ملازمین کی برطرفی کا معاملہ، پی آئی اے کی معاونت کیلئے کمیٹی قائم

اپ ڈیٹ 13 فروری 2020

ای میل

پی آئی اے میں بھرتی کے وقت اس کے عملے کے 700 سے زائد افراد نے جعلی ڈگریاں جمع کروائی تھیں — تصویر: پی آئی اے فیس بک
پی آئی اے میں بھرتی کے وقت اس کے عملے کے 700 سے زائد افراد نے جعلی ڈگریاں جمع کروائی تھیں — تصویر: پی آئی اے فیس بک

اسلام آباد: سینیٹر مشاہد اللہ خان نے جعلی ڈگریوں پر برطرف کیے گئے 700 سے زائد ملازمین کے کیسز پر نظرِ ثانی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) انتظامیہ کی معاونت کرنے کے لیے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہوا بازی کے چیئرمین نے اجلاس میں درخواست کی کہ ’ان میں زیادہ تر غریب افراد ہیں، انتظامیہ کو ان کی نوکریاں ختم کرنے کی سخت کارروائی کے بجائے نرم اقدام کرنا چاہیے‘۔

خیال رہے کہ سینیٹر مشاہد اللہ خان ایک سال سے زائد عرصے سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز پر اس کے ’سخت‘ فیصلے پر نظرِ ثانی کرنے اور بھرتی کے وقت جعلی ڈگریاں جمع کروانے والے ملازمین کو نسبتاً کم سخت سزا دینے کے لیے زور دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ملازمین کی برطرفی پر پی آئی اے سے وضاحت طلب

واضح رہے کہ پی آئی اے میں بھرتی کے وقت اس کے عملے کے 700 سے زائد افراد نے جعلی ڈگریاں جمع کروائی تھیں۔

معاملہ سامنے آنے پر 467 ملازمین کو برطرف کردیا گیا تھا جبکہ 201 سابقہ ملازمین نے اپنی ملازمت ختم کرنے کے خلاف عدالتوں سے حکمِ امتناع لے لیا تھا، برطرف کیے گئے ملازمین میں 16 پائلٹس بھی شامل ہیں۔

قائمہ کمیٹی نے افسران کی فہرست فراہم نہ کرنے اور جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر ملازمین کو بھرتی کرنے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر پی آئی اے انتظامیہ پر برہمی کا اظہار کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور کمیٹی کے چیئرمین مشاہد اللہ خان نے بھی ان افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ان (افسران) کے ساتھ بھی سختی سے نمٹنا چاہیے'۔

مزید پڑھیں: جعلی ڈگری کے حامل ملازمین کی برطرفی پر پی آئی اے پر سینیٹرز کی تنقید

سب کے ساتھ یکساں رویہ رکھنے پر زور دیتے ہوئے سینیٹر نے کچھ پی آئی اے ملازمین کی مثالیں بھی پیش کیں جنہیں ادارے نے جعلی ڈگری ہونے کے باوجود ان کے عہدوں پر بحال کیا۔

اس ضمن میں پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر کے مشیر ایئر وائز مارشل نور عباس نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ بذات خود 80 فیصد کیسز کا جائزہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے کمیٹی کے اراکین کو بتایا کہ ’3 سے 4 افراد کے علاوہ ان سب نے جعلی ڈگری جمع کروانے کا اعتراف کیا ہے جس میں کئی افراد نے تعلیمی اسناد میں تاریخ اور نمبرز تبدیل کر کے چھیڑ چھاڑ کی تھی‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جعلی ڈگریاں جمع کروانے والے ملازمین کا تعین کرنے کے لیے ایک انکوائری کا آغاز کردیا گیا ہے لیکن وہ اب بھی قومی ایئرلائن کے ملازم رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے ملازمین کی برطرفی پر سینیٹ پینل میں اختلاف

خیال رہے کہ قانون سازوں کی جانب سے نرمی دکھانے کی ہدایات کے باوجود پی آئی اے جعلی ڈگری جمع کروانے والے ملازمین کی برطرفی کا دفاع کرتی رہی ہے، پی آئی اے انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ان کا فیصلہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق ہے۔

قائمہ کمیٹی نے پی آئی اے کی جانب سے معاہدے کی دستاویزات پیش نہ کرنے پر دورانِ پرواز تفریح فراہم کرنے کے لیے ’ایک نااہل کمپنی کو 7 کروڑ کا ٹھیکہ دینے کی مشتبہ ڈیل‘ کے حوالے سے بریفنگ ملتوی کردی۔


یہ خبر 13 فروری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔