عدالت کا نیب کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے اختیارات کی جانچ کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 14 فروری 2020

ای میل

گرفتاریوں کے لامحدود اختیارات شہریوں کے بنیادی حقوق سے متصادم ہیں — فائل فوٹو: ڈان
گرفتاریوں کے لامحدود اختیارات شہریوں کے بنیادی حقوق سے متصادم ہیں — فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد ہائی کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کی جانب سے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے اختیارات کی جانچ پڑتال کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے کہا کہ گرفتاریوں کے لامحدود اختیارات شہریوں کے بنیادی حقوق سے متصادم ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کی ضمانت بعد ازا گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت کی۔

بینچ نے دونوں کیسز کی سماعت 20 فروری تک ملتوی کردی جبکہ سماعت میں زیادہ تر وقت نیب چیئرمین کو حاصل گرفتاری کے اختیارات کا تعین کرنے میں صرف کیا۔

یہ بھی پڑھیں: شاہد خاقان، احسن اقبال کی درخواست ضمانت پر جواب جمع کروانے کیلئے نیب کو مہلت

جسٹس اطہر من اللہ نے نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب خان بھروانہ اور تفتیشی افسران سے شاہد خاقان عباسی کے خلاف دائر ایل این جی ٹرمینل کیس اور نارووال اسپورٹس سٹی (این ایس سی) منصوبے کے حوالے سے متعدد سوالات پوچھے جس میں احسن اقبال کو انکوائری کا سامنا ہے۔

حیرت انگیز طور پر نیب پروسیکیوشن دونوں کیسز میں انکوائری کے مرحلے پر وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے حوالے سے عدالت کے پوچھے گئے سوالات کے قابل تشفی جوابات نہ دے سکے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ بغیر کسی جواز کے شہریوں کی حراست ان کے بنیادی حقوق، آزادی اور وقار کے منافی ہے۔

انہوں نے نیب پراسیکیوشن کے ساتھ ساتھ تفتیشی افسران کو یہ واضح کرنے کا کہا کہ ’وہ کون سے عوامل تھے کہ جس پر نیب کو وارنٹ گرفتاری جاری کرنے پڑے‘۔

مزید پڑھیں: ایل این جی ریفرنس: شاہد خاقان عباسی کا ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

جس کے جواب میں تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ احسن اقبال تفتیشی ٹیم کے ساتھ تعاون نہیں کررہے تھے جس پر احسن اقبال کے وکیل نے عدالت کے سامنے طلبی کے تمام 6 نوٹسز پیش کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر داخلہ نیب کے ساتھ نیب کے ساتھ تعاون کررہے تھے اور جب بھی بلایا گیا وہ تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے اور چھٹی پیشی پر تفتیشی افسر نے انہیں نیب دفتر کے احاطے سے گرفتار کرلیا۔

جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ’آپ کو کیوں لگا کہ گرفتاری ناگزیر ہے اور ایسی کیا وجہ تھی کہ جس کی بنا پر آپ کو یقین تھا کہ بغیر گرفتاری کے تفتیش نہیں ہوسکتی‘۔

جواب میں نیب کے تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ خدشات تھے کہ احسن اقبال شواہد میں چھیڑ چھاڑ کرسکتے ہیں، جس پر بینچ نے کہا کہ ’جب انکوائری آپ کے سپرد کی گئی تو کیا آپ نے متعلقہ ریکارڈ اپنی تحویل میں نہیں لیا تھا‘۔

جس پر تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ احسن اقبال بہت بااثر ہیں انہوں نے 2019 میں اس وقت اسپورٹس سٹی منصوبے میں ساز باز کی جب وہ وزیر بھی نہیں تھے جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ’اگر گرفتاری کا جواز پیش نہیں کیا گیا تو یہ تشدد گردانا جائے گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ: مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی درخواست ضمانت پر نیب کو نوٹس

دوسری جانب نیب کے پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ احسن اقبال کے فرار ہونے کا امکان تھا جس پر عدالت نے پوچھا کہ کیا ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں درج کیا گیا تھا تو ان کا جواب نفی میں تھا۔

ڈیتھ سیل

درخواست ضمانت کی سماعت میں شاہد خاقان عباسی کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ خان نے عدالت کو بتایا کہ سابق وزیراعظم کو حراست میں لیے 205 روز گزر چکے ہیں اور انہیں سزائے موت کے قیدیوں کے سیل میں رکھا ہوا ہے۔

اس پر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے نیب سے استفسار کیا کہ شاہد خاقان عباسی کو کیوں ڈیتھ سیل میں رکھا گیا ہے تو نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ سابق وزیر اعظم نیب کی حراست میں نہیں ہیں وہ جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں اس لیے عدالتی لاک میں رکھا گیا ہے۔