پنجاب اور وفاق میں اتحاد کے مستقبل کے لیے ق لیگ، پی ٹی آئی کی بیٹھک

اپ ڈیٹ 15 جنوری 2020

ای میل

تحریک انصاف کے رہنماؤں اور مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں میں گزشتہ ہفتوں میں 2 ملاقاتیں ہوچکی ہیں — فائل فوٹو/ڈان
تحریک انصاف کے رہنماؤں اور مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں میں گزشتہ ہفتوں میں 2 ملاقاتیں ہوچکی ہیں — فائل فوٹو/ڈان

گجرات: مسلم لیگ (ق) اور حکمراں جماعت تحریک انصاف کے درمیان وفاق اور پنجاب میں اتحاد قائم رکھنے کے حوالے سے دونوں جماعتوں کے سینئر رہنما آج (بدھ کو) اسلام آباد میں مذاکرات کریں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے وزیر دفاع پرویز خٹک، سینئر رہنما جہانگیر ترین، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور ارباب شہزاد مذاکرات کا حصہ ہوں گے جبکہ مسلم لیگ (ق) کا وفد وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ، رکن قومی اسمبلی چوہدری مونس الہیٰ، چوہدری سالک حسین اور چوہدری حسین الہیٰ پر مشتمل ہوگا۔

پنجاب کے چیف سیکریٹری اعظم سلیمان اور انسپکٹر جنرل آف پولیس شعیب دستگیر بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔

منگل کے روز اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے بعد کہا جارہا ہے کہ مسلم لیگ (ق) کے تحریک انصاف کا اتحادی رہنے کے انحصار آج کی ملاقات کے نتیجے پر منحصر ہے۔

مزید پڑھیں: کیا تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے اتحاد کو خطرہ ہے؟

مسلم لیگ (ق) کے سینئر رہنما کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی کے وزرا اور اراکین پارلیمنٹ کو انتظامیہ میں حصہ اور متعلقہ حلقوں کے ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے کیے گئے وعدے پورے نہ کیے جانے کے حوالے سے دباؤ کا سامنا ہے۔

دونوں اتحادی جماعتوں کے نمائندگان کے درمیان گزشتہ دو ہفتون کے دوران پہلے ہی 2 ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔

مسلم لیگ (ق) کے رکن قومی اسمبلی مونس الہیٰ نے وزیر اعظم عمران خان سے حال ہی میں ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے مسلم لیگ (ق) سے کیے گئے وعدوں پر تبادلہ خیال کیا۔

فی الوقت مسلم لیگ (ق) سے صرف طارق چیمہ ہی وفاقی وزیر کے عہدے پر فائض ہیں جبکہ مسلم لیگ (ق) کی قیادت نے وعدے کے مطابق مونس الہیٰ کو بھی وفاقی وزارت دینے کا مطالبہ دہرایا تھا تاہم ابھی تک یہ وعدہ وفا نہیں ہوا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ق) نے تحریک انصاف کو پیغام دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو حل کرے ورنہ اس حوالے سے ان کی یہ آج آخری ملاقات ہوگی جس کے بعد ان کی جماعت کی قیادت پنجاب اور وفاق میں حکومت کی اتحادی ہونے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان گزشتہ ملاقات میں مونس الہیٰ نے وفاقی وزیر اسد عمر کو اتحادی جماعتوں کے درمیان اختیارات میں اشتراک کے حوالے سے تحریری معاہدے کی یاد دہانی کرائی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کو نیا دھچکا، مسلم لیگ (ق) کے رکن بھی کابینہ اجلاس سے غیرحاضر

طے شدہ فارمولے کے مطابق پنجاب میں مسلم لیگ (ق) کے وزرا حافظ عمار اور باؤ رضوان کی متعلقہ وزارتوں میں تعیناتی اور تبادلوں کے حوالے سے امور پر بھی مشاورت کی جائے گی۔

مسلم لیگ (ق) قانون سازوں کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ اسکیموں کے ترقیاتی بجٹ میں حصے کے ساتھ ساتھ پنجاب کے کم از کم 3 اضلاع اور کئی تحصیلوں میں تبادلوں اور تعیناتی کے حوالے انتظامی امور میں مکمل اختیار کی خواہاں ہے۔

معاہدے کے تحت مسلم لیگ (ق) کو گجرات، چکوال اور ضلع بہاولپور سمیت ڈسکہ (سیالکوٹ)، پھلیا، منڈی بہاؤالدین تحصیل میں انتظامی کنٹرول کی یقین دہانی کرائی گئی تھی جہاں پولیس، انتظامی اور سرکاری محکموں کے افسران کی تعیناتی یا تبادلے مسلم لیگ (ق) کی تجاویز کے مطابق کیے جائیں گے۔

تاہم حکومت کی اتحادی جماعت کے اراکین پارلیمنٹ کو اس معاملے پر سخت تحفظات ہیں۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے 2 وفاقی اور کئی صوبائی وزارتوں سمیت پنجاب کے اسپیکر اسمبلی کے عہدے پر مسلم لیگ (ق) کے نامزد امیدواروں کو تعینات کرنے کا کہا تھا تاہم یہ وعدہ بھی پورا نہیں کیا گیا۔

رکن قومی اسمبلی مونس الہیٰ سے جب پارٹی کے تحفظات اور تحریک انصاف سے اتحاد کے حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل پر سوال کیا گیا تو انہوں نے ڈان کو بتایا کہ حکمراں جماعت نے 2018 کے انتخابات سے قبل ہی ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی شروع کردی تھی اور انہوں نے دونوں جماعتوں کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے فارمولے پر عمل نہیں کیا تھا اور مسلم لیگ (ق) کے گڑھ میں تحریک انصاف نے اپنے امیدوار نامزد کرنے کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ق) کے طارق بشیر چیمہ کے خلاف اپنا نمائندہ بھی الیکشن میں کھڑا کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح وفاقی اور پنجاب حکومت کے قیام کے بعد ابتدائی طور پر تحریک انصاف نے مسلم لیگ (ق) کے نامزد دوسرے امیدوار کو پنجاب کابینہ کا حصہ نہیں بنایا تھا اور بعد میں انہیں اس وقت کابینہ کا حصہ بنایا گیا جب مسلم لیگ (ق) کے حافظ عمار نے تحریک انصاف کی جانب سے وزارت کے امور میں مسلسل مداخلت کرنے پر احتجاجاً استعفیٰ دے دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو پنجاب چلانے میں متوازن سوچ اپنانی ہوگی جہاں ان کا کہنا تھا کہ سیاسی حلقوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے اپنے ایک اور اتحادی بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کو 10 ارب روپے کا ترقیاتی پیکج دیا ہے اور مسلم لیگ (ق) کو بھی بہتر پیکج دیا جانا چاہیے کیونکہ یہ بڑی جماعت ہے اور پنجاب اور وفاق دونوں میں تحریک انصاف کی اتحادی ہے۔

مزید پڑھیں: اہم امور میں مشاورت نہ کرنے پر ق لیگ کا وزیر اعظم سے تحفظات کا اظہار

وفاق اور پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلیوں میں ان کی جماعت کے کردار کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے اس بات کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدام سے ملک میں سیاسی انتشار پیدا ہوگا جس کا اپوزیشن جماعتیں فائدہ اٹھائیں گی۔

مسلم لیگ (ق) کے مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر جماعتوں کے ساتھ رابطے کے حوالے سے سوال کے جواب میں رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ 'سب کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ سیاسی جماعتوں کا آپس میں رابطہ ہوتا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ اتحادی جماعتوں کے درمیان طے شدہ اجلاس ان کی جماعت کے آئندہ کے لائحہ عمل اور تحریک انصاف سے روابط کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔