’معلومات تک رسائی‘ کا قانون بے سہارا لوگوں کی آخری اُمید؟

25 جنوری 2020

ای میل

ضلع ملتان کے نواحی علاقے کوٹلی نجابت سے تعلق رکھنے والے عبدالصمد اور اُن کے دوست گزشتہ ایک دہائی سے اپنی ملازمت سے متعلق دستاویزات کے حصول کی تگ و دو میں لگے ہیں لیکن 85 سے زائد درخواستیں دینے کے باوجود نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) انہیں ان کی ملازمت سے متعلق دستاویزات فراہم نہیں کررہا۔

عبدالصمد سرلاء کے مطابق 1986ء میں انہوں نے نیشنل بینک میں کانٹریکٹ پر گارڈ کی ملازمت کا آغاز کیا اور ہر 3 ماہ بعد ان کے معاہدے (کانٹریکٹ) کی تجدید کردی جاتی تھی۔ 1993ء میں انہوں نے ادارے کو اپنی ملازمت مستقل کرنے کے لیے درخواست دی تھی تاہم اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور عبدالصمد کو 2003ء میں نوکری سے نکال دیا گیا جس کے بعد انہوں نے اپنی 16 سالہ ملازمت کا ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے ریاستی بینک کو درخواست بھیجی اور درخواستیں بھیجنے کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 19 اے ہر شہری کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ کسی بھی سرکاری محکمے سے کسی بھی قسم کی معلومات اور دستاویزات حاصل کرسکتا ہے۔ اس سلسلے میں مرکز اور صوبوں نے معلومات تک رسائی کے لیے قانون سازی بھی کی ہے۔ تاہم اس کے باوجود عبدالصمد کی طرح بییشتر شہری ان قوانین سے متعلق آگاہی نہ ہونے کے باعث سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔

ایک سال قبل عبدالصمد سرلاء کو کسی دوست نے معلومات تک رسائی کے قانون اور اس کے طریقہ کار سے آگاہ کیا جس کے بعد انہوں نے دی رائٹ آف ایکسیس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 (The Right of Access to Information Act, 2017) کے تحت نیشنل بینک آف پاکستان کو ایک مرتبہ پھر درخواست دی اور جواب نہ ملنے پر انہوں نے معلومات تک رسائی کے قانون پر عمل درآمد کے لیے قائم ’پاکستان انفارمیشن کمیشن‘ کو شکایت بھیجی۔

پاکستان انفارمیشن کمیشن نے عبدالصمد کی درخواست پر نیشنل بینک کو متعدد نوٹسز جاری کیے تاہم بینک نے کوئی جواب نہیں دیا جس کے بعد پاکستان انفارمیشن کمیشن نے 25 ستمبر 2019ء کو تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے بیینک کو 20 دن میں معلومات کی فراہمی کا حکم دیا۔

عبدالصمد نے بتایا کہ 1994ء میں سابق صدر فاروق لغاری نے ان کی درخواست پر بینک کو قانون کے مطابق ملازمت مستقل کرنے کی ہدایت کی تھی تاہم اس کے باوجود بینک نے میری ملازمت مستقلی کی درخواست پر کوئی کارروائی نہیں کی جبکہ اس دوران مبینہ طور پر سیاسی بنیادوں پر 4 ہزار سے زائد نئے افراد کو مستقل ملازمت پر رکھا گیا۔

ان کے مطابق بینک انہیں معلومات اس لیے فراہم نہیں کر رہا کیونکہ ملازمت ریکارڈ کے مطابق وہ 16 سال تک کانٹریکٹ کی بنیاد ملازمت کرچکے ہیں اس لیے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اب مستقل ملازمت ان کا حق ہے۔

معلومات تک رسائی کے قانون اور اس پر عمل درآمد کے لیے کام کرنے والا پاکستان انفارمیشن کمیشن عبدالصمد اور ان کے دوستوں کے لیے اپنی ملازمت کے دستاویزات کے حصول کے لیے آخری اُمید ہے۔

عبدالصمد کی درخواست پر انفارمیشن کمیشن کا فیصلہ آنے کے بعد ان کے باقی دوستوں نے بھی دستاویزات کے حصول کے لیے معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت درخواستیں جمع کرادی ہیں جن کی شکایات انفارمیشن کمیشن میں زیرالتوا ہیں۔

معلومات تک رسائی کے قوانین کے مطابق سرکاری ادارے زیادہ سے زیادہ 20 دفتری ایام میں شہریوں کو معلومات فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ شہری معلومات کے حصول کے لیے وجہ بتانے کے پابند نہیں، مقررہ وقت میں معلومات فراہم نہ کرنے کی صورت میں شہری متعلقہ انفارمیشن کمیشن سے رجوع کرنے کا مجاز ہوتا ہے جو ان کی شکایت پر زیادہ سے زیادہ 60 دن میں فیصلہ سنانے کا پابند ہے۔

میاں محمد الطاف کی کہانی بھی عبدالصمد جیسی ہی ہے، وہ 15 برس تک نیشنل بینک میں بطور سیکیورٹی گارڈ کام کرتے رہے، پھر ایک دن اچانک انہیں ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔

محمد الطاف کا کہنا ہے کہ ملازمت سے نکالے جانے کے بعد انہوں نے ملازمت کا ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق، بینکاری محتسب، پاکستان سٹیزن پورٹل اور وفاقی محتسب سمیت ہر ادارے سے رجوع کیا لیکن کہیں شنوائی نہیں ہوئی اور اب پاکستان انفارمیشن کمیشن ہماری آخری امید ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ عبدالصمد کی شکایت پر پاکستان انفارمیشن کمیشن کے فیصلے نے اُن کے ساتھ دیگر دوستوں میں اُمید پیدا ہوگئی ہے اور ایک دہائی قبل نوکری سے نکالے گئے تمام دوستوں نے ایک نئے جذبے سے اپنی جدوجہد کا آغاز کردیا ہے۔

اس ایکٹ کو عام طور پر آر ٹی آئی ایکٹ کے طور پر جانا جاتا ہے اس کے سیکشن 20 (2) کے مطابق 30 یوم میں پاکستان انفارمیشن کمیشن کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں فیصلے پر عمل نہ کرنے والی مجاز اتھارٹی کو توہینِ عدالت کی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔

پاکستان انفارمیشن کمیشن کے انفارمیشن کمشنر زاہد عبداللہ نے اس حوالے سے بتایا کہ نیشنل بینک فیصلے کے مطابق دستاویزات دینے کا پابند ہے۔ فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شہری نہ صرف اپنے متعلقہ دستاویزات بلکہ اداروں کی کارکردگی جانچنے کے لیے بھی کسی بھی محکمے سے کسی بھی قسم کی معلومات یا دستاویزات حاصل کرسکتے ہیں۔ معلومات تک رسائی کے قوانین سے اداروں میں عوامی نگرانی ممکن ہوگی اور ان اداروں سے متعلقہ امور میں شفافیت آئے گی۔

پاکستان انفارمیشن کمیشن نومبر 2018ء میں تشکیل دیا گیا تھا تاہم ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود انہیں حکومت کی جانب سے بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔ ان مشکلات کے باوجود 3 کمشنرز پر مشتمل اس ادارے نے 23 تفصیلی فیصلے جاری کیے ہیں۔ کمیشن کو ایک سال میں 220 سے زائد شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 100 سے زائد درخواستوں کو نمٹایا جاچکا ہے اور شہریوں کو معلومات فراہم کردی گئی ہیں۔

عبدالصمد کہتے ہیں کہ فیصلہ آنے کے بعد تاحال نیشنل بینک نے انہیں دستاویزات فراہم نہیں کیں تاہم پاکستان انفارمیشن کمیشن کی جانب سے جس طرح سنجیدگی سے ان مسائل کو نمٹایا جارہا ہے اسے دیکھ کر وہ پُرامید ہیں کہ کمیشن اپنے فیصلے پر عمل درآمد کراتے ہوئے انہیں دستاویزات فراہم کروانے میں کامیاب ہوگا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان انفارمیشن کمیشن نے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کو بھی شہری کی شکایت پر معلومات فراہم کرنے کا فیصلہ جاری کیا تھا جسے ایف بی آر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا گیا تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد شہری کو معلومات فراہم کردی گئیں۔

سرکاری اداروں سے معلومات کیسے حاصل کی جاسکتی ہیں؟

  • مذکورہ ایکٹ کے تحت کوئی بھی شہری کسی بھی وفاقی سرکاری محکمے سے معلومات یا دستاویزات حاصل کرسکتا ہے۔
  • معلومات کے حصول کے لیے شہری سادہ کاغذ پر درکار معلومات کی تفصیل لکھ کر اپنے نام ، مکمل پتے اور رابطہ نمبر کے ساتھ متعلقہ محکمے کے افسر تعلقاتِ عامہ کو جمع کرائیں جو 10 دنوں میں مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کا پابند ہے۔
  • اگر کسی محکمے کی جانب سے افسر تعلقاتِ عامہ نامزد نہیں کیا گیا تو درخواست میں محکمے کے سربراہ کو مخاطب کیا جائے۔
  • 10 دن میں معلومات موصول نہ ہونے کی صورت میں شہری پاکستان انفارمیشن کمیشن کو شکایت کرنے کے مجاز ہیں۔
  • شہری شکایت سادہ کاغذ پر لکھ کر محکمے میں جمع کرائی گئی درخواست کی نقل کے ساتھ بذریعہ ڈاک یا خود جاکر پاکستان انفارمیشن کمیشن کے دفتر میں جمع کراسکتے ہیں۔ کمیشن اس شکایت پر 60 یوم میں فیصلہ کرنے کے پابند ہیں۔
  • پاکستان انفارمیشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ شیڈول آف کاسٹ کے مطابق معلومات کے حصول کے لیے درخواست اور شکایت مفت جمع کرائی جاسکتی ہے جبکہ مطلوبہ معلومات اگر 10 صفحات سے زیادہ ہو تو شہری محکمے کو فی صفحہ 2 روپے ادا کرنے کا پابند ہوگا اور اس رقم کی ادائیگی کی اسے باقاعدہ رسید فراہم کی جائے گی۔
  • اگرسرکاری ادارہ شہری کی درخواست پر کسی سی ڈی، یو ایس بی یا کسی بھی دوسرے برقی آلے میں معلومات فراہم کررہا ہے تو شہری اس یو ایس بی یا سی ڈی کی اصل قیمت ادا کرنے کا پابند ہوگا۔