چین میں موجود تمام پاکستانی کورونا وائرس سے محفوظ ہیں، دفتر خارجہ

اپ ڈیٹ 29 جنوری 2020

ای میل

اب تک 56افراد کورونا وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی
اب تک 56افراد کورونا وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی

دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ چین کے شہر ووہان میں رہائش پذیر 500 سے زائد طلبا سمیت تمام پاکستانی کورونا وائرس سے مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

کورونا وائرس سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں رواں ماہ پھیلنا شروع ہوا تھا اور اب تک چین میں 56 افراد ہلاک اور 2 ہزار سے زائد اس کا شکار ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں: انسان سے انسان میں منتقل ہونے والے کورونا وائرس کے پھیلنے کی تصدیق

اتوار کو دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اب تک چین میں موجود کسی بھی پاکستانی کے انفیکشن سے متاثر ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، چین میں مقیم پاکستانیوں کو مکمل سپورٹ کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

اس کے علاوہ چین میں موجود پاکستانی سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ گھر میں رہیں اور گھروں سے غیرضروری طور پر باہر نہ نکلیں جبکہ چینی حکام کی جانب سے صحت کے سلسلے میں دی گئی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔

بیان میں کہا گیا کہ ووہان سے کورونا وائرس پھیلنے کے بعد دفتر خارجہ اور چین میں پاکستانی سفارتخانہ صورتحال کا مستقل جائزہ لے رہا ہے جبکہ چین میں پاکستانی سفارتخانہ اور دیگر شہروں میں سفارتی مشن چین میں مقیم پاکستانیوں اور چینی حکام سے مستقل رابطے میں ہیں اور موجودہ صورتحال میں تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔

دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ چینی وزارت صحت نے وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافے اور انسان سے دوسرے انسان میں منتقلی کے خدشے کے پیش نظر وائرس کے خطرات کو کم کرنے کے لیے چند حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔

پاکستان نے اس وائرس سے نمٹنے کے لیے چینی حکام کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں سراہا۔

دفتر خارجہ نے پاکستانی طلبا اور چین میں رہنے والے دیگر افراد کو ہدایت کی کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر پاکستانی سفارتخانے کی ویب سائٹ چیک کریں اور وہاں خود کو آن لائن رجسٹر کرائیں۔

کورونا وائرس ہے کیا؟

کورونا وائرس ایک عام وائرل ہونے والا وائرس ہے جو عام طور پر ایسے جانوروں کو متاثر کرتا ہے جو بچوں کو دودھ پلاتے ہیں تاہم یہ وائرس سمندری مخلوق سمیت انسانوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔

اس وائرس میں مبتلا انسان کا نظام تنفس متاثر ہوتا ہے اور اسے سانس میں تکلیف سمیت گلے میں سوزش و خراش بھی ہوتی ہے اور اس وائرس کی علامات عام نزلہ و زکام یا گلے کی خارش جیسی بیماریوں سے الگ ہوتی ہیں۔

ووہان کورونا وائرس کی ایک قسم ہے اور ابھی ایسا کوئی ٹیسٹ نہیں جو اس کی جسم میں موجودگی کی تصدیق کرسکے اور کورونا وائرسز کے موجودہ ٹیسٹ سے اسے پکڑا نہیں جاسکتا۔

اس وائرس سے اب تک 56افراد ہلاک اور 2ہزار سے زائد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ یہ وائرس کم از کم 12 دیگر ممالک تھائی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، ویت نام، سنگاپور، نیپال، فرانس، آسٹریلیا، ملائیشیا، کینیڈا اور امریکا تک پھیل چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کرگئی

’کورونا‘ وائرس کے حوالے سے چینی حکام نے گزشتہ ہفتے ہی تصدیق کی تھی کہ مذکورہ وائرس ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوسکتا ہے اور یہ وائرس ہاتھ ملانے سمیت سانس کے ذریعے بھی منتقل ہوسکتا ہے۔

کورونا وائرس کی علامات میں ناک بند ہونا، سردرد، کھانسی، گلے کی سوجن اور بخار شامل ہیں اور چین کے مرکزی وزیر صحت کے مطابق 'اس وبا کے پھیلنے کی رفتار بہت تیز ہے، میں خوفزدہ ہوں کہ یہ سلسلہ کچھ عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے اور کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے'۔

وائرس کے ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کی تصدیق ہونے کے بعد چین کے کئی شہروں میں عوامی مقامات اور سینما گھروں سمیت دیگر اہم سیاحتی مقامات کو بھی بند کردیا گیا ہے جب کہ شہریوں کو سخت تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

کسی کورونا وائرس کا شکار ہونے پر فلو یا نمونیا جیسی علامات سامنے آتی ہیں جبکہ اس کی نئی قسم کا اب تک کوئی بھی علاج موجود نہیں مگر احتیاطی تدابیر اور دیگر ادویات کی مدد سے اسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔