خیبر پختونخوا: لکی مروت میں نئے سال کے پہلے مہینے میں پولیو کا پہلا کیس

19 جنوری 2020

ای میل

لیبارٹری نے ایک سالہ بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق کی—فوٹو:عمیر علی
لیبارٹری نے ایک سالہ بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق کی—فوٹو:عمیر علی

خیبر پختونخوا (کے پی) کے علاقے لکی مروت میں نئے سال کے پہلے مہینے میں ہی پولیو کا پہلا کیس سامنے آگیا جس کی تصدیق اسلام آباد میں ریجنل ریفرنس لیبارٹری (آر آر ایل) نے کردی۔

رپورٹ کے مطابق آر آر ایل نے گزشتہ روز پولیو کیس کی تصدیق کی جبکہ لکی مروت سے تعلق رکھنے والے ایک سالہ بچے کو ایک مرتبہ پولیو کے قطرے بھی پلائے گئے لیکن لیبارٹری سے آنے والے نتیجے میں انہیں وائلڈ پولیو وائرس ون کا متاثرہ قرار دیا گیا ہے۔

پولیو وائرس نے بچے کی دونوں ٹانگوں کو متاثر کیا جس سے ان کے معذور ہونے کے علامات نظر آرہی تھیں اور دائیں ٹانگ میں زیادہ اثر ہوا تھا۔

انسداد پولیو پروگرام کے مطابق گزشتہ برس پورے پاکستان میں پولیو کے 136 کیسز سامنے آئے تھے جن میں سب سے زیادہ کے پی میں 96 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جس کے بعد سندھ میں 25، بلوچستان میں 11 اور پنجاب میں 8 کیسز سامنے آئے تھے۔

مزید پڑھیں:ملک میں سال 2019 کے پولیو کیسز کی تعداد 134 تک پہنچ گئی

پولیو وائرس 5 سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتا ہے اور اعصابی نظام میں داخل ہوکر تاحیات معذور بنا سکتا ہے۔

ویکسین کے علاوہ پولیو کے خاتمے کا کوئی سبب نہیں تاہم بروقت قطرے پلانے سے بچے اس خطرناک وائرس سے بچ سکتے ہیں اور ماہرین صحت والدین پر زور دیتے ہیں کہ بچوں کو ہردفعہ قطرے ضرور پلوائیں۔

دنیا کے اکثر ممالک پولیو کے مرض سے چھٹکارہ پاچکے ہیں لیکن پاکستان اور پڑوسی ملک افغانستان دو ایسے ممالک ہیں جہاں اس وقت بھی پولیو کیسز مسلسل سامنے آرہے ہیں اور اس کا انسداد نہ ہوسکا۔

پاکستان تاحال پولیو سے متاثرہ ملک ہونے کے باعث عالمی ادارہ صحت کی جانب سے متعدد سفری پابندیوں کا شکار ہے اور 2014 سے بیرون ملک سفر کرنے والے ہر شہری کو پولیو سے متعلق سرٹیفکیٹ درکار ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ 4 جنوری کو 5 پولیو کیسز کی تصدیق ہوئی تھی اور 2 جنوری کو مزید 6 پولیو کیسز سامنے آئے تھے لیکن ان کیسز کے نمونے 2019 میں حاصل کیے گئے تھے اس لیے ان کو گزشتہ سال میں شمار کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ملک بھر سے مزید 5 پولیو کیسز کی تصدیق

قومی ادارہ صحت کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ پولیو وائرس کے متحرک ہونے کے لیے کم از کم 3 ہفتوں کا وقت درکار ہوتا ہے، لہٰذا نمونے حاصل کرنے کے 3 ہفتوں بعد پولیو کیس کی تصدیق ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عین ممکن ہے کہ آئندہ چند ہفتوں تک ہم 2019 کے مزید پولیو کیسز کی تصدیق کریں‘۔

قبل ازیں 30 دسمبر کو وزارت قومی صحت کے انسداد پولیو پروگرام نے دعویٰ کیا تھا کہ پولیو پروگرام گزشتہ 6 ماہ میں کئی تنازعات کا سامنا کرنے کے بعد آخر کار اپنی 'درست سمت پر گامزن' ہے۔

انسداد پولیو پروگرام نے دعویٰ کیا تھا کہ دسمبر میں انسداد پولیو مہم کے دوران 100 فیصد سے زائد بچوں کو ویکسین پلائی گئی اور ملک بھر میں 3 کروڑ 96 لاکھ بچوں کے ہدف کے مقابلے میں 4 کروڑ 39 بچوں کو ویکسین پلائی گئی۔

یاد رہے کہ 2018 میں پولیو کے صرف 12 کیس رپورٹ ہوئے تھے اور 2017 میں 8 پولیو کیسز منظر عام پر آئے تھے۔