اسلام آباد ہائیکورٹ: پی ٹی ڈی سی چیئرمین زلفی بخاری کی تعیناتی چیلنج

اپ ڈیٹ 15 جنوری 2020

ای میل

درخواست میں نیشنل ٹورازم کووآرڈنیشن بورڈ کے قیام پر بھی سوالات اٹھائے گئے —تصویر:ٹوئٹر
درخواست میں نیشنل ٹورازم کووآرڈنیشن بورڈ کے قیام پر بھی سوالات اٹھائے گئے —تصویر:ٹوئٹر

اسلام آباد: پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی) کے چیئرمین سید ذوالفقار عباس بخاری المعروف زلفی بخاری کی تعیناتی اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردی گئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی ڈی سی کے 14 ملازمین کی جانب سے دائر درخواست میں منیجنگ ڈائریکٹر اننخاب عالم کی تعیناتی کو بھی چیلنج کیا گیا۔

تعیناتیوں کے علاوہ درخواست میں نیشنل ٹورازم کووآرڈنیشن بورڈ (این ٹی سی بی) کے قیام پر بھی سوالات اٹھائے اور موقف اختیار کیا کہ سیاحت کو صوبے کے حوالے کرنے کے بعد این ٹی سی بی کا قیام غیر آئینی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے ابتدائی سماعت کے بعد درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرکے کابینہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکریٹریز کو نوٹس جاری کردیئے۔

یہ بھی پڑھیں: زلفی بخاری ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے چیئرمین مقرر

پٹیشن میں الزام لگایا گیا کہ فریق نمبر 4 (زلفی بخاری) کی وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ذاتی دوستی سب کے سامنے ہے، ان کی عمر 40 سال سے کم ہے اور وہ وفاقی حکومت میں متعدد اہم عہدوں پر براجمان ہیں۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ زلفی بخاری برطانیہ میں ہی پلے بڑھے لیکن وزیراعظم سے دوستی کی وجہ سے انہیں پہلے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی اور ترقیِ انسانی وسائل تعینات کیا گیا اور اس کے بعد نیشنل ٹورازم کوآرڈنیشن بورڈ کا چیئرمین بنایا گیا اور پھر پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن بورڈ کا چیئرمین بھی بنا دیا گیا۔

درخواست کے مطابق پی ٹی ڈی سی بورڈ کا چیئرمین بننے سے قبل زلفی بخاری کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کا رکن بھی نہیں بنایا گیا جبکہ ادارے کے قانون کے مطابق صرف بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن کو ہی بورڈ کا چیئرمین تعینات کیا جاسکتا ہے اور براہِ راست کسی شخص کا تعینات کرنے کا کوئی تصور نہیں۔

مزید پڑھیں: زلفی بخاری وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی مقرر

درخواست میں کہا گیا کہ مارچ 2019 میں آئین کی 18ویں ترمیم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کابینہ سیکریٹریٹ سے ایک ایگزیکٹو نوٹیفکیشن جاری کرکے این ٹی سی بی کا قیام عمل میں لایا گیا جبکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد سیاحت صوبوں کا معاملہ قرار دیا جاچکا ہے۔

جس کے باعث صرف صوبے اپنے وسائل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ضروری قانون سازی، پالیسی کی تشکیل اور مناسب کمیٹی بنانے کا اختیار رکھتے ہیں۔

اسی طرح بغیر قانون سازی کے این ٹی سی بی کا لیا ہوا کوئی بھی فیصلہ پیچیدگیاں پیدا کرے گا اور قانون کی نظر میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: زلفی بخاری کیس: ’بڑے عہدوں پر تقرر اہم فریضہ، دوستی پر معاملات نہیں چلیں گے‘

درخواست میں پی ٹی ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر انتخاب عالم کی تعیناتی کے بارے میں موقف اختیار کیا گیا کہ وہ سیکریٹریٹ کے گریڈ 19 کے افسر ہیں جو پہلے پی ٹی ڈی سی میں جنرل منیجر منصوبہ بندی کی حیثیت سے تعینات تھے اور چند ماہ بعد ہی انہیں پی ٹی ڈی سی کےمنیجنگ ڈائریکٹر کا عہدہ دے دیا گیا۔

درخواست گزار کے مطابق انتخاب عالم کو سیاحتی صنعت کا کوئی تجربہ نہیں اس لیے انہیں اتنا اہم عہدہ نہیں دیا جاسکتا۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ سیاحتی صلاحیتوں سے مالامال ملک میں پی ٹی ڈی سی خسارے میں چل رہی ہیں اور استدعا کی کہ مذکورہ تعیناتیوں کو کالعدم قرار دیا جائے۔