مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف'غداری کیس' کے بیان پر اپوزیشن کا حکومت کو چیلنج

اپ ڈیٹ 15 فروری 2020

ای میل

علی محمد خان نے کہا کہ حکومت کو کسی کو ہدف بنانے کا کوئی ارادہ نہیں—فائل فوٹو: اے  ایف پی
علی محمد خان نے کہا کہ حکومت کو کسی کو ہدف بنانے کا کوئی ارادہ نہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف حکومت 'گرانے' کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلنے سے متعلق وزیراعظم عمران کے بیان پر اراکین قومی اسمبلی نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت ایسا کرسکتی ہے تو کرکے دکھائے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن نے متفقہ طور پر مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف ایسے کسی قسم کے حکومتی اقدام کے خلاف آواز اٹھائی اور حکومت کو چیلنج کیا کہ ’اگر کرسکتے ہیں تو کر کے دکھائیں‘۔

پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر غداری کا مقدمہ بنایا گیا تو یہ مولانا فضل الرحمٰن اور مسلم لیگ (ن) خواجہ آصف کے ساتھ زیادتی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمٰن پر آرٹیکل 6 کا مقدمہ ہونا چاہیے، عمران خان

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہاں سب سے زیادہ مطلوب دہشت گرد احسان اللہ احسان فرار ہوجاتا ہے لیکن مقدمات صرف سیاسی قیادت کے خلاف بنائے جاتے ہیں‘۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت کو وضاحت کرنی چاہیے کہ سیاستدانوں کے خلاف کن وجوہات اور کن الزامات کے تحت غداری کے مقدمات قائم کیے جائیں گے۔

اس ضمن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں کو عمران خان سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ انہوں نے جمہوریت کے لیے ہر قربانی دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’یہاں کراچی کے سابق ایس ایس پی راؤ انوار اور کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے احسان اللہ احسان آزاد گھوم رہے ہیں جبکہ سیاستدانوں کے خلاف مقدمات بنائے جارہے ہیں، اس قسم کی راہیں نہ کھولیں یہ خطرناک ہے‘۔

مزید پڑھیں: عمران خان کے استعفیٰ کی یقین دہانی پر دھرنا ختم کیا، مولانا فضل الرحمٰن

خواجہ آصف نے کہا کہ ملک میں قیمتوں میں بے پناہ اضافے سے توجہ ہٹانے کے لیے حکمران غداری کے مقدمات بنانے کی بات کررہے ہیں، ’غداری کا مقدمہ ان (پی ٹی آئی رہنماؤں) کے خلاف بنانے چاہیے جنہوں نے پی ٹی وی پر حملہ کیا۔

اس ضمن میں مولانا فضل الرحمٰن کے بیٹے اور رکن اسمبلی مولانا اسد محمود نے ایوان میں کہا کہ ’آرٹیکل 6 مولانا پر نہیں بلکہ سیلیکٹڈ وزیراعظم پر لگنا چاہیئے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں آپ (وزیراعظم) کو چیلنج کرتا ہوں کہ ہمارے خلاف مقدمات بنائیں، ہم وہ نہیں کریں گے جو یہ (حکومت) چاہتی ہے‘۔

اس پر وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ حکومت کو کسی کو ہدف بنانے کا کوئی ارادہ نہیں لیکن مولانا فضل الرحمٰن کو قوم کو بتانا پڑے گا انہیں کس نے حکومت گرانے کی یقنی دہانی کروائی۔

وزیراعظم نے کیا کہا تھا؟

واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حکومت گرانے سے متعلق بیان پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف آرٹیکل 6 کا مقدمہ ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد دھرنا ختم، نئے محاذ پر جانے کا اعلان

انہوں نے کہا تھا کہ خفیہ ادارے نواز-زرداری کی کرپشن سے پوری طرح آگاہ ہیں اور اداروں کو یہ بھی پتہ ہے کہ میں پیسے نہیں بنا رہا بلکہ دن رات محنت کر رہا ہوں، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت کہیں نہیں جارہی بلکہ اپنی مدت پوری کرے گی۔

خیال رہے کہ وزیراعظم کے ریمارکس مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے رواں ہفتے دیے گئے ایک بیان کے جواب میں سامنے آئے۔

جے یو آئی ف کے سربراہ نے کہا تھا کہ انہوں نے گزشتہ برس اپنا آزادی دھرنا اس لیے ختم کیا کیونکہ انہیں یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ عمران خان کا استعفیٰ ہوگا اور 3 ماہ میں نئے انتخابات ہوں گے۔