حکومت سے سوشل میڈیا پر 'قد غن' نہ لگانے کا مطالبہ

16 فروری 2020

ای میل

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے حکومت سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کردیا — فائل فوٹو: اے ایف پی
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے حکومت سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کردیا — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: جہاں سوشل میڈیا پر نئے ریگولیشنز کے معاملے پر حکومت پر تنقید کی جارہی ہے وہیں انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) اور صحافتی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے حکومت سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایچ آر سی پی نے نئے قوانین پر گہری تشویش کا اظہار کیا جس کے تحت سوشل میڈیا پر مجازی اداروں کو آزادی اظہار رائے کو 'مذہبی، ثقافتی، نسلی و قومی سلامتی کے لیے حساس مسائل' کا تحفظ کرنے کے لیے کنٹرول حاصل ہوگا۔

انہوں نے پی ایف یو جے کی جانب سے حکومت پر تنقید اور قدغن کو روکنے کے مطالبے کی حمایت بھی کی۔

مزید پڑھیں: حکومت نے سوشل میڈیا ریگولیٹ کرنے کے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی نے پیش کردہ نئے قوانین کا دوبارہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔

مجوزہ قانون سازی سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کو لکھے گئے خط میں انہوں نے شہریوں کے تحفظ (آن لائن نقصان کے خلاف) قواعد کو اپنانے کے لیے پینل کا اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ بھی کیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ یہ پیرنٹ ایکٹ کے مطابق ہیں یا نہیں۔

سینیٹ کے سابق چیئرمین نے کہا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونکیشنز نے قوانین کا مسودہ تیار کرنے کے لیے اپنے اختیارات استعمال کرنے کا اردہ پاکستان ٹیلی کمیونکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 کے تحت سیکشن 8 کی ذیلی سیکشن (2) (اے) کی شق (سی)، سیکشن 54 کے ذیلی سیکشن (1)، سیکشن 57 کی سیکشن (2) کی شق (اے جی) اور الیکٹرانک کرائم ایکٹ کی دفعہ 35، 37، 48 اور 51 کے تحت کیا۔

انہوں نے لکھا کہ 'قائمہ کمیٹی کو ان قوانین کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ یقینی بنایا جاسکے کہ یہ پیرنٹ قوانین سے مطابقت رکھتے ہیں'۔

پاکستان ٹیلی کمیونکیشن ایکٹ کے سیکشن 8 (2 اے) (سی) کے تحت کابینہ اور اس کی جانب سے مجاز کوئی بھی کمیٹی، ٹیلی کمیونکیشن سیکٹر سے متعلق معاملات پر قومی سلامتی، پاکستان حکومت کے تعلقات اور سرحد پار کسی بھی ملک کی ضروریات پر پالیسی ہدایات جاری کرنے کا اختیار رکھتی ہیں'۔

ایکٹ کے سیکشن 54 (1) میں کہا گیا ہے کہ 'قومی سلامتی کے مفاد میں یا کسی جرم کی گرفت میں، وفاقی حکومت کسی بھی شخص یا افراد کو کالز اور پیغامات میں مداخلت کرنے یا کسی بھی ٹیلی کمیونکیشن کے نظام کے ذریعے کالوں کا سراغ لگانے کا اختیار دے سکتی ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: وکلا تنظیموں کا سوشل میڈیا ریگولیشن پر اظہار تشویش

سیکشن 57 (2) (اے جی) حکومت کو ٹیلی کمیونکیشن سیکٹر میں قومی سلامتی کے لیے اقدامات کرنے کا اختیار دیتی ہے۔

پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے سیکشن 37 کے مطابق 'وفاقی حکومت اس ایکٹ کے تحت جرائم کی تحقیقات اور ان کے خلاف کارروائی کے مقصد کے لیے جمع کیے گئے الیکٹرانک شواہد کے سلسلے میں عدالت کے سامنے ماہرین کی رائے فراہم کرنے کے لیے یا تحقیقاتی ایجنسی کے فائدے کے لیے تفتیشی ایجنسی سے آزاد ایک فرانزک لیبارٹری قائم کرے یا اس کو نامزد کرے گی'۔

ایچ آر سی پی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے بنائے گئے ان قوانین کی منظوری پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ 'اس طرح کے اقدامات، جو بغیر سول سوسائٹی کے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے اٹھائے گئے ہیں، کی کوئی باوثوق وضاحت نہیں ہے'۔