چین: انسان سے انسان میں منتقل ہونے والے مہلک وائرس کے پھیلنے کی تصدیق

اپ ڈیٹ جنوری 29 2020

ای میل

وائرس جاپان، تھائی لینڈ اور جنوبی کوریا میں بھی پہنچ گیا  — اے ایف پی:فائل فوٹو
وائرس جاپان، تھائی لینڈ اور جنوبی کوریا میں بھی پہنچ گیا — اے ایف پی:فائل فوٹو

چین نے انسان سے انسان میں منتقل ہونے والے مہلک وائرس 'ایس اے آر ایس' کے پھیلنے اور اس کی وجہ سے 4 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس پہلی مرتبہ ووہان کے علاقے میں سامنے آیا تھا جس کے تعلقات ایس اے آر ایس سے بتائے گئے ہیں جس نے 2002 اور 2003 میں چین اور ہانگ کانگ میں 650 افراد کی جان لے لی تھی۔

اس وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی کل تعداد بڑھ کر 218 ہوچکی ہے جبکہ چین کے بڑے شہر بیجنگ اور شنگھائی میں بھی اس وائرس کے کیسز کی تصدیق کردی گئی ہے۔

چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنوبی گوانگ ڈونگ صوبے میں درجن سے زائد افراد میں یہ وائرس سامنے آیا جبکہ 'ووہان' شہر میں رواں ہفتے 136 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

مزید پڑھیں: چین میں شرح پیدائش 60 سال کی کم ترین سطح پرپہنچ گئی

انسان سے انسان میں منتقل ہونے والے اس وائرس کو ایسے وقت میں دریافت کیا گیا ہے جب چین میں نئے سال کی خوشیاں منانے کے لیے دیگر ممالک سے لوگ بسوں، ٹرینوں اور طیاروں میں چین کا سفر کر رہے ہیں۔

آسٹریلیا، بنگلہ دیش، ہانگ کانگ، نیپال، سنگاپور، تھائی لینڈ، تائیوان اور امریکا میں بخار کی تشخیص سمیت حفاظتی اسکریننگ کے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جن کی زیادہ تر توجہ چینی شہر ووہان سے آنے والی پروازوں پر ہے جہاں سے یہ وائرس پھیلا ہے۔

صحت حکام کا کہنا تھا کہ ووہان کی ایک مچھلیوں کی مارکیٹ اس وائرس کے پھیلنے کا مرکز تھی جبکہ 89 سالہ شخص کی ہلاکت کے بعد اس وائرس سے مرنے والوں افراد کی مجموعی تعداد 4 ہوگئی ہے جبکہ 15 میڈیکل اسٹاف بھی اس مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

شنگھائی میں اب تک 2 کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ بیجنگ میں 5 افراد میں اس بیماری کی تشخیص ہوئی۔

یہ وائرس اب جاپان، تھائی لینڈ اور جنوبی کوریا بھی پہنچ چکا ہے جہاں چینی شہر ووہان کا دورہ کرنے والے 4 افراد ہسپتال میں داخل کیے گئے ہیں۔

آسٹریلیا کے صحت حکام کا کہنا تھا کہ اس بیماری کی نشانیاں ظاہر ہونے پر ایک شخص کو علیحدہ کردیا گیا ہے جبکہ اس کے ٹیسٹ کے نتائج آنے کا انتظار کیا جارہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا ہنگامی اجلاس

سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق چین کے قومی صحت کمیشن کے معروف سائنسدان ژونگ نانشان نے تصدیق کی کہ وائرس انسان سے انسان میں منتقل ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ نے سال 2020 میں 'گرم ترین موسم' کی پیشگوئی کردی

عالمی ادارہ صحت نے اس سے قبل نشاندہی کی تھی کہ یہ جانوروں سے پھیل سکتا ہے تاہم خدشہ ظاہر کیا تھا کہ چند مقامات پر یہ انسان سے انسان میں بھی منتقل ہوسکتا ہے۔

ژونگ نانشان نے سی سی ٹی وی کو بتایا کہ مریضوں کو یہ وائرس ووہان شہر جائے بغیر بھی لگ سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا تھا کہ مرکزی ہنگامی کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز ہوگا جس میں اسے بین الاقوامی عوامی ایمرجنسی قرار دیا جائے گا۔

ایجنسی کی جانب سے اس طرح کی ایمرجنسی صورتحال نافذ کرنے کا معاملہ بہت کم دیکھنے کو ملا ہے جس کی وجہ سے اسے بہت اہمیت دی جارہی ہے۔

کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافے کی امید ہے۔

خوف و ہراس

چینی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس وائرس کے پھیلاؤ کو ایس آر اے ایس کی کیٹیگری میں شامل کر رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ جن افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہو انہیں علیحدہ کیا جانا ضروری ہے اور ان کے سفر کو بھی روکا جانا چاہیے۔

چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ 'وائرس کو لازمی طور پر ایک جگہ بند کرنا ہوگا'۔

وائرس کے پھیلنے کے بعد عوام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ اس حوالے سے معلومات بروقت جاری کی جائیں۔