’زندگی تماشا‘ کی ریلیز روکے جانے کے بعد تحریک لبیک نے مظاہرے منسوخ کردیے

اپ ڈیٹ 21 جنوری 2020

ای میل

فلم کو 24 جنوری کو ریلیز کیا جانا تھا—اسکرین شاٹ
فلم کو 24 جنوری کو ریلیز کیا جانا تھا—اسکرین شاٹ

وفاقی حکومت کی جانب سے فلم ساز سرمد کھوسٹ کی آنے والی فلم ’زندگی تماشا‘ کی ریلیز روکے جانے کے بعد مذہبی تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے فلم کے خلاف مظاہروں کی کال واپس لے لی۔

تحریک لبیک پاکستان نے ’زندگی تماشا‘ کے خلاف فلم کی ریلیز سے ایک دن قبل 23 جنوری کو ملک بھر میں مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔

ٹی ایل پی نے ’زندگی تماشا‘ فلم کے خلاف مظاہروں میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت یقینی بنانے کے لیے پمفلٹ بھی تقسیم کیے تھے۔

تاہم اب تحریک لبیک پاکستان نے فلم کو ریلیز سے روکے جانے کے بعد فلم کے خلاف مظاہروں کی کال واپس لے لی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے ’زندگی تماشا‘ کی ریلیز روک دی

’زندگی تماشا‘ کی ریلیز ابتدائی طور پر پنجاب فلم سینسر بورڈ نے روکی تھی، بعد ازاں سندھ فلم سینسر بورڈ نے بھی فلم کی ریلیز کو روک دیا تھا۔

دونوں صوبائی فلم سینسر بورڈز کے بعد وفاقی فلم سینسر بورڈ نے بھی ’زندگی تماشا‘ کی ریلیز کو روکتے ہوئے فلم کا تنقیدی جائزہ لینے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

فلم کو 24 جنوری کو ریلیز کیا جانا تھا—اسکرین شاٹ
فلم کو 24 جنوری کو ریلیز کیا جانا تھا—اسکرین شاٹ

وزیر اعظم کی مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے ٹوئٹ کے ذریعے بتایا کہ مرکزی فلم سینسر بورڈ نے ’زندگی تماشا‘ کی ٹیم کو فلم ریلیز کرنے سے روکتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سے قبل پنجاب فلم سینسر بورڈ نے بھی سرمد کھوسٹ کو کہا تھا کہ وہ بورڈ کی جائزہ کمیٹی کو آئندہ ماہ 3 فروری تک فلم دکھانے کا اہتمام کریں، ان کے فلم کا کمیٹی جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات فلم سینسر بورڈ کو پیش کرے گی جس کے بعد فلم کی ریلیز سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: ’زندگی تماشا‘ کے خلاف مظاہروں کو روکا جائے، سرمد کھوسٹ عدالت پہنچ گئے

پنجاب فلم سینسر بورڈ کی طرح سندھ فلم سینسر بورڈ نے بھی فلم کی ریلیز روک دی تھی۔

سرمد کھوسٹ نے 21 جنوری کو فلم کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو روکنے کے لیے درخواست بھی دائر کی تھی—اسکرین شاٹ یوٹیوب
سرمد کھوسٹ نے 21 جنوری کو فلم کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو روکنے کے لیے درخواست بھی دائر کی تھی—اسکرین شاٹ یوٹیوب

وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے ’زندگی تماشا‘ کی ریلیز ایک ایسے موقع پر روک دی گئی جب سرمد کھوسٹ نے اپنی فلم کے خلاف ہونے والے مظاہروں اور اسے روکنے کے خلاف لاہور کی سول کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: دھمکیوں کے بعد سرمد کھوسٹ کا ’زندگی تماشا‘ ریلیز نہ کرنے پر غور

سرمد کھوسٹ نے لاہور کی سول کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں عدالت کو بتایا کہ تحریک لبیک پاکستان نے ان کی فلم کی ریلیز روکنے کی کال دے دی ہے اور مذکورہ تنظیم کے کارکنان ان کے خلاف مسلسل مظاہرے کر رہے ہیں۔

فلم ساز نے عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں یہ بھی کہا تھا کہ انہیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور ان کی فلم پر غلط الزامات لگائے جا رہے ہیں جب کہ ان کی فلم کسی بھی انفرادی شخص یا کسی بھی تنظیم یا فرقے کے خلاف نہیں ہے بلکہ ان کی فلم معاشرے کو بہتر بنانے کے موضوع پر بنائی گئی ہے۔

اب فلم کا دوبارہ جائزہ لیے جانے کے بعد اسے ریلیز کرنے کا فیصلہ ہوگا—اسکرین شاٹ
اب فلم کا دوبارہ جائزہ لیے جانے کے بعد اسے ریلیز کرنے کا فیصلہ ہوگا—اسکرین شاٹ