فیصل واڈا کا معاملہ، قائمہ کمیٹی پیمرا پر برہم

اپ ڈیٹ 21 جنوری 2020

ای میل

فیصل واڈا ایک پروگرام میں فوجی بوٹ لے آئے تھے — فائل فوٹو: اسکرین شاٹ اے آر وائی یوٹیوب
فیصل واڈا ایک پروگرام میں فوجی بوٹ لے آئے تھے — فائل فوٹو: اسکرین شاٹ اے آر وائی یوٹیوب

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کے ضابطہ اخلاق کی تشریح کو دوہرا معیار قرار دے دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی کی جانب سے پیمرا کے چیئرمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ذاتی حیثیت میں پیش ہوں اور ریگولیٹر کے طریقہ کار خاص طور پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واڈا کی جانب سے ایک ٹی وی شو میں 'بوٹ میز پر رکھنے' کے اقدام پر ہونے والے حالیہ تنازع کے تناظر میں وضاحت پیش کریں۔

اس موقع پر چیئرمین کمیٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں جاوید لطیف نے دعویٰ کیا کہ الیکٹرانک میڈیا کے ریگولیٹر کا مختلف خلاف وزریاں کرنے والوں کے لیے مختلف رویہ تھا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم نے فیصل واڈا کی ٹاک شوز میں شرکت پر پابندی عائد کردی

ان کے مطابق پیمرا بااثر شخصیات کے حوالے سے نرمی کا مظاہرہ کرتا ہے لیکن دیگر لوگ، جو اس کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کریں، ان پر سخت پابندی عائد کرتا ہے۔

دوران اجلاس کمیٹی اراکین کی جانب سے نشاندہی کی گئی کہ پیمرا کے نامناسب نگرانی کے طریقے کے باعث یہ معمول بن گیا ہے کہ ٹی وی چینلز پر کچھ اینکرز براہ راست ٹاک شوز میں پارلیمنٹیرین اور دیگر عوامی شخصیات کی تذلیل کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ پیمرا کے چیئرمین سلیم بیگ کو اراکین کے سوالات کے جواب کے لیے طلب کیا جائے۔

کمیٹی کی جانب سے پیمرا کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس ٹی وی اینکر پر لگائی گئی پابندی اور پھر اسے ہٹائے جانے پر مکمل تفصیلات فراہم کریں، جس کے پروگرام میں فیصل واڈا بوٹ لائے تھے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واڈا ایک فوجی بوٹ لائے تھے اور انہوں نے پروگرام کے دوران اس کو میز پر رکھتے ہوئے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی وی پروگرام میں 'فوجی بوٹ' لانے پر فیصل واڈا پر تنقید

تاہم فیصل واڈا کی اس حرکت پر انہیں خود تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس پروگرام میں شریک مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید عباسی اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما قمر زمان کائرہ پروگرام چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

بعد ازاں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے مذکورہ پروگرام میں وفاقی وزیر فیصل واڈا کی جانب سے غیراخلاقی حرکت اور ریاستی ادارے کے وقار کو مجروح کرنے کی کوشش پر پروگرام اور اس کے میزبان پر 60 دن کی پابندی عائد کردی تھی۔

ساتھ ہی وزیراعظم عمران خان نے نجی چینل کے پروگرام میں فوجی بوٹ لانے پر فیصل واڈا پر کسی بھی ٹاک شو پر آئندہ دو ہفتوں کے لیے شرکت پر پابندی عائد کردی تھی۔