شہدا کیلئے منظور فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم میں اربوں روپے کا فراڈ ہوا، نیب

اپ ڈیٹ جنوری 16 2020

ای میل

ملزمان نے منصوبے کی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے منظوری لی اور نہ ہی این او سی حاصل کی — فائل فوٹو: ڈان نیوز
ملزمان نے منصوبے کی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے منظوری لی اور نہ ہی این او سی حاصل کی — فائل فوٹو: ڈان نیوز

احتساب عدالت نے فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی (ایف ایچ ایس کے) میں دھوکا دہی کی تحقیقات کے سلسلے میں زیر حراست 2 بلڈرز کے ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع کردی۔

سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ کس طرح 'زمین شہدا اور جنگی ہیروز' کے نام پر حاصل کی گئی لیکن شاید ہی کوئی یونٹ شہدا کو الاٹ کیا گیا ہو۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ کس طرح پاک فضائیہ (پی اے ایف) کے کچھ افسران نے ہاؤسنگ یونٹوں کی خریداری کے لیے اپنے ہی ساتھیوں کو راغب کیا اور اس مد میں کروڑوں روپے کمائے۔

مزید پڑھیں: فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی کے خلاف نیب کی تحقیقات کا آغاز

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے میکزِم پراپرٹیز سے وابستہ تنویر احمد اور بلال تنویر کو گرفتار کیا تھا۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی میں سرمایہ کاری کے نام پر عوام کو مبینہ طور پر 18 ارب روپے سے محروم کردیا۔

تفتیشی افسر اسلم پرویز ابڑو نے دونوں ملزمان کو احتساب عدالت کے انتظامی جج فارق انور قاضی کے سامنے پیش کیا اور مزید تفتیش کے لیے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست کی۔

تفتیشی افسر نے معاملے کی تحقیقات کے حوالے سے پیشرفت رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا کہ تفتیش کے دوران مزید شواہد ریکارڈ پر آئے ہیں کہ دونوں ملزمان پاک فضائیہ کے افسران کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر عوام کو دھوکا دینے میں ملوث تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ 'پاک فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کے لیے ملزمان نے ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) سے آؤٹ پلان کی منظوری لی اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی جانب سے کوئی این او سی حاصل کیے بغیر ہی متعلقہ سرکاری قوانین کی دھجیاں اڑائیں اور ہاؤسنگ اسکیم کے اشتہارات، خرید و فروخت اور بکنگ شروع کردی'۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مشتبہ افراد نے 19 جون 2015 کو ایک مراسلے کے ذریعے منصوبے کے لیے ایم ڈی اے سے اراضی/ ایڈجسٹمنٹ / تبادلہ حاصل کیا، جسے بعد میں ایم ڈی اے نے 5 جولائی 2015 کو منسوخ کردیا۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ملزمان نے منصوبے کی اراضی پر چار دیواری کھڑی کرکے سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضہ کیا اور تعمیراتی کام شروع کردیا۔

آئی او نے بتایا کہ ملزمان نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے منظوری لی اور نہ ہی این او سی حاصل کی۔

یہ بھی پڑھیں: ’نیشنل سیکیورٹی‘ کے نام پر لی گئی زمین ہاؤسنگ اسکیم میں تبدیل

رپورٹ کے مطابق ملزمان نے منصوبے کو سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس 1979 کی دفعات سے بھی خارج نہیں کرایا۔

انہوں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے حوالے سے بتایا کہ ایس بی سی اے نے متعدد بار 'ایف ایچ ایس کے' کی انتظامیہ کو منصوبے سے متعلق منظوری / این او سی حاصل کرنے کی درخواست کی۔

بعد ازاں ایس بی سی اے نے 8 جنوری 2020 کو غیر مجاز تعمیرات اور فروخت کی سرگرمیوں کی اطلاعات پر ایف ایچ ایس کے کو شوکاز نوٹس جاری کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا وزیر اعلیٰ سندھ ہاؤس سے حاصل کردہ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ فضائیہ کے عہدیداروں نے ہاؤسنگ سوسائٹی کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے 1979 کی تمام کارروائیوں سے خارج کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ سے درخواست کی تھی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 'وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری نے 10 جنوری 2017 کو جواب دیا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے ایک سمری کے تحت صرف شہدا کے ورثا کو رہائشی پلاٹ الاٹ کرنے کے لیے مراعات کی اجازت دی تھی'۔

تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ پاک فضائیہ نے جنگی ہیروز اور شہدا کے اہل خانہ کی بحالی کے نام پر یہ منصوبہ شروع کیا گیا لیکن ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ 8 ہزار 400 ہاؤسنگ یونٹوں میں سے صرف 30 یونٹوں کو شہدا کے اہل خانہ کے لیے الاٹ کیا گیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ حراست میں لیے گئے بلڈروں نے پی اے ایف کے عہدیداروں کی ملی بھگت سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے فارم فیس، رجسٹریشن، اوپن سرٹیفکیٹ، معیاری اور عیش و آرام کے اپارٹمنٹ، سرچارج، ٹرانسفر فیس کی مد میں 18 ارب 20 کروڑ روپے بٹورے۔

مزید پڑھیں: ڈی ایچ اے سٹی کے باعث کسان اپنی زرعی اراضی سے محروم

رپورٹ میں بتایا گیا کہ دونوں بلڈرز نے 5 ہزار 732 متاثرین سے رقم اکٹھی کی تاہم متاثرین میں پی اے ایف کے اہلکار شامل نہیں تھے جنہیں پی اے ایف حکام نے اپنے ہی محکمے میں رہائشی یونٹوں کی خریداری کا لالچ دیا تھا۔

بعد ازاں جج نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں دو ہفتوں کی توسیع دے دی۔