پی ٹی وی کا ٹی وی لائسنس فیس میں اضافے کا دفاع

اپ ڈیٹ 27 جنوری 2020

ای میل

22 جنوری کو 20 ارب روپے کا خسارہ صارفین کو منتقل کرنے کی خبرسامنے آئی تھی—تصویر:اسکرین شاٹ
22 جنوری کو 20 ارب روپے کا خسارہ صارفین کو منتقل کرنے کی خبرسامنے آئی تھی—تصویر:اسکرین شاٹ

پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) نے صارفین کے بجلی کے بلز میں شامل ٹی وی لائسنس کی فیس میں اضافہ کر کے اپنی آمدن میں اضافہ کرنے کی تجویز کا یہ جواز دیا ہے کہ دنیا بھر میں سرکاری نشریاتی اداروں کو حکومت سپورٹ کرتی ہے تا کہ ان کے قومی بیانیے کی ترویج کی جائے اور اس وقت جو رقم وصول کی جارہی ہے وہ بہت معمولی ہے۔

پی ٹی وی انتظامیہ کی جانب سے اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں 22 جنوری کو 20 ارب روپے کا خسارہ صارفین کو منتقل کرنے کی خبر کے ردِ عمل میں کہا گیا کہ ’دنیا بھر میں سرکاری نشریاتی اداروں کو حکومتیں ٹی وی لائسنس فیس کے ذریعے مدد کرتی ہیں تا کہ قومی بیانیے اور قومی ترقی، امن، سماجی ہم آہنگی اور اتحاد کے لیے ضروری تعلیمی اور معلوماتی غیر تجارتی مواد کی ترویج کرسکیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: مالی مسائل کے شکار پی ٹی وی کا عوام سے 20 ارب روپے بٹورنے کا منصوبہ

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’برطانیہ، فرانس، جرمنی اور ترکی جیسے ممالک ہر ماہ ٹی وی لائسنس فیس لیتے ہیں تا کہ بی بی سی، فرانس ٹی وی، ڈی ڈبلیو اور ٹی آر ٹی کو فنڈز دیے جائیں، اسی بین الاقوامی ماڈل پر عمل کرتے ہوئے پاکستانی حکومت ہر ماہ صرف 35 روپے ٹی وی لائسنس فیس لیتی ہے‘۔

تاہم پی ٹی وی نے اپنے بیان میں 2015 سے 2018 تک مسلسل خسارے کے بعد مالی سال 2019-2018 میں 3 کروڑ روپے کا آپریٹنگ منافع حاصل ہونے کا دعویٰ کیا۔

پی ٹی وی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں ٹی وی لائسنس فیس میں اضافے کی تجویز کو حتمی شکل دی گئی۔

اجلاس کے نکات کے مطابق بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ہر اجلاس میں ’زیر غور منصوبے کے حوالے سے آپریشنل زمینی حقائق کی بنیاد پر پیش رفت کا جائزہ اور موجودہ حکمت عملی کو حتمی شکل دی گئی‘۔

مزید پڑھیں: ’میڈیا بحران‘ کے باوجود 58 نئے ٹی وی چینلز کے لائسنس بھاری قیمت میں نیلام

لہٰذا بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کے نکات ادارے کے مکمل ایکشن پلان کو ظاہر نہیں کرتے کیوں کہ یہ صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے مکمل نہیں ہے۔

اس لیے یہ معلومات ادارے کے روڈ میپ کا اعکاس نہیں اور ادارے کے حوالے سے رائے قائم کرنے کے لیے استعمال نہیں ہوسکتی۔


یہ خبر 27 جنوری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔