’معیشت پر سیاست نہیں، نیشنل اکنامک چارٹر لانے کا وقت ہے‘

اپ ڈیٹ 13 فروری 2020

ای میل

خسروبختیار کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان میں نجی شعبے میں سرمایہ کاری کی شرح محض 9 فیصد ہے — تصویر: ڈان نیوز
خسروبختیار کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان میں نجی شعبے میں سرمایہ کاری کی شرح محض 9 فیصد ہے — تصویر: ڈان نیوز

اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے تحفظ خوراک خسرو بختیار نے کہا ہے کہ یہ معیشت پر سیاست کرنے کا وقت نہیں بلکہ نیشنل اکنامک چارٹر لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ معاشی نمو ہی معیشت کی بہتری کا واحد حل نہیں بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ یہ گروتھ مستحکم ہے یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں صرف درآمد کر کے اشیا استعمال کی جائیں تو ترقی کیسے ہوگی، انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کے آغاز میں ایک ڈالر کی برآمدات کے مقابلے میں 1.3 ڈالر کی درآمدات تھیں جبکہ ان کی حکومت کے خاتمے کے وقت یہ تناسب ایک ڈالر برآمدات کے مقابلے میں 2.3 ڈالر کی درآمدات تک چلا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کھپت کی شرح 94 فیصد ہے اور پیداوار صفر ہے جبکہ بھارت میں 80 فیصد ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اقتصادی صورتحال میں تبدیلی‘ پر وزیراعظم اپنی معاشی ٹیم کے معترف

ان کا کہنا تھا کہ معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے کریڈٹ اور بینکس کو سیونگز کے ذریعے پیسہ حاصل ہوتا اور پاکستان میں سیونگز کی شرح صرف 10 فیصد ہے جبکہ بھارت میں یہ شرح 20 فیصد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی دہائیوں سے معاشی ڈھانچے کی جانب توجہ ہی نہیں دی گئی اور زرعی شعبے میں محض نصف فیصد کی شرح نمو ہوئی۔

خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ اگر پوری اپوزیشن 'ٹیکس رجیم' کی مخالفت کرے تو ٹیکس کلیکشن کی شرح 11 سے 12 فیصد ہی رہے گی، انہوں نے کہا کہ تجارتی کنکشنز کے صارفین کی تعداد 31 لاکھ ہے جس میں سے صرف 14 لاکھ افراد ٹیکس نیٹ میں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 50 لاکھ بینک کاؤنٹس ہولڈرز کی موجودگی میں محض 5 لاکھ افراد ٹیکس نیٹ میں موجود ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جب ملک پر قرضوں کا بوجھ 78 فیصد ہوگا تو اس کا سود ادا کرنے کے ساتھ حقیقی رقم بھی ادا کرنا ہوگی اور اگر اسی ریونیو کے ساتھ ہم چلیں گے تو مشکلات جاری رہیں گی۔

مزید پڑھیں: معیشت مستحکم ہوگئی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے، وزیراعظم

ان کا کہنا تھا کہ ہر وفاقی حکومت کا آغاز ہی خسارے سے ہوتا ہے کیوں کہ اگر حکومت مجموعی ملکی پیداوار کے 12 فیصد ٹیکس کی شرح پر 50 کھرب ریونیو بھی حاصل کرلے تو ساتویں ترمیم کے تحت 3 ہزار ارب روپے صوبوں کو دینے پڑتے ہیں اور ہر گزرتے سال کے ساتھ ان میں مشکلات کا سامنا ہر حکومت کو کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری وقت کی ضرورت ہے جس کے ملک میں سرمایہ کاروں کو عزت دینے کا رجحان پیدا کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان میں نجی شعبے میں سرمایہ کاری کی شرح محض 9 فیصد ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بینکس کے پاس دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا یہ المیہ ہے کہ ہم پالیسیاں تبدیل کرتے رہتے ہیں ایک دفعہ تمام بینکس قومیالیے گئے اور بعد ازاں سب کو پرائیویٹائز کردیا گیا۔

خسرو بختیار کے مطابق بینکس اچھے سود پر صرف حکومت یا اہم صنعتوں مثلاً سیمنٹ، کھاد، چینی وغیر کو پیسہ دے رہے ہیں جبکہ چھوٹے صنعتکار جنہیں سال 2000 تک مجموعی کریڈٹ کا 17-18 فیصد حصہ ملتا تھا آج صرف 6 فیصد حاصل کررہے ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ نئے شعبوں میں پیسہ پہنچانے کے لیے ہمیں نیشنل ڈیولپمنٹ فنانس انسٹیٹوٹشن بنانا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ خطے میں چین اور بھارت کی شرح نمو دیکھیں جبکہ اپنی آبادی پر نظر ڈالیں جو 2047 تک 40 کروڑ تک پہنچ جائے گی جسے اسی زمین سے خوراک مہیا کرنی ہوگی جبکہ ہماری پیداوار بڑھنے کے بجائے آج بھی فی ایکڑ پیداوار وہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’معیشت کیلئے کیے گئے مشکل فیصلوں کے ثمرات آنا شرو ع ہوگئے‘

انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش معاشی مشکلات کے باعث یہ معیشت پر سیاست کرنے کا وقت نہیں بلکہ ایک نیشنل اکنامک چارٹر لائیں اور 10 سالہ توانائی پالیسی پیش کریں۔

وفاقی وزیر برائے تحفظ خوراک نے کہا کہ دنیا میں توانائی کی پالیسی 10 سے 15 سال کے عرصے کے لیے بنتی ہیں ایسی صورتحال میں کون سرمایہ کاری کرے گا جب گردشی قرض ہی 12 ہزار ارب ہو؟ سرمایہ کاری لیے بجلی کے بہتر ٹیرف ضمانت اور سیکورٹیز دینی پڑتی ہیں جس کی وجہ سے فی ٹیرف پیداوار بڑھ جاتی ہے اور خمیازہ پورا ملک بھگتا ہے۔