سینیٹ: وائرس سے متاثرہ چین کے ساتھ اظہار یکجہتی کی قرارداد منظور

اپ ڈیٹ 11 فروری 2020

ای میل

ایوان نے 2 مزید قرارداد منظور کیں جس میں سے ایک سینیٹر رحمٰن ملک نے پیش کی تھی—فائل فوٹو: اے پی پی
ایوان نے 2 مزید قرارداد منظور کیں جس میں سے ایک سینیٹر رحمٰن ملک نے پیش کی تھی—فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: ایوان بالا (سینیٹ) کے اجلاس میں نوول کورونا وائرس سے لڑنے والے ملک چین کی حمایت اور اظہار یکجہتی کے لیے پیش کی گئی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

ساتھ ہی اجلاس میں تشدد، زیر حراست موت اور زیر حراست جنسی تشدد کے حوالے سے بل پیش کیا گیا جبکہ پولیو کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد موضوع بحث بنی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ قرارداد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد حسین نے پڑھی جس میں کہا گیا تھا کہ ایوانِ بالا صدر شی جن پنگ کی مضبوط قیادت کو سراہتا ہے جو وائرس سے لڑنے کے لیے کامیاب آپریشن کی سربراہی کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ: اپوزیشن کا چین میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کا مطالبہ

دوران اجلاس سینیٹ نے پاکستانی شہریوں بالخصوص ووہان میں موجود طالبعلموں کے ساتھ اپنے شہریوں کی طرح سلوک روا رکھنے، انہیں تحفظ اور آرام پہنچانے پر چینی حکومت کی تعریف کی۔

اس کے علاوہ سینیٹ نے کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے مشکل حالات میں اپنے چینی بھائیوں کے ساتھ مکمل تعاون کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ پاکستانی ایوانِ بالا دنیا کی پہلی پارلیمان ہے جس نے چین کے ساتھ اس قسم کی یکجہتی کا اظہار کیا، سینیٹ قرار داد میں لگن، ہمت اور حوصلے کے ساتھ اس وبا کا مقابلہ کرنے پر چین کی حکومت اور عوام کی تعریف بھی کی گئی۔

اس کے ساتھ ایوان نے 2 مزید قرارداد منظور کیں جس میں سے ایک سینیٹر رحمٰن ملک نے پیش کی تھی، جس میں انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ بین الاقوامی کمیشن برائے انسانی حقوق بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد بھیجے۔

مزید پڑھیں: حکومت اور اپوزیشن سینیٹ اجلاس فروری کے اختتام تک جاری رکھنے پر متفق

دوسری قرارداد سینیٹر رخسانہ زبیری نے پیش کی جس میں انہوں نے حکومت کو اغوا اور گمشدہ ہوجانے والے افراد کے ساتھ تعاون کا انفرااسٹرکچر تشکیل دینے کی تجویز پیش کی۔

زیر حراست تشدد کے خلاف بل

ایوان بالا میں ’دی ٹارچر، کسٹوڈیل ڈیتھ اینڈ کسٹوڈیل سیکشوئل وائلینس (پریونشن اینڈ پنشمنٹ) ایکٹ 2019‘ کے عنوان سے پیش کردہ بل میں پاکستان پیپلز پارٹی کی پارلیمانی رہنما شیری رحمٰن نے کہا کہ ’گزشتہ ایک سے دو برس میں ہم نے پولیس کی حراست میں تشدد کے بڑھتے ہوئے کیسز دیکھے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا رویہ انتہائی ظالمانہ ہے کہ جس کے نتیجے میں کئی متاثرین کی موت بھی ہوئی، جن میں کچھ نام مثلاً صلاح الدین ایوبی اور عامر مسیح کو میڈیا کوریج ملی لیکن متعدد ایسے کیسز اور بھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بل ہماری ریاست کے مقامی قانون کو تشدد اور دیگر ظالمانہ، غیر انسانی یا ذلت آمیز برتاؤ کے خلاف اقوامِ متحدہ کے کنوینشن کے مطابق بنائے گا جس پر پاکستان نے بھی دستخط کیے ہیں'۔

پولیو کیسز

اجلاس میں پی پی پی کی سینیٹر سسی پلیجو نے ایوان میں پولیو کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کا معاملہ اٹھایا اور تجویز دی کہ معذور کرنے والے اس بیماری کے خاتمے کے لیے حکومت کو کوششیں کرنی چاہئیں۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ کمیٹی کا بچوں سے زیادتی کے کیسز پر 'دوہرے معیار' پر اظہار تشویش

اس پر وزیر پارلیمانی امور اعظم سوانی نے اتفاق کیا کہ مذکورہ مسئلے کے حل کے لیے مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے وائرس کی روک تھام کے لیے صوبوں کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ حکومت وائرس کے خاتمے کے لیے پُر عزم ہے۔

اعظم سواتی نے تجویز دی کہ میڈیا کو اس سلسلے میں عوامی آگاہی کی مہم چلانی چاہیے۔