لال مسجد خالی کرنے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے پر علاقے کی دوبارہ ناکہ بندی

اپ ڈیٹ 13 فروری 2020

ای میل

مسجد میں موجود افراد کو مسجد خالی کرنے کے لیے بدھ تک کا وقت دیا گیا تھا — فائل فوٹو: ڈان
مسجد میں موجود افراد کو مسجد خالی کرنے کے لیے بدھ تک کا وقت دیا گیا تھا — فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد: لال مسجد کے سابق خطیب و امام مولانا عبدالعزیز، ان کے اہلِ خانہ اور طلبہ کو لال مسجد خالی کرنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک مرتبہ پھر مسجد کے اطراف کی ناکہ بندی کردی۔

اس ضمن میں کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اور پولیس حکام نے ڈان کو بتایا کہ مسجد کا گھیراؤ اس لیے کیا گیا کہ وہاں موجود افراد کو مسجد خالی کرنے کے لیے بدھ تک کا وقت دیا گیا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکام نے کہا تھا کہ ان کا اتوار کے روز مولانا عبدالعزیز سے سمجھوتہ طے پاگیا تھا جس کے تحت انہیں جامعہ حفصہ کے لیے زمین الاٹ کی جائے گی اور وہ مسجد خالی کردیں گے البتہ مولانا کے بھتیجے ہارون رشید نے مسجد خالی کرنے کا کوئی سمجھوتہ ہونے کی تردید کی تھی۔

حکام کا کہنا تھا کہ حالیہ اقدام ترک صدر کے دورہ پاکستان اور بلاول بھٹو کی قومی احتساب بیورو (نیب) میں پیشی کے حوالے سے کیے گئے سیکیورٹی انتظامات کا حصہ ہیں کیوں کہ نیب کا دفتر لال مسجد کے قریب ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مولانا عبدالعزیز لال مسجد پر قابض، صورتحال کشیدہ

خیال رہے کہ ترک صدر پاکستان کے 2 روزہ دورے پر آج (جمعرات کو) اسلام آباد پہنچیں گے اور ریڈ زون میں قیام کریں گے۔

اس ضمن میں انسداد دہشت گردی فورس، پولیس کمانڈو، رائٹس پولیس اور خواتین اہلکاروں پر مشتمل ایک دستہ عصر کی نماز کے وقت لال مسجد پہنچا اور علاقے کی ناکہ بندی کردی۔

علاوہ ازیں لال مسجد کے اطراف میں میونسپل روڈ، مسجد روڈ اور شہید ملت روڈ کے ساتھ ساتھ مسجد کے قریب ہفتہ وار بازار پر بھی پولیس اہلکاروں کو تعینات کر کے مسجد میں داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا البتہ علاقہ مکینوں کو مسجد میں نماز کی ادائیگی کی اجازت تھی۔

علاقے میں تعینات اہلکار لوگوں سے ان کی رہائش کی تصدیق کے لیے شناختی کارڈ دکھانے کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ مشتبہ لگنے کی صورت میں تلاشی بھی لی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: مولانا عبدالعزیز جامعہ حفصہ کیلئے زمین کے وعدے پر لال مسجد چھوڑنے پر تیار

اس کے ساتھ کیپیٹل ایڈمنسٹریشن نے مسجد میں خواتین اور لڑکیوں کے داخلے پر بھی پابندی لگادی اور کہا کہ نماز معمول کے مطابق ہوگی لیکن صرف علاقہ مکینوں کو مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لیے داخل ہونے کی اجازت ہے۔

واضح رہے کہ لال مسجد محکمہ اوقاف کے زیر انتظام ہے اور عمومی طور پر صرف محکمے کے کسی عہدیدار کو ہی خطیب اور نائب خطیب تعینات کیا جاسکتا ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ قابضین خطیب اور نائب خطیب بنانے کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن مولانا عبدالعزیز اور نہ ہی ان کے بھتیجے ہارون رشید محکمہ اوقاف کے ملازم ہیں جبکہ جس گھر اور مدرسے کی ملکیت کا یہ دعویٰ کررہے ہیں وہ بھی مسجد کی سرکاری زمین پر تعمیر کیے گئے۔

اس حوالے سے عہدیدار نے بتایا کہ مولانا عبدالعزیز کے ساتھ بدھ کو مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا گیا اور دیوبند مکبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علما پر مشتمل ایک 8 رکنی کمیٹی اس میں شامل ہے۔

مولانا عبدالعزیز کا لال مسجد پر قبضہ

یاد رہے کہ مولانا عبدالعزیز کچھ روز قبل پابندی کے باوجود لال مسجد میں طلبہ کے ساتھ آکر قابض ہوگئے تھے اور حکام کا ردِ عمل جانچنے کے لیے نماز جمعہ کا خطبہ بھی دیا تھا جس میں اشتعال انگیز باتیں کی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیپیٹل انتظامیہ نے زمین کیلئے مولانا عبدالعزیز کا مطالبہ حکومت کو بھجوادیا

تاہم حکام نے اسے نظر انداز کردیا تھا البتہ صورت حال اس وقت کشیدہ ہوگئی تھی جب سیکڑوں طالبات نے اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 11 میں قائم جامعہ حفصہ میں داخل ہو کر اس کی سیل توڑ دی تھی۔

بعدازاں انتظامیہ نے مولانا عبدالعزیز کو لال مسجد خالی کرنے کا انتباہ دینے کے بعد مسجد کے باہر کے علاقے کا محاصرہ کرلیا تھا اور نماز جمعہ کے علاوہ کسی نماز کے لیے نمازیوں کو اندر جانے نہیں دیا گیا تھا۔

اس کے نتیجے میں دارالحکومت کی انتظامیہ کے افسران مولانا عبدالعزیز سے ملاقات کے لیے لال مسجد پہنچے لیکن مذاکرات اس لیے بے نتیجہ رہے کیونکہ مولانا کا اصرار تھا کہ وفاقی وزیر کے عہدے کی سطح کا کوئی عہدیدار ان سے بات چیت کرے۔

تنازع کے خاتمے کے لیے کالعدم اہل سنت والجماعت کی جانب سے اپنا کردار ادا کرنے اور سرکاری مسجد کے باہر ملاقات کے لیے بھی رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کیا گیا تھا جبکہ سیکیورٹی حکام نے اسلام آباد کی انتظامیہ سے صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے ملاقات کی۔

مزید پڑھیں: لال مسجد کے خطیب کو ہٹادیا گیا، مولانا عبدالعزیز کے داخلے پر بھی پابندی

بعدازاں اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے جامعہ حفصہ کی تعمیر کے لیے 20 کینال زمین الاٹ کرنے کے وعدے پر مولانا عبدالعزیز لال مسجد چھوڑنے پر رضامند ہو گئے تھے۔