پاس ایک یا دو تصاویر موجود تھیں اور زیادہ تر کیسز میں کسی اور کی جانب سے چیٹ رومز پر بھیجی گئی تھیں یا سوشل میڈیا کے ذریعے موصول ہوئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'چائلڈ پورنوگرافی سے متعلق تصاویر رکھنے والوں سمیت 17 افراد کے سماجی رابطوں کے اکاؤنٹس میں انتہا پسندانہ یا امریکا مخالف مواد پایا گیا ہے'۔

انہوں نے بتایا کہ 'توہین آمیز مواد امریکا میں مجرمانہ کارروائی کرنے کے لیے کافی نہیں تھے'۔

'ان کا یہ عمل انہیں افسر بنانے کے لائق نہیں'

ولیم بار کا کہنا تھا کہ 'سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ اس مواد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عمل ان کے رائل سعودی ایئر فورس اور رائل نیوی میں ان کے افسر بننے کے لائق نہیں ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'سعودی عرب نے امریکا کے انسداد دہشت گردی کی تحقیقات میں مکمل تعاون کیا ہے اور زیر تربیت سعودی اہلکاروں کو بھی تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ ریاست نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر امریکی پراسیکیوٹرز نے ان کے خلاف مقدمہ کرنے کا فیصلہ کیا تو وہ انہیں ٹرائل کے لیے واپس بھیج دیں گے'۔

مزید پڑھیں: امریکی بحریہ کے اہلکار کی فوجی اڈے میں فائرنگ، 3 افراد ہلاک

امریکی فوج کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات یمن میں جنگ اور واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خاشقجی کے قتل کے بعد کشیدہ ہوگئے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی آئی اے کی تحقیقات پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی شہری اور سعودی ولی عہد کے ناقد جمال خاشقجی کے قتل کے احکامات جاری کیے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے موقف اپنایا تھا کہ واشنگٹن کو ریاض سے اپنے اتحاد کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔

پینساکولا حملے کی وجہ سے پینٹاگون نے امریکا میں مختلف شعبوں میں زیر تربیت 850 سعودی فوجی اہلکاروں کی تربیت کے عمل کو روک دیا تھا۔

پینٹاگون نے 19 دسمبر کو کہا تھا کہ 'حملے کے بعد دورہ کرنے والے سعودی افراد کی نظر ثانی میں کسی بھی قسم کے فوری خطرے کی کوئی معلومات نہیں ملی ہے'۔