پہلی بار خلا میں غذا تیار کرلی گئی

اپ ڈیٹ 27 جنوری 2020

ای میل

خلا میں دسمبر 2019 میں غذا تیار کرلی گئی تھی—فوٹو: ناسا
خلا میں دسمبر 2019 میں غذا تیار کرلی گئی تھی—فوٹو: ناسا

خلائی تحقیق کے حوالے سے گزشتہ سال کافی بہتر ثابت ہوا تھا چوں کہ گزشتہ سال پہلی مرتبہ خواتین خلانوردوں نے تنہا خلائی اسٹیشن کے گرد چہل قدمی کی تھی۔

سال 2019 میں ہی پہلی بار ایک خاتون خلاباز کرسٹینا کوچ نے طویل عرصے تک خلا میں رہنے کا ریکارڈ بھی بنایا تھا۔

اور اسی ہی خاتون خلا نورد نے سال 2019 کے آخری مہینے دسمبر میں کرسمس کے موقع پر پہلی بار خلا میں غذا تیار کی تھی تاہم کھانے کی تیاری کے وقت اس کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔

لیکن اب پہلی بار امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے نے خلا میں تیار کی گئی غذا کی زمین پر واپسی کی تصدیق کردی۔

خلائی نشریاتی ادارے ’اسپیس ڈاٹ کام‘ کے مطابق گزشتہ برس کے آخر میں عالمی خلائی اسٹیشن پر تیار کی گئی 5 میں سے 3 غذائیں رواں ماہ 7 جنوری کو نجی خلائی آلات بنانے والی کمپنی اسپیس ایکس کے راکٹ کے ذریعے زمین پر پہنچی تھیں۔

مذکورہ غذاؤں کو عالمی خلائی اسٹیشن میں موجود خلانورد خاتون کرسٹینا کوچ نے دیگر ساتھیوں کی مدد سے ایک خاص قسم کے مائیکرو اوون میں تیار کیا تھا۔

غذا تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرنے والی خلانورد کرسٹینا کوچ نے 26 دسمبر 2019 کو ٹوئٹ میں غذا کی تیار کا بتایا تھا
غذا تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرنے والی خلانورد کرسٹینا کوچ نے 26 دسمبر 2019 کو ٹوئٹ میں غذا کی تیار کا بتایا تھا

خلائی نشریاتی ادارے نے اپنی تازہ رپورٹ میں خلا میں تیار کی گئی غذاؤں سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان غذاؤں کو تیار کرنے میں 2 گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ خلا میں خلانوردوں نے 5 مختلف غذائیں تیار کیں اور مذکورہ غذاؤں کو انہوں نے الگ الگ وقت تک خاص مائیکرو اوون میں رکھ کر تیار کیا۔

پانچوں غذاؤں کو خلانوردوں نے خاص قسم کے درجہ حرارت پر 16 منٹ سے 130 منٹ کے دورانیے تک پکایا اور پھر تیار کی گئی غذاؤں کو جائزہ لیا گیا۔

غذاؤں کو خصوصی طور پر تیار کیے گئے مائیکرو اوون میں بنایا گیا—فوٹو: پریس ڈیموکریٹ
غذاؤں کو خصوصی طور پر تیار کیے گئے مائیکرو اوون میں بنایا گیا—فوٹو: پریس ڈیموکریٹ

رپورٹ کے مطابق زمین پر مائیکرو اوون میں غذا تیار کرنے کے لیے 150 سینٹی گریڈ کا درجہ حرارت درکار ہوتا ہے تاہم خلا میں 300 سینٹی گریڈ کا درجہ حرارت درکار تھا۔

خلانوردوں نے خاص مائیکرو اوون میں 300 سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت میں پانچ مختلف غذاؤں کو پانچ مختلف اوقات کے لیے مائیکرو اوون میں تیار کیا اور سب سے بہترین غذا 130 منٹ میں تیار ہوئی جسے ڈھنڈا کرنے کے لیے 10 سے 25 منٹ تک رکھا گیا۔

اس غذا سے قبل کم وقت میں تیار کی گئی غذائیں کچی تھیں اور ان میں مکمل تیار غذا جیسی خوشبو بھی نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں: کرسٹینا کوچ مسلسل خلا میں زیادہ دن تک رہنے والی پہلی خاتون بن گئیں

تیاری کے بعد زمین پر بھیجی گئیں پانچ میں سے تین غذاؤں کا ماہرین جائزہ لیں گے اور اس کے بعد ممکنہ طور پر ان غذاؤں کو محفوظ کرکے عام لوگوں کو دکھانے کے لیے رکھ دیا جائے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ خلا میں تیار کی گئی غذاؤں کا ذائقہ کیسا ہے کیوں کہ ان غذاؤں کو کسی نے نیں کھایا تاہم تیار کی گئی غذاؤں کے ذائقے سے متعلق خلا میں رہنے والے خلانورد جانتے ہیں۔

خلا میں تیار کی گئی غذائیں بسکٹ اور کیک جیسی غذائیں ہیں اور انہیں خاص طرح کے آٹے اور خاص طرح کی دیگر چیزوں کی مدد سے تیار کیا گیا۔

خلا میں تیار کی گئی غذائیں بسکٹ اور کیک کی طرح کی ہیں—فوٹو: کرسٹینا کوچ ٹوئٹر
خلا میں تیار کی گئی غذائیں بسکٹ اور کیک کی طرح کی ہیں—فوٹو: کرسٹینا کوچ ٹوئٹر