کل سے آٹے کی قیمت میں کمی آنا شروع ہوجائے گی، خسرو بختیار

اپ ڈیٹ 19 جنوری 2020

ای میل

خسرو بختار نے کہا کہ حکومت نے گندم کی فی من قیمت ایک 365 روپے مقرر کردی —فائل فوٹو: ڈان نیوز
خسرو بختار نے کہا کہ حکومت نے گندم کی فی من قیمت ایک 365 روپے مقرر کردی —فائل فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی وزیر برائےغذائی تحفظ و تحقیق خسرو بختیار نے کہا ہے کہ گندم کی سپلائی کا عمل متاثر ہونے سے مشکلات کا سامنا ہے تاہم حکومتی اقدامات سے چند دنوں میں آٹے کا مصنوعی بحران ختم ہوجائے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بین الصوبائی چیکنگ مسائل سے خیبرپختونخوا کو گندم کی فراہمی متاثر ہوئی۔

مزید پڑھیں: ملک بھر میں آٹے کی قیمت میں ہوشربا اضافہ

علاوہ ازیں خسرو بختار نے کہا کہ حکومت نے گندم کی من قیمت ایک 365 روپے مقرر کردی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے لیے 4 سے 5 ٹن اضافی گندم کی سپلائی بڑھادی گئی جبکہ پنجاب کے پاس گندم کے ذخائر وافر مقدار میں موجود ہیں۔

خسرو بختار نے سندھ میں آٹے کے بحران کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد کی، انہوں نے کہا کہ سندھ نے رواں سال 7 لاکھ ٹن ہدف کے باوجود گندم نہیں خریدی اور پاسکو نے سندھ کو 4 لاکھ ٹن گندم دی لیکن صرف ایک لاکھ ٹن اٹھائی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز کراچی کے لیے 9 ہزار ٹن گندم این ایل سی کے ذریعے فراہم کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 7 ماہ میں آٹے کی قیمت میں فی کلو 16 روپے تک اضافہ

خسرو بختار نے کہا کہ آئندہ برس 27 ملین ٹن گندم کی پیداوار کا ٹارگٹ ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات سے آئندہ چند روز میں گندم اور آٹے کی قیمت میں کمی ہوگی کیونکہ گندم کی اسمگلنگ روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ چمن بارڈر سے ماہانہ 40 ہزار ٹن گندم کی اسمگلنگ روکی گئی۔

علاوہ ازیں وفاقی وزیر نے بتایا کہ موسمی حالات کی وجہ سے 12 لاکھ ٹن گندم کی پیداوار متاثر ہوئی۔

یاد رہے کہ ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی بحران ایک مرتبہ پھر سر اٹھانے لگا ہے اور آٹے کے بحران اور قلت کی سب سے زیادہ شکایات سندھ سے موصول ہو رہی ہیں۔

مزیدپڑھیں: نیا سال شروع ہوتے ہی آٹے کی قیمت میں اضافہ ہوگیا

اس معاملے پر فردوس عاشق اعوان نے کہا تھا کہ سندھ حکومت نے کوتاہی کرتے ہوئے گندم نہیں خریدی جس کے بعد وزیر اعظم نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر میں سے سندھ کو 4 لاکھ ٹن گندم دینے کا حکم صادر کیا۔

انہوں نے کہا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ میں ان ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کو کسی بھی صورت نہیں چھوڑوں گا اور ان کے خلاف جنگ اب آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور عوام کی طاقت سے ہم ان کو شکست دیں گے۔