ووہان میں پھنسے پاکستانی طلبہ کا حکومتِ پاکستان سے مدد کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 27 جنوری 2020

ای میل

کورونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کے سلسلے میں پشاور کے باچا خان ایئرپورٹ پر مریضوں کا معائنہ کیا جا رہا ہے — فوٹو: اے ایف پی
کورونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کے سلسلے میں پشاور کے باچا خان ایئرپورٹ پر مریضوں کا معائنہ کیا جا رہا ہے — فوٹو: اے ایف پی

چین میں کورونا وائرس سے متاثرہ شہر ووہان میں موجود پاکستانی طلبہ نے وائرس کے خوف اور خوراک کی قلت کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے فوری مدد کی درخواست کردی۔

چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والا کورونا وائس انتہائی تیزی سے چین کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں پھیلتا جا رہا ہے اور اب تک اس وائرس کے نتیجے میں چین میں 80 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں 80 ہوگئیں، وزیراعظم کا متاثرہ شہر ووہان کا دورہ

چین میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 30 فیصد کے اضافے کے بعد 2 ہزار 7 سو 44 تک پہنچ گئی جس میں سے نصف کے قریب صوبہ ہوبے میں ہیں۔

وائرس کے سبب چین کا شہر ووہان اس وقت ورچوئل لاک ڈاؤن کا شکار ہے جبکہ چین کے دیگر شہروں میں بھی نقل و حرکت پر شدید پابندیاں عائد ہیں۔

ووہان میں موجود پاکستانی طلبہ میں تیزی سے پھیلتے اس وائرس کے سبب شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور انہوں نے حکومت پاکستان سے انہیں فوری طور پر مدد فراہم کر کے وطن واپس لانے کی درخواست کی ہے۔

ووہان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی طالبہ حفصہ طیب نے کہا کہ ووہان میں ہمیں خوراک کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے اور ہمیں خوف ہے کہ جس نوعیت کی خوراک کی کمی کا ہمیں سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو عنقریب ہمارے پاس خوراک ختم ہوجائے گی۔

انہوں نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہمارا دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ایک شہر میں بند کردیا گیا ہے اور ہم اکیلے (isolate) ہو گئے ہیں۔

حفصہ نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ہم سب بہت خوف و ہراس کا شکار ہیں، ایک جانب یہ خوف ہے اور دوسری جانب ہمیں خوراک کی قلت کا مسئلہ درپیش ہے لہٰذا ہماری حکام بالا سے گزارش ہے کہ ووہان میں موجود تمام پاکستانی طلبا کو کسی بھی طرح یہاں سے نکالا جائے۔

ایک اور طالبعلم نے کہا کہ ووہان اس وقت پورے چین سے کٹ چکا ہے، یہ صوبہ ہوبے میں واقع ہے جس کے 13شہر پورے چین سے کٹ چکے ہیں اور ان کا چین کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم حکام بالا سے درخواست کرتے ہیں کہ انسانیت کی خاطر ہمارے لیے کچھ کریں جس کے لیے ہم زندگی بھر آپ کے شکر گزار رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس پھیلنے کی طاقت مزید بڑھ گئی، چینی وزیر صحت

ویڈیو میں ایک اور طالبعلم نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے ووہان سے نکالنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیے جہاز کا انتظام کیا جائے تاکہ ہم یہاں سے جا سکیں۔

اس موقع پر انہوں نے تصیح کرتے ہوئے کہا کہ یہ خبر درست نہیں کہ ووہان میں صرف 200 طلبا ہیں کیونکہ اتنے طلبا تو صرف ہماری یونیورسٹی میں ہیں اور اس طرح 12 یونیورسٹیاں ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ووہان میں 2 ہزار سے زائد پاکستانی طلبا تعلیم کے حصول کے لیے موجود ہیں اور انہیں فوری طور پر وہاں سے نکالنے کی درخواست کی۔

طالبعلم حسن خان نے کہا کہ فرانسیسی اور امریکی سفارتخانے چین میں موجود اپنے شہریوں کی مدد کر رہے ہیں تاکہ اپنے شہریوں کو ووہان سے نکال سکیں اور ہمیں بھی اسی طرح کی مدد درکار ہے تاکہ آپ لوگ ہمیں یہاں سے نکال کر محفوظ مقام پر پہنچا دیں۔

انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ انہیں جلد از جلد ووہان سے نکالا جائے۔

مزید پڑھیں: باسکٹ بال لیجنڈ کوبی برائنٹ بیٹی سمیت ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک

ادھر چین میں پاکستانی سفیر نغمانہ ہاشمی نے کہا کہ پاکستانی سفارتخانہ شہریوں کے مسائل سے آگاہ ہے اور ان مسائل کے حل کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

نغمانہ ہاشمی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ چین کو کورونا وائرس کی صورت میں مشکلات کا سامنا ہے، اس وائرس کی روک تھام ایک مشکل اور صبر آزما کام ہے اور ہمیں اس مشکل وقت میں چینی حکومت کا ساتھ دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی سفارتخانہ چینی حکام سے رابطے میں ہے، چینی حکومت کی جانب سے وائرس کی روک تھام کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے اور تصدیق کی کہ ابھی تک کوئی بھی پاکستانی اس موذی وائرس سے متاثر نہیں ہوا۔

انہوں نے چین میں موجود پاکستانیوں کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ وہ چینی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ چین میں مقیم پاکستانی شہری چکن اور گوشت کے استعمال سے گریز کریں، بلاوجہ رہائش گاہ سے باہر نہ جائیں اور باہر جانے کی صورت میں ماسک استعمال کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سفارتخانہ شہریوں کے مسائل سے آگاہ اور ان کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، چین میں مقیم پاکستانی جو سفارتخانے سے رجسٹرڈ نہیں، وہ خود کو رجسٹرڈ کروائیں۔

یہ بھی پڑھیں: مہلک وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، چینی صدر

ہم نے اپنی ویب سائٹ کے ذریعے ایک ایڈوائزری بھی جاری کی ہوئی ہے اور اس کو ہم وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ بھی کر رہے ہیں، آپ سے گزارش ہے کہ آپ سفارتخانے کی ویب سائٹ کو ناصرف چیک کرتے رہیں جبکہ اپنی اور اپنے اہلخانہ کی تفصیلات ہماری ویب سائٹ پر جا کر رجسٹر کر دیں۔

نغمانہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ ہم نے ویب سائٹ پر اپنے افسران کے ای میل اور فون نمبر درج کر دیے ہیں اور چین میں موجود پاکستانی کسی بھی مشکل میں ہر وقت ان کی مدد کو دستیاب ہوں گے۔

اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ ووہان میں موجود جن افراد کے ویزا کی معیاد 23 جنوری کو ختم ہوئی ہے، چینی حکام ان کے ویزوں میں بغیر فیس کے تجدید کر دیں گے۔