حکومت پنجاب نواز شریف کی طبی رپورٹس سے غیر مطمئن

اپ ڈیٹ 07 فروری 2020

ای میل

عدالت کی جانب سے علاج کے لیے نواز شریف کو بیرونِ ملک قیام کے لیے 4 ہفتوں کی مہلت دی گئی —فائل فوٹو: اسکرین شاٹ
عدالت کی جانب سے علاج کے لیے نواز شریف کو بیرونِ ملک قیام کے لیے 4 ہفتوں کی مہلت دی گئی —فائل فوٹو: اسکرین شاٹ

لاہور: حکومت کے میڈیکل بورڈ نے بیمار سابق وزیراعظم نواز شریف کی ’تازہ‘ طبی رپورٹس کو ناکافی قرار دے دیا کہ جس کی بنیاد پر ان کے بیرونِ ملک قیام میں توسیع کے حوالے سے کوئی رائے دی جاسکے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 14 رکنی میڈیکل بورڈ نے طبی رپورٹس وزارت داخلہ اور صحت کو کوئی رائے دینے کے لیے ناکافی قرار دے کر واپس کردیں اور نواز شریف کے پلیٹلیٹس کے لیے نئی رپورٹس مانگ لیں۔

وزیر قانون پنجاب راجا بشارت نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ نواز شریف کی (تازہ) میڈیکل رپورٹس وزارت داخلہ کو موصول ہوگئی ہیں اور پنجاب حکومت اس سلسلے میں فیصلہ کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کی نواز شریف کو میڈیکل رپورٹس جمع کروانے

ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کے معالج ڈاکٹر عدنان کی کئی خواہشات ہیں لیکن ’ہم ان کی خواہشات کے مطابق فیصلہ نہیں کرسکتے‘۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نواز شریف کی رپورٹس سے مطمئن نہیں اور اس کے پاس اس ضمن میں عدالت جانے کا آپشن موجود ہے۔

قبل ازیں حکومت پنجاب نے نواز شریف سے 31 جنوری تک مزید تفصیلی رپورٹس جمع کروانے کا کہا تھا جس پر عمل نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ حکام ان کی درخواست کا فیصلہ دستیاب ریکارڈز کی بنیاد پر کر دیتے۔

یاد رہے کہ عدالت کی جانب سے علاج کے لیے نواز شریف کو بیرونِ ملک قیام کے لیے 4 ہفتوں کی مہلت دی گئی تھی جس کے اختتام پر سابق وزیراعظم نے 23 دسمبر کو قیام میں توسیع کی درخواست کے ساتھ میڈیکل رپورٹس جمع کروائی تھیں جنہیں صوبائی حکومت نے مسترد کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کا علاج مریم کے نہ ہونے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا، شہباز شریف

مسلم لیگ (ن) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی جانب سے تازہ رپورٹس طلب کیے جانے پر معاملہ کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش قرار دیا تھا۔

نواز شریف کی صحت اور بیرونِ ملک قیام

گزشتہ سال 21 اکتوبر 2019 کو نیب کی تحویل میں چوہدری شوگر ملز کیس کی تفتیش کا سامنا کرنے والے نواز شریف کو خرابی صحت کے سبب تشویشناک حالت میں لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ان کی خون کی رپورٹس تسلی بخش نہیں اور ان کے پلیٹلیٹس مسلسل کم ہورہے تھے۔

مقامی طور پر مسلسل علاج کے باوجود بھی بیماری کی تشخیص نہ ہونے پر نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال کر انہیں علاج کے سلسلے میں 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

جس پر سابق وزیراعظم 19 نومبر کو اپنے بھائی شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے ہمراہ قطر ایئرویز کی ایئر ایمبولینس کے ذریعے علاج کے لیے لندن گئے تھے۔

مزید پڑھیں:'حکومت کو نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس پر اعتراض ہے تو قانونی راستہ اختیار کرے'

علاج کے لیے لندن جانے کی غرض سے دی گئی 4 ہفتوں کی مہلت ختم ہونے پر 23 دسمبر کو سابق وزیر اعظم نے بیرونِ ملک قیام کی مدت میں توسیع کے لیے درخواست دی تھی جس کے ساتھ انہوں نے ہسپتال کی رپورٹس بھی منسلک کی تھیں۔

تاہم لندن کے ایک ریسٹورنٹ میں نواز شریف کی تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد ان کی بیماری کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا تھا جس پر صوبائی حکومت متعدد مرتبہ ان کی تازہ میڈیکل رپورٹس طلب کرچکی ہے۔