وفاق کا حکومت سندھ کی درخواست پر آئی جی کلیم امام کو فوری ہٹانے سے انکار

اپ ڈیٹ 18 جنوری 2020

ای میل

سندھ کابینہ نے آئی جی سندھ سید کلیم امام کو عہدے سے ہٹانے اور ان کی خدمات وفاق کو واپس دینے کی منظوری دے دی تھی— فائل فوٹو: ڈان
سندھ کابینہ نے آئی جی سندھ سید کلیم امام کو عہدے سے ہٹانے اور ان کی خدمات وفاق کو واپس دینے کی منظوری دے دی تھی— فائل فوٹو: ڈان

وفاقی حکومت نے حکومت سندھ کی درخواست پر آئی جی سندھ کو فوری ہٹانے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی درخواست زیر غور ہے جس پر کسی فیصلے تک کلیم امام ہی آئی جی سندھ رہیں گے۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیر اعظم عمران خان کو خط تحریر کیا تھا جس میں آئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام کو ہٹانے کی درخواست کی گئی تھی ور اس سلسلے میں نئے آئی جی کے لیے تین نام تجویز کیے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: سندھ کابینہ نے آئی جی کلیم امام کی خدمات وفاق کو واپس دینے کی منظوری دیدی

آج وزیر اعظم عمران خان کی منظوری کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے اس خط کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت کی درخواست پر غور کیا جا رہا ہے۔

حکومت کی جانب سے بھیجے گئے خط میں کہا گیا کہ ماہرین اس درخواست کا جائزہ لے رہے ہیں اور درخواست پر فیصلہ ہوتے ہی آگاہ کردیا جائے گا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے ہدایت کی گئی کہ فیصلہ ہونے تک کلیم امام ہی آئی جی سندھ رہیں گے اور قانون کے تحت کسی بھی ایڈیشنل آئی جی کو آئی جی کا اضافی چارج نہیں سونپا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سعید غنی کی ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان پر کڑی تنقید، 'تھرڈ کلاس شخص' قرار دے دیا

واضح رہے کہ آئی جی سندھ کلیم امام کے معاملے پر وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان تناؤ جاری ہے اور آئی جی سندھ پر اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے سندھ کابینہ نے انہیں عہدے سے ہٹانے اور ان کی خدمات وفاق کو واپس دینے کی منظوری دے دی تھی۔

صوبائی حکومت کی جانب سے آئی جی سندھ پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ان کے دور میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی اور ساتھ ساتھ سندھ پولیس کے سربراہ پر حکومت کے احکامات نہ ماننے کا بھی الزام لگایا گیا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک آفیشل نے ڈان کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیر اعظم کو جمعرات کی شام ایک خط بھیجا جس میں انہوں نے آئی جی سندھ کے لیے غلام قادر تھیبو، مشتاق احمد مہر اور ڈاکٹر کامران کے نام تجویز کیے تھے۔

مزید پڑھیں: شکارپور : ڈاکوؤں کیلئے مخبری میں ملوث 50پولیس افسران و اہلکار ضلع بدر

21ویں گریڈ کے افسر غلام قادر تھیبو کراچی پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں جبکہ ڈاکٹر کامران فضل بھی 21ویں گریڈ کے افسر ہیں جو اس وقت ایڈیشنل آئی جی کی حیثیت سے محکمہ انسداد دہشت گردی کی سربراہی کر رہے ہیں۔

22ویں گریڈ کے افسر مشتاق مہر بھی کراچی پولیس کے سربراہ رہ چکے ہیں اور اس وقت آئی جی ریلوے پولیس ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ غلام قادر تھیبو سندھ حکومت کے پسندیدہ امیدوار ہیں لیکن 6ماہ میں ان کی ریٹائرمنٹ متوقع ہے۔

وفاق کے تحفظات

نجی نیوز چینلز کی رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے آئی جی سندھ کے لیے تجویز کردہ تین ناموں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت آئی سندھ کے عہدے کے لیے ایڈیشنل آئی جی موٹر وے موٹر وے پولیس ڈاکٹر آفتاب پٹھان، سابق آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ اور کراچی پولیس کے سابق سربراہ عامر احمد شیخ کے ناموں پر غور کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سکھر میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ایس ایچ او، اے ایس آئی جاں بحق

پولیس کے قانون کے تحت آئی جی پولیس کا وفاق اور متعلقہ صوبائی حکومت کے درمیان مشاورت کے بعد تقرری کیا جا سکتا ہے۔

آئی جی کو حکومت کی بات نہ ماننے پر ہٹایا گیا

وزیر اعلیٰ ہاؤس کے ذرائع نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے آئی جی ڈاکٹر سید کلیم امام کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں کابینہ کا خصوصی اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے کیونکہ وہ مبینہ طور پر حکومت کی بات نہیں مان رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ آج کل پولیس افسران خود کو طاقتور اور آزاد سمجھتے ہیں اور اسی لیے وہ حکومت کی پالیسیوں پر عمل نہیں کرتے۔

البتہ آئی جی کلیم امام کے قریبی ذرائع نے ان کو عہدے سے ہٹائے جانے کی متعدد وجوہات بتائیں۔

ذرائع نے بتایا کہ حکومت آئی جی سندھ کا تبادلہ کرنا چاہتی ہے کیونکہ وہ حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور اراکین اسمبلی کے غیرقانونی اور خلاف ضابطہ مطالبات کو نہیں مان رہے تھے۔

ویڈیو دیکھیں: 'صوبہ سندھ کی پولیس کا مزاج نیب کی طرح ہو گیا ہے'

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ناخوش تھی کیونکہ آئی جی مقامی سطح کے ایس ایچ اور ڈی ایس پی کی تقرریوں کی سفارشات کو منظور نہیں کرتے تھے، انہوں نے صوبائی وزیر کے خلاف مقدمہ درج کیا، پارٹی رہنماؤں اور دیگر بااثر شخصیات کی مبینہ مجرمانہ سرگرمیوں کا پردہ فاش کیا اور ان سے کسی بھی قسم کی رعایت برتنے پر تیار نہ تھے۔

آئی جی نے صوبائی حکومت کو پولیس کے لیے مختص فنڈ حکومت یا اراکین صوبائی اسمبلی کے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی اجازے دینے سے بھی انکار کردیا تھا۔