نوشہرہ:گرفتار ملزم کا 8 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنےکا اعتراف

اپ ڈیٹ 22 جنوری 2020

ای میل

پولیس نے دو روز قبل ملزمان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا—فائل/فوٹو:رائٹرز
پولیس نے دو روز قبل ملزمان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا—فائل/فوٹو:رائٹرز

خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے علاقے زیارت کاکا صاحب میں 8 سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے کے الزام میں گرفتار دو افراد میں سے ایک نے جرم کا اعتراف کر لیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم ابرار مقتول بچی کا پڑوسی ہے اور انہوں نے اپنے اعترافی بیان میں کہا ہے کہ بچی کے ماموں نے انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جس کا بدلہ لینے کے لیے یہ سب کچھ کیا۔

نوشہرہ کی عدالت میں دونوں گرفتار ملزمان کو پیش کیا گیا جہاں دوسرے ملزم نے صحت جرم سے انکار جس کے بعد دونوں کو 2 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

ملزم نے اعترافی بیان میں انکشاف کیا کہ بچی کے ماموں نے دو بار اسے بدفعلی کا نشانہ بنایا، انتقام لینے کے لیے اس نے بچی کو چمک دینے کے بہانے کھیتوں میں بلایا اور زیادتی کی کوشش کی جس پر بچی نے شور مچایا تو گلا دبا کر قتل کر کے لاش پانی کی ٹینکی میں پھینک دی۔

مزید پڑھیں:نوشہرہ: لاپتہ 8 سالہ بچی کی لاش برآمد، 2 ملزمان گرفتار

یاد رہے کہ زیارت کاکا صاحب میں 18 جنوری کو محلہ پیرسچ کی رہائشی بچی قرآن پاک پڑھنے قریبی مدرسے میں گئی تھی، تاہم وہ گھر واپس نہیں لوٹی، جس کے بعد اس کے والدین نے انہیں تلاش کرنا شروع کیا لیکن وہ ناکام رہے۔

بعد ازاں انہوں نے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے زیارت کاکا صاحب پولیس پوسٹ سے رجوع کیا۔

پولیس نے بچی کی لاش اس کے گھر کے قریب ایک نئی تعمیر ہونے والی عمارت کی پانی کے ٹینک سے برآمد کی تھی۔

پولیس نے واقعے کے بعد 2 ملزمان کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا تھا اور عدالت نے دونوں ملزمان کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔

نوشہرہ کالاں تھانے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایس پی انویسٹی گیشن سجاد خان نے کہا تھا کہ ڈی پی او نے کیس کی تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دے دی اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 2 مشتبہ افراد ابرار اور رفیق الوہاب کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور انہوں نے جرم کا اعتراف کرلیا ہے۔

وزیراعلیٰ کی مقتول بچی کے گھر آمد

دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان اور آئی جی پولیس نوشہرہ میں بچی کے گھر پہنچے اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی، جہاں بچی کے والد نے ملزم کو ان کے سامنے سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ مجرم کو خود سزا دے۔

انہوں نے وعدہ کیا کہ بچوں کے ساتھ زیادتیوں کو روکنے کے لیے ایک ماہ میں قانون سازی کریں گے۔

قبل ازیں صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر نے پشاور میں بی آر ٹی کے حوالے سے وزیر ٹرانسپورٹ شاہ محمد کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے ملزمان کو سزا کے لیے قانون لارہے ہیں اور بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے درندوں کو سخت سے سخت سزا دیں گے۔

اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ ہم قانون بناتے ہیں لیکن پھر لوگ عدالت چلے جاتے ہیں۔