خیبرپختونخوا: 8 سالہ بچی کی تشدد زدہ لاش برآمد

اپ ڈیٹ 16 فروری 2020

ای میل

بچی کی لاش کو طبی معائنے کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کردیا گیا —فوٹو: رائٹرز
بچی کی لاش کو طبی معائنے کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کردیا گیا —فوٹو: رائٹرز

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں پولیس نے 8 سالہ بچی کی تشدد زدہ لاش برآمد کرلی۔

اس حوالے سے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) شاہد احمد نے بتایا کہ پولیس نے اتوار کے روز 8 سالہ بچی کی لاش برآمد کی۔

مزید پڑھیں: کمسن بچی کا ممکنہ طور پر ’ریپ‘ کے بعد قتل ہوا،آئی جی خیبر پختونخوا

پولیس نے بتایا کہ لاش ضلع ہنگو کے سارو خیل گاؤں میں جھاڑیوں سے ملی اور ساتھ ہی خدشہ ظاہر کیا کہ بچی کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ لاش طبی معائنے کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کردی گئی ہے۔

ڈی پی او نے ڈان نیوز کو بتایا ہفتے کی دوپہر کو لڑکی چیز خریدنے کے لیے ایک دکان پر گئی تھی لیکن واپس نہیں آئی۔

شاہد احمد نے بتایا کہ لاپتہ ہونے والی لڑکی کے اہل خانہ اور علاقے کے رہائشیوں نے بچی کی تلاش شروع کردی لیکن اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا تھا تاہم اہلخانہ نے اتوار کی صبح پولیس کو اطلاع دی۔

یہ بھی پڑھیں: ہری پور میں 10 سالہ بچی کا ریپ

ڈی پی او احمد نے بتایا کہ ایف آئی آر میں درج کی گئی، جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 اور خیبرپختونخوا چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کی دفعہ 50 شامل کی گئی ہیں۔

بعد ازاں پولیس نے بتایا کہ لاش ضلع ہنگو کے سارو خیل گاؤں میں جھاڑیوں سے ملی۔

علاوہ ازیں ڈی پی او نے بتایا کہ بچی کے جسم پر خراش کے نشانات ہیں جس سے خدشہ ہے کہ بچی کا گلا گھونٹنے سے پہلے اس کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی اور اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گولی کا زخم بھی دکھائی دے رہا ہے۔

ڈی پی او احمد نے بتایا کہ پولیس دو مشتبہ افراد کی نگرانی کر رہی ہے لیکن میڈیکل رپورٹ کا انتظار ہے جس کے بعد مزید تفتیش ہوسکتی ہے۔

مزیدپڑھیں: نوشہرہ میں 9 سالہ بچی ریپ کے بعد قتل

ڈی پی او نے بتایا کہ متاثرہ بچی کے جسم سے نمونے اکٹھا کرکے جانچ کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ڈاکٹر اسرار حسین نے بتایا کہ 24 گھنٹوں میں ایک مفصل اور حتمی رپورٹ موصول ہوجائے گی۔

آئی جی کا واقعہ پر نوٹس

اس ضمن میں بتایا گیا کہ انسپکٹر جنرل خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثنا اللہ عباسی نے 8 سالہ کمسن بچی کے قتل کا نوٹس لے لیا۔

آئی جی نے ڈی آئی جی کوہاٹ اور ڈی پی او ہنگو کو تفتیش کے تقاضے پورے کرنے کی ہدایت کردی۔

انہوں نے مقدمے کی تفتیش اور مجرمان کی فوری گرفتاری کے لیے تجربہ کار افسران کی ٹیم تشکیل دینے پر زور دیا۔