پی ٹی ایم کا منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا اعلان

اپ ڈیٹ 27 جنوری 2020

ای میل

محسن داوڑ نے کہا کہ مزاحمت مزید زور پکڑے گی—فوٹو:اے ایف پی
محسن داوڑ نے کہا کہ مزاحمت مزید زور پکڑے گی—فوٹو:اے ایف پی

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنماؤں اور اراکین قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر نے منظور پشتین کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کردیا۔

پشاور کے شاہین ٹاؤن سے منظور پشتین کی گرفتاری کے چند گھنٹوں بعد محسن داوڑ اور علی وزیر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی جہاں ان کے ہمراہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سینیٹر عثمان کاکڑ، سابق سینیٹر افراسیاب خٹک اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما فرحت اللہ بابر بھی موجود تھے۔

محسن داوڑ نے کہا کہ میں پولیس سے منظور پشتین کی گرفتاری کی وجوہات جاننے کی کوشش کرچکا ہوں لیکن انہوں نے کوئی وجہ نہیں بتائی اور تعاون کرنے سے انکار کیا۔

منظور پشتین کی گرفتاری کو ‘اغوا’ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ہم سمجھتے ہیں کہ منظور پشتین کو بنوں میں تقریر کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے جہاں انہوں نے کہا تھا کہ میں تمام پشتون رہنماؤں کو جمع کروں گا’۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ‘کارکن ہمیشہ کی طرح پرامن رہیں اور ملک بھر اور بیرون ملک احتجاج کیا جائے گا’۔

مزید پڑھیں:پشاور: پی ٹی ایم سربراہ منظور پشتین گرفتار، 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ ‘ایف آئی آر ہمیں ڈرا نہیں سکتی اور مزاحمت مزید زور پکڑے گی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاست ہماری محرومیوں کو ختم کرنے کے بجائے رہنما کو گرفتار کر رہی ہے۔

پی ٹی ایم رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے حال ہی میں ان کے مسائل کو سننے کے لیے مذاکرات کی پیش کش کی تھی اور اب پشتین کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘اس کا مطلب ہے کہ حکومت اور ریاست ایک صفحے پر نہیں ہیں’۔

پی پی پی رہنما فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت نے منظور پشتین کی گرفتاری کی مذمت کی ہے اور پی ٹی ایم کے سربراہ کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ عجیب بات ہے کہ وزیر دفاع پی ٹی ایم کو مذاکرات کی پیش کش کر رہے ہیں لیکن منظور پشتین کی گرفتاری آنکھ کھولنے کے لیے کافی ہے’۔

پی پی پی رہنما نے کہا کہ ‘سیاسی گرفتاریاں اندرونی سلامتی کو ٹھیس پہنچائیں گی’۔

سینیٹر عثمان کاکڑ نے بھی منظور پشتین کی گرفتاری کی مذمت کی اور کہا کہ ‘منظور پشتین کے بیانیے اور مقبولیت نے حکومت اور معاملات چلانے والوں کی راتوں کی نیندیں حرام کردی ہے’۔

سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے منظور پشتین کی گرفتاری کو خطرناک قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘گرفتاری نے منظور پشتین کو ایک حقیقت میں تبدیل کر دیا ہے’۔

یہ بھی پڑھیں:'اب وقت ختم ہوا'، پاک فوج کی پی ٹی ایم رہنماؤں کو تنبیہ

انہوں نے کہا کہ ‘آپ مشرف پر مقدمہ کرنے کو تیار کیوں نہیں ہیں جس نے آئین توڑا تھا’۔

سینئر سیاست دان نے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے وہ منظور پشتین کی ‘غیر قانونی گرفتاری’ کا نوٹس لیں۔

افراسیاب خٹک نے کہا کہ ‘آپ کشمیر میں ظلم و ستم کو کب تک بیچیں گے جب آپ اپنے ہی شہریوں پر اسی طرح کا سلوک کررہے ہیں’۔

خیال رہے کہ پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کو پشاور پولیس نے شاہین ٹاؤن سے گرفتار کیا تھا اور عدالت نے 14 روزہ ریمانڈ پر انہیں جیل بھیج دیا۔

تہکال پولیس اسٹیشن کے عہدیدار شیراز احمد نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پیر کو علی الصبح انہیں گرفتار کیا گیا۔

پولیس نے دیگر 9 پی ٹی ایم کارکنوں کو گرفتار کیا، جن کی شناخت محمد سلمان، عبدالحمید، ادریس، بلال، محب، سجادالحسن، ایمل، فاروق اور محمد سلمان کے نام سے ہوئی۔

بعد ازاں پی ٹی ایم سربراہ منظور پشتین کو پشاور کے جوڈیشل کمپلیکس میں سیشن جج کے سامنے پیش کیا گیا، اس دوران سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے۔

عدالت نے انہیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر پشاور سینٹرل جیل منتقل کرنے کا حکم دیا۔

منظور پشتین کو ڈیرہ اسمٰعیل خان منتقل کرنے کے لیے راہداری ریمانڈ سے متعلق فیصلہ عدالت کل کرے گی جہاں ان کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی گئی ہے۔

ایف آئی آر کی نقل کے مطابق 18 جنوری کو ڈیرہ اسمٰعیل خان میں منظور پشتین اور دیگر پی ٹی ایم رہنماؤں نے ایک جلسے میں شرکت کی جہاں پی ٹی ایم سربراہ نے مبینہ طور پر کہا کہ 1973 کا آئین بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق پشتین نے ریاست سے متعلق مزید توہین آمیز الفاظ بھی استعمال کیے۔

پشتون تحفظ موومنٹ

واضح رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ ایسا اتحاد ہے جو سابق قبائلی علاقوں سے بارودی سرنگوں کے خاتمے کے مطالبے کے علاوہ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور غیر قانونی گرفتاریوں کے خاتمے پر زور دیتا ہے اور ایسا کرنے والوں کے خلاف ایک سچے اور مفاہمتی فریم ورک کے تحت ان کے محاسبے کا مطالبہ کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی ایم کا بنوں میں جلسہ، پختون رہنماؤں سے اتحاد کا مطالبہ

پی ٹی ایم ملک کے ان قبائلی علاقوں میں فوج کی پالیسیوں کی ناقد ہے، جہاں حالیہ عرصے میں دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیا گیا تھا۔

تاہم پی ٹی ایم کے رہنما خاص طور پر اس کے قومی اسمبلی کے اراکین بغیر کسی عمل کے انتظامیہ کی جانب سے حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی کے لیے فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، تاہم پاک فوج کا کہنا کہ یہ پارٹی ملک دشمن ایجنڈے پر کام کر رہی ہے اور ریاست کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس پی ٹی ایم کے دو رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کو پولیس نے خرقمر میں مظاہرے کے دوران مبینہ طور پر فوجی اہلکاروں سے تصادم اور تشدد پر گرفتار کیا تھا۔

پی ٹی ایم کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ ملک کے قبائلی علاقوں کے عوام کے لیے ان کی پرامن جدوجہد ہے۔