چین میں 4 پاکستانی طلبہ میں کورونا وائرس کی تصدیق

اپ ڈیٹ 29 جنوری 2020

ای میل

معاون خصوصی نے بتایا کہ چین میں 28 سے 30 ہزار پاکستانی مقیم ہیں—تصویر:ڈان نیوز
معاون خصوصی نے بتایا کہ چین میں 28 سے 30 ہزار پاکستانی مقیم ہیں—تصویر:ڈان نیوز

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے چین کے شہر ووہان میں موجود 4 پاکستانی طلبہ کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کردی۔

اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ چین میں 28 سے 30 ہزار پاکستانی مقیم ہیں جن میں بڑی تعداد طلبہ کی ہے جو مختلف صوبوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ وائرس کے مرکز شہر ووہان میں 500 کے قریب پاکستانی طلبہ ہیں۔

انہوں نے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے طلبہ کے اہلِ خانہ اور تمام پاکستانی شہریوں کو یقین دہانی کروائی کہ ان کے تحفظ اور ان کے علاج معالجے کی ذمہ داری حکومت پاکستان کی ہے، جن کا اپنے بچوں کی طرح خیال رکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس کے بارے میں وہ انکشافات اور تفصیلات جو اب تک ہم جان چکے ہیں

معاون خصوصی نے یہ بھی بتایا کہ مذکورہ مسئلہ وفاقی کابینہ میں زیر بحث آیا تھا اور پاکستانی حکومت، چین میں موجود پاکستانی سفارتخانے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سفارتخانے کا عملہ اور پاکستانی سفیر پاکستانی کمیونٹی کے حوالے سے ضروری اقدامات کرنے میں مصروف ہیں اور متاثرہ طلبہ بھی مسلسل رابطے میں ہیں، جن کی بہترین دیکھ بھال کی جارہی ہے۔

کورونا وائرس سے متاثرہ طلبہ کی صحت کے حوالے سے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ان کی صحت بہتر ہورہی ہے اور ہماری دعا ہے کہ وہ مکمل طور پر صحت مند ہوجائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کی شناخت دانستاً بتائی نہیں جارہی اور میڈیا سے بھی درخواست کی کہ اس کی چھان بین نہ کریں۔

مزید پڑھیں؛ چین: کورونا وائرس سے ہلاکتیں 106 ہوگئیں، متاثرہ افراد کی تعداد 4 ہزار سے تجاوز کرگئی

انہوں نے کہا کہ اگر میڈیا کو معلوم ہو بھی جائے تو ذمہ دارانہ صحافت کرتے ہوئے متاثرہ طلبہ کی نشاندہی میڈیا میں کرنے سے گریز کیا جائے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کا کوئی مریض نہیں

معاون خصوصی نے مزید بتایا کہ پاکستان میں ا س وقت کورونا وائرس کا ایک بھی مریض موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ 4 افراد پر وائرس سے متاثر ہونے کا شبہ تھا جن کے نمونے ٹیسٹ کے لیے بھجوائے گئے تھے تاہم ان کی علامات اور صحت کی بہتر ہونے والی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ کورونا وائرس سے متاثر نہیں۔

پاکستان میں کورونا وائرس سے بچاؤ اور بیماری ہو جانے کی صورت میں اس کی روک تھام کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب ہمارے علم میں یہ بات آئی تو 21، 25 اور 27 جنوری کو نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے ذریعے ایڈوائزریز جاری کی گئی جس میں 27 جنوری کی ایڈوائزری سفر کے بارے میں تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ووہان میں پھنسے پاکستانی طلبہ کا حکومتِ پاکستان سے مدد کا مطالبہ

بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ وزارت صحت میں ایمرجنسی آپریشن سینٹر قائم کیا گیا جس کا بڑا حصہ نیشنل انسٹیٹیوٹ میں کام کرتا ہے اور ہر 48 گھنٹے میں ایک اجلاس منعقد ہوتا ہے جبکہ اس کی ویب سائٹ پر بھی تمام معلومات موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آئندہ چند روز میں قومی سطح پر ہیلپ لائن کردی جائے گی جس پر تیزی سے کام جارہی ہے۔

معاون خصوصی نے بتایا کہ میں نے تمام وزرائے اعلیٰ، متعلقہ وزارتوں، نیشنل ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی، پاک فوج کو خط لکھ کر اس بارے میں آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ نوول کورونا اوئرس ایمرجنسی کور کمیٹی قائم کی گئی جو روز صبح ساڑھے 8 بجے اجلاس کر کے صورتحال کا جائزہ لے کر فیصلے کرتی ہے۔

وائرس کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اس وائرس سے ہونے والی بیماری دوسرے لفظوں میں چھاتی کا انفیکشن ہے جو نمونیہ کی صورت اختیار کرلیتی ہے جس میں شدید کھانسی ہوتی ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ اس وائرس سے متاثر ہونے کی مخصوص علامت نہیں ہے جسے دیکھ کر یہ کہا جاسکے کہ کوئی شخص کورونا وائرس میں مبتلا ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت کا کورونا وائرس سے بچاؤ کے منصوبے پر غور

انہوں نے بتایا کہ وائرس کی لیبارٹری میں جانچ ہوجانے کے بعد ہی کسی شخص میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی جاسکتی ہے کیوں کہ اس کی علامات عمومی وائرل انفیکشن کی علامتیں ہیں مثلاً بخار، سر درر، کھانسی، سانس میں تکلیف اور گلے میں تکلیف وغیرہ۔

معاون خصوصی نے کہا جو افراد اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں اس میں سے 97-98 فیصد مریض علاج سے صحتیاب ہوجاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وائرس سے متاثرہ افراد کی اموات صرف چین میں ہوئی ہیں جبکہ دنیا کے 14 ممالک میں وائرس کی موجودگی پائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا چینی حکومت کی جانب وائرس پھیلنے سے روکنے کے لیے پورے شہر کو قرنطینہ میں تبدیل کرنے کا اقدام انتہائی بڑا فیصلہ ہے جسے ہم سراہتے ہیں کیوں کہ اس ایک قدم سے چین نے دنیا کو کافی حد تک محفوظ کردیا ہے۔

واضح رہے کہ قرنطینہ ایسی صورتحال کو کہا جاتا ہے جس میں کسی بڑی وبا یا بیماری کی روک تھام کی خاطر لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کرتے ہوئے انہیں گھروں یا مخصوص مقامات میں رہنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

معاون خصوصی کے مطابق چین میں بیرونِ ملک سفر کے خواہشمندوں کو 14 روز تک نگرانی میں رکھا جارہا ہے جس کے بعد انہیں باہر جانے کی اجازت دی جارہی ہے جبکہ سفر سے قبل ان کی اسکرینگ بھی کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اس بیماری کے حوالے سے بتائی گئی ہدایات پر پاکستان بھی مکمل طور پر عملدرآمد کررہا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں کورونا وائرس کے حوالے سے درخواست دائر

دوسری جانب چین میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث وہاں موجود پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ درخواست دائر کردی گئی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں وکیل جہانگیر جدون کی جانب سے درخواست دائر کی گئی جس میں سیکریٹری خارجہ اور سیکریٹری صحت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔

درخواست گزار نے سوال کیا کہ بتایا جائے چین میں کتنے پاکستانی پھنسے ہوئے ہیں اور حکومت نے اس حوالے سے اب تک کیا اقدامات اٹھائے۔

درخواست میں کہا گیا کہ 20 ہزار چینی شہری اسلام آباد شہر میں مقیم ہیں ان کی اسکریننگ کے کیا انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومت کیا اقدامات اٹھا رہی ہے۔

درخواست گزار نے استدعا کی کہ حکومت کو چین میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کی ہدایت کی جائے اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی جائے۔

کورونا وائرس اور چین میں اس کا پھیلاؤ

چین میں ہلاکت خیز کورونا وائرس کی ہلاکت کے باعث اب تک 130 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ دنیا بھر میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 6 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔

وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر ووہان میں ہر قسم کے معمولات زندگی معطل ہیں جبکہ حکام نے ووہان سمیت 17 شہروں میں لاک ڈاؤن نافذ کر رکھا ہے جس میں 5 کروڑ افراد محصور ہوگئے ہیں۔

کورونا وائرس ایک عام وائرس ہے جو عموماً میملز(وہ جاندار جو اپنے بچوں کو دودھ پلاتے ہیں) پر مختلف انداز سے اثر انداز ہوتا ہے۔ عموماً گائے، خنزیر اور پرندوں میں نظام انہضام کو متاثر کر کے ڈائیریا یا سانس لینے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔

جبکہ انسانوں میں اس سے صرف نظام تنفس ہی متاثر ہوتا ہے۔ سانس لینے میں تکلیف اور گلے میں شدید سوزش یا خارش کی شکایت ہوتی ہے مگر اس وائرس کی زیادہ تر اقسام مہلک نہیں ہوتیں اور ایشیائی و یورپی ممالک میں تقریباً ہر شہری زندگی میں ایک دفعہ اس وائرس کا شکار ضرور ہوتا ہے۔

کورونا وائرس کی زیادہ تر اقسام زیادہ مہلک نہیں ہوتیں اگرچہ اس کے علاج کے لیے کوئی مخصوص ویکسین یا ڈرگ دستیاب نہیں ہے مگر اس سے اموات کی شرح اب تک بہت کم تھی اور مناسب حفاظتی تدابیر کے ذریعے اس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کر لیا جاتا تھا۔

تاہم چین میں پھیلنے والا وائرس نوول کورونا وائرس ہے جو متاثرہ شخص کے ساتھ ہاتھ ملانے یا اسے چھونے، جسم کے ساتھ مس ہونے سے دوسرے لوگوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ علاقے جہاں یہ وبا پھوٹی ہوئی ہو وہاں رہائشی علاقوں میں در و دیوار، فرش یا فرنیچر وغیرہ کو چھونے سے بھی وائرس کی منتقلی کے امکانات ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ چین کو اس وقت دہری پریشانی کا سامنا ہے کیونکہ ووہان اور ہوبی گنجان ترین آبادی والے علاقے ہیں اور اتنی بڑی تعداد کو کسی اور جگہ منتقل کرنا ممکن نہیں بلکہ اس سے مرض اور پھیل جانے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔