پام آئل تنازع حل کرنے کیلئے ملائیشیا کا بھارت سے اضافی خام چینی خریدنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 23 جنوری 2020

ای میل

بھارت اور ملائیشیا کے درمیان پام آئل کی درآمد پر تنازع چل رہا—فائل فوٹو: اے ایف پی
بھارت اور ملائیشیا کے درمیان پام آئل کی درآمد پر تنازع چل رہا—فائل فوٹو: اے ایف پی

ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کے بھارتی اقدامات کے خلاف بیان کے بعد دونوں ممالک میں پیدا ہونے والی تجارتی کشیدگی کو دور کرنے کے لیے ملائیشیا نے بڑا فیصلہ کرلیا۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ملائیشیا ہولڈنگز برہیڈ (ایم ایس ایم) سال کی پہلی سہ ماہی میں بھارت سے 20 کروڑ رنگٹ (4 کروڑ 92 لاکھ ڈالر) مالیت کی ایک لاکھ 30 ہزار ٹن خام چینی (را شوگر) خریدے گا۔

واضح رہے کہ کمپنی کی جانب سے 2019 میں بھارت سے تقریباً 88 ہزار ٹن خام چینی خریدی گئی تھی۔

ایم ایس ایم، دنیا کے سب سے بڑے پام آئل پروڈیوسر ایف جی وی ہولڈنگ کا چینی ریفائننگ کرنے والا حصہ ہے، جو ملائیشیا کی سرکاری ملکیت فیڈرل لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی یا فیلڈا کا یونٹ ہے۔

مزید پڑھیں: پابندیوں کے باوجود مہاتیر محمد بھارتی پالیسیوں کے خلاف اپنے مؤقف پر قائم

تاہم کمپنی کی جانب سے اس خریداری کے پیچھے پام آئل کے تنازع کا حوالہ نہیں دیا گیا لیکن مذکورہ خریداری پر حکومت اور کمپنی کے درمیان ہونے والے تبادلہ خیال سے متعلق 2 ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ بھارت کو راضی کرنے کے لیے ہے، جو ملائیشیا پر زور دے رہا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی خسارہ کم کریں۔

واضح رہے کہ بھارت دنیا کا سب سے بڑا خوردنی تیل خریدنے والا ملک ہے، تاہم اس نے حال ہی میں مہاتیر محمد کی جانب سے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی پالیسی پر تنقید کرنے پر ملائیشیا سے پام آئل کی درآمد پر موثر پابندی لگا دی تھی۔

بلاخوف و خطر بولنے والے 94 سالہ مہاتیر محمد نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے بھارت پر کشمیر پر حملہ کرنے کا الزام لگایا تھا۔

ملائیشیا کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ مزید پام کی فروخت کے لیے دیگر مارکیٹوں کی طرف دیکھے گا لیکن یہ اتنا آسان نہیں کیونکہ گزشتہ 5 برسوں سے بھارت ملائیشن پام آئل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور اس نے 2019 میں 44 لاکھ ٹن آئل خریدا۔

علاوہ ازیں ملائیشیا کی بھارت کو برآمدات 31 مارچ کو ختم ہونے والے مالی سال میں 10 ارب 80 کروڑ ڈالر تھی جبکہ درآمدات 6 ارب 40 کروڑ ڈالر تھی۔

دوسری جانب ریفینائیٹو ایکون پر بین الاقوامی شوگر آرگنائیزیشن کے مطابق 2019 میں ملائیشیا نے مجموعی طور پر 19 لاکھ 50 ہزار ٹن خام چینی درآمد کی اور وہ بھارت کے بجائے زیادہ تر برازیل اور تھائی لینڈ سے اس کی خریداری کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان، اردوان کے بعد مہاتیر محمد نے بھی اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر اٹھادیا

یہاں یہ بات مدنظر رہے کہ بھارت دنیا کا سب سے بڑا چینی کی پیداوار کرنے والا ملک ہے لیکن وہ سرپلس سے لڑ رہا ہے جبکہ 20/2019 کے سیزن کے لیے اس کی برآمدات 50 لاکھ ٹن تک بڑھنے کا امکان ہے۔

ادھر ایم ایس ایم کا کہنا تھا کہ جنوری اور فروری سے خام چینی کی 3 شپمنٹس کی آمد متوقع ہے۔

ایم ایس ایم کی جانب سے بھارت سے زائد خام چینی خریدنے کے اعلان پر آل انڈیا شوگر ٹریڈ ایسوسی ایشن نے رائٹرز کو بتایا کہ 'یہ بہت اچھا اقدام ہے، یہ بھارت کی چینی کی برآمدات میں اضافے میں مدد دے گا'۔