سندھ کی تقسیم ہمارے منشور میں شامل نہیں، عمران اسمٰعیل

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2020

ای میل

گورنر سندھ کے مطابق سندھ ایک تھا، ایک ہے اور ایک رہے گا  — فوٹو:ڈان نیوز
گورنر سندھ کے مطابق سندھ ایک تھا، ایک ہے اور ایک رہے گا — فوٹو:ڈان نیوز

گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے کہا ہے کہ سندھ ایک ایسا صوبہ ہے جہاں کوئی تقسیم قبول نہیں ہے اور نہ ہی اس کی تقسیم ہمارے منشور میں شامل ہے۔

کراچی میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے کہا کہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈے اے) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ساتھ ہیں اور مضبوطی سے کھڑے ہیں۔

گورنر سندھ نے کہا کہ سندھ کی گیس کے جائز حق کے لیے صوبے کے عوام کے ساتھ کھڑا ہوں، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے وزیر توانائی کو گیس کے معاملے کے جائزے کی ہدایت کی ہے۔

عمران اسمٰعیل نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ وزیراعظم جو مزید پیکیج بنارہے ہیں وہ پورے سندھ پر محیط ہوں۔

انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے ہماری اتحادی جماعتوں میں سے ایک ہے، جی ڈی اے اور پی ٹی آئی دونوں جماعتیں ساتھ ہیں۔

مزید پڑھیں: حکومت، ایم کیو ایم وفود کی 'ملاقات': خالد مقبول وزارت چھوڑنے کے فیصلے پر قائم

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں یہاں کسی کو منانے نہیں آیا کیونکہ کوئی روٹھا نہیں ہے۔

ایم کیو ایم کی جانب سے مطالبات میں سندھ کی تقسیم کا بل رکھا گیا ہے اور اسمبلی میں اس کے پیش ہونے پر پی ٹی آئی کی حمایت سے متعلق سوال کے جواب میں عمران اسمٰعیل نے کہا کہ یہ بات میں کئی مرتبہ واضح کرچکا ہوں کہ پاکستان میں مزید صوبوں کی ضرورت ہے لیکن وہاں ہے جہاں کے لوگ ایسا چاہتے اور سمجھتے ہیں۔

گورنر سندھ نے کہا کہ سندھ ایک ایسا صوبہ ہے جہاں کوئی تقسیم قبول نہیں ہے لہذا اسے واضح کرلیں کہ جب سندھ کی بات ہوتی ہے سندھ کے عوام کی بات ہوتی ہے تو ان کی خواہش ہے کہ سندھ ایک تھا، ایک ہے اور رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم سندھ کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم سندھ کے بیٹے ہیں، ہم ایسے کیسے بات کرسکتے ہیں کہ اپنے سندھ کو تقسیم کردیں، سندھ کی تقسیم ہمارے منشور میں شامل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سندھ کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم سندھ کے بیٹے ہیں ہم ایسے کیسے بات کرسکتے ہیں کہ اپنے سندھ کو تقسیم کردیں، سندھ کی تقسیم ہمارے منشور میں شامل نہیں ہے باقی جو اسمبلی کی بات ہے وہ اسمبلی والے جانیں۔

علاوہ ازیں صدر الدین راشدی نے اسی سوال پر کہا کہ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ سندھ کا بٹوارہ کسی قیمت پر نہیں ہوگا، کراچی صوبہ سندھ کا دارالحکومت ہے تو کوئی بھی یہ خواہش رکھتا ہے تو اسے رکھنے دیں ہم ایسی خواہش پوری نہیں ہونے دیں گے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ ڈیڑھ سال کی حکومت سے پچھلے 70 سال کا حساب نہ مانگیں پہلے دیکھیں کہ ملک کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ کس نے غلط کیا ہے؟

یہ بھی پڑھیں: خالد مقبول صدیقی کا وزارت آئی ٹی چھوڑنے کا اعلان

انہوں نے کہا کہ 1960 اور 70 کی دہائی کے بعد سے ملک نیچے آیا ہے اس کا ذمہ دار کوئی تو ہوگا، یہ حکومت عوام کی امنگوں اور خواہشات پر پورا اترے گی لیکن ملک کو ٹریک پر لانے کے لیے تھوڑی سی تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔

گورنر عمران اسمٰعیل نے کہا کہ جو اس وقت وفاق، سندھ کے لیے کررہا ہے وہ این ایف سی ایوارڈ سے اوپر ہے، محدود وسائل کے باوجود وزیراعظم نے سندھ کے لیے سب سے زیادہ فنڈز مختص کیے ان پر عملدرآمد کے لیے وقت درکار ہے، ڈیڑھ سال میں پورا سندھ تبدیل نہیں ہوسکتا اس میں وقت لگے گا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کا حق این ایف سی ایوارڈ کی صورت میں ملا ہے، سندھ سے نکلنے والی معدنیات کی اربوں روہے کی رائلٹی خرچ نہ ہونے سے متعلق کیوں نہیں کوئی پوچھتا؟

ایک اور سوال کے جواب میں گورنر سندھ نے کہا کہ وزیراعظم جنوری کے مہینے ہی میں کراچی آئیں گے اور اندرون سندھ کا دورہ بھی کریں گے۔