تاثر دیا جارہا ہے حکومت سوشل میڈیا پر قدغن لگانے کا ارادہ رکھتی ہے، فواد چوہدری

اپ ڈیٹ 13 فروری 2020

ای میل

وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا  کے قواعد و ضوابط کنٹرول کرنے سے متعلق قانون کی منظوری دے دی— فوٹو: ڈان نیوز
وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا کے قواعد و ضوابط کنٹرول کرنے سے متعلق قانون کی منظوری دے دی— فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی وزیر برائے ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ تاثر دیا جارہا ہے کہ حکومت سوشل میڈیا پر قدغن لگانے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ سوشل میڈیا کے قواعد و ضوابط کنٹرول کرنے سے متعلق قانون میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ سوشل میڈیا جس طریقے سے اوپر جارہا ہے اور ڈیجیٹل میڈیا، فارمل میڈیا کی جگہ لے رہا ہے یہ بہت اہم ہے کہ اسے ریگولیٹ کیا جائے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ سوشل میڈیا ریگولیشن کے دو حصے ہیں, ریگولیشن کا پہلا حصہ یہ ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا کے جو اشتہارات ہیں وہ بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور بطورِ وزیر اطلاعات میں نے پیش گوئی کی تھی کہ روایتی میڈیا کے مقابلے میں ڈیجیٹل میڈیا پر ایڈورٹائزنگ بڑھ جائے گی۔

مزید پڑھیں: حکومت نے سوشل میڈیا ریگولیٹ کرنے کے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی

انہوں نے کہا کہ ہمارے صحافی پہلے ہی بحران کا شکار ہیں اور اگر یہ تمام اشتہارات ڈیجیٹل میڈیا پر چلے جائیں گے ریگولیشن نہیں ہوگی تو روایتی میڈیا کی مشکلات، ہمارے اپنے سیکٹر کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی لہٰذا اہم یہ ہے کہ ریونیو کے پہلو سے ان کمپنیوں کو ریگولیٹ کیا جائے اور انہیں یہاں لے کر آئیں تاکہ وہ ہماری معیشت کے فریم ورک کے تحت جواب دہ ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسری بات یہ ہے کہ یہاں پر خواتین، توہینِ مذہب اور دوسروں کی عزت کو تار تار کرنے کے حوالے سے سوشل میڈیا کو استعمال کیا جاتا ہے۔

وزیر ٹیکنالوجی نے کہا کہ سوشل میڈیا سے آگاہی رکھنے والے لوگوں کو معلوم ہے کہ سوشل میڈیا پر ایسے گروپس بنے ہیں جو 15، 20، 25 یا 30 ہزار روپے لے کر آپ کے خلاف ٹرینڈ چلاتے ہیں، آپ کے خلاف ایک پورا محاذ کھڑا کرتے ہیں، کئی خواتین کو بدنام کیا جاتا ہے اور ان کے پاس اس کی داد رسی نہیں ہے کہ وہ کیا کریں لہذا اس کو بھی ریگولیٹ کرنا ضروری ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ نقصان دہ مواد کو ریگولیٹ کرنا اہم ہوگا اس کا تعلق عام صارفین سے نہیں ہے جو یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ اس کے ذریعے سیاسی کنٹرول ہوگا یا حکومت سوشل میڈیا پر قدغن لگانے کا ارادہ رکھتی ہے تو اس قانون میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نقصان دہ مواد کے لیے ریگولیشن کی ہے اور اس میں کمپنیوں کو نمائندگی کا حق دیا ہے اور جس کے خلاف ہوگا اس کو بھی جواب دہی کا حق دیا گیا ہے تاکہ اس معاملے کو ہم ریگولیٹ کرسکیں۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ اس قانون کا تعلق کمپنیوں سے ہے لیکن اس سے سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے ملک میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی ہے جن کے تحت سوشل میڈیا کمپنیاں کسی تفتیشی ادارے کی جانب سے کوئی معلومات یا ڈیٹا مانگنے پر انہیں فراہم کرنے کی پابند ہوں گی اور معلومات مہیا نہ کرنے کی صورت میں ان پر 5 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان

اس میں جو معلومات فراہم کی جاسکتی ہیں ان میں صارف کی معلومات، ٹریفک ڈیٹا یا مواد کی تفصیلات شامل ہیں۔

ان قواعد و ضوابط کے تحت اگر کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو تحریری یا الیکٹرونک طریقے سے ’غیر قانونی مواد‘ کی نشاندہی کی جائے گی تو وہ اسے 24 گھنٹے جبکہ ہنگامی صورتحال میں 6 گھنٹوں میں ہٹانے کے پابند ہوں گے۔

’پیپلز پارٹی کے کچھ اراکین نے گھٹیا گفتگو کی‘

علاوہ ازیں فواد چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی سے ایسی بات کی توقع نہیں کی جاتی کیونکہ ماننا پڑے گا کہ سب سے طاقتور پارلیمانی گروہ ہے اور سب سے زیادہ تجربہ پیپلزپارٹی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے کچھ اراکین نے اتنی گھٹیا اور بازاری گفتگو کی، کچھ اراکین نے جس طریقے کی گفتگو وفاقی وزیر مراد سعید کے اوپر کی اور باقی جو ذاتی حملے کیے گئے اس پر مجھے بہت افسوس ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے خلاف تحقیقات مسلم لیگ (ن) کے دور میں شروع ہوئیں تھیں اور یہ نیب کررہا ہے جس کا کوئی انتظامی کنٹرول ہمارے پاس نہیں ہے۔