صوابی میں فائرنگ سے 2 پولیو ورکرز جاں بحق

اپ ڈیٹ 29 جنوری 2020

ای میل

پولیس جائے وقوع کا معائنہ کر رہی ہے — فوٹو: ڈان
پولیس جائے وقوع کا معائنہ کر رہی ہے — فوٹو: ڈان

صوابی کے علاقے پَرمولی میں بغیر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کام کرنے والی پولیو ٹیم پر حملے میں 2 خاتون ورکر جاں بحق جبکہ ہوگئیں۔

صوابی کے ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) عمران شاہد کے مطابق نامعلوم ملزمان نے ڈیوٹی کرنے والی پولیو ٹیم پر فائرنگ کردی۔

انہوں نے کہا کہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک لیڈی ہیلتھ ورکر شکیلہ ناز موقع پر ہی جاں بحق جبکہ دوسری شدید غنچہ بیگم زخمی ہو گئی تھیں۔

زخمی لیڈی ہیلتھ ورکر کو علاج کے لیے رضار کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم بعد ازاں انہیں وہاں سے پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔

ڈی پی او کا کہنا تھا کہ پولیس نے جائے وقوع سے گولیوں کے تین خول برآمد کیے، جبکہ علاقے کی سیکیورٹی ہائی الرٹ نہیں تھی۔

پرمولی تھانے کے حکام کا کہنا تھا کہ پولیو ورکرز کو سیکیورٹی ان یونین کونسلز میں فراہم کی جاتی ہے جنہیں ضلعی پولیس نے 'حساس' قرار دے رکھا ہے تاہم پرمولی کا شمار 'حساس' یونین کونسلز میں نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اسٹاف کی کمی کی وجہ سے انہیں سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی تھی'۔

پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی پولیس کے انسپکٹر جنرل ثنااللہ عباسی سے رپورٹ طلب کرلی۔

انہوں نے پولیس کو ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت بھی کی۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا: پولیو ٹیم پر حملہ، ایک اور پولیس اہلکار قتل

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں پولیو ورکرز پر حملوں کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں۔

پولیو ورکرز پر حملے ملک سے پولیو کے خاتمے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

گزشتہ سال حکومت نے ملک کو پولیو سے پاک کرنے کے لیے قومی اسٹریٹیجک ایڈوائزری گروپ (این ایس اے جی) تشکیل دیا تھا۔

گروپ میں بڑی سیاسی جماعتوں کے وہ نمائندے شامل ہیں جنہوں نے گزشتہ حکومتوں میں پولیو کے خاتمے کے پروگرامز میں کام کیا تھا۔

یہ گروپ وزیر اعظم عمران خان کی مشاورت کے بعد تشکیل دیا گیا تھا جس کی سربراہی وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ نومبر 2015 میں اسی طرح کے حملے میں ضلعی پولیو کو آرڈینیٹر ڈاکٹر محمود یعقوب کو بھی ہلاک کردیا گیا تھا۔