افغانستان میں تشدد میں کمی کے معاہدے کا اطلاق 5دن میں ہو جائے گا، وزیر داخلہ

18 فروری 2020

ای میل

امریکی عہدیدار کے مطابق طالبان سے قطر میں ہونے والے مذاکرات میں ایک ہفتے تشدد میں کمی کا اصولی معاہدہ ہوا تھا— فائل فوٹو: اے ایف پی
امریکی عہدیدار کے مطابق طالبان سے قطر میں ہونے والے مذاکرات میں ایک ہفتے تشدد میں کمی کا اصولی معاہدہ ہوا تھا— فائل فوٹو: اے ایف پی

افغانستان کے قائم مقام وزیر داخلہ مسعود اندرابی نے کہا ہے کہ امریکی افواج اور طالبان کی جانب سے تشدد میں کمی کے لیے معاہدے کا اطلاق پانچ دن کے اندر ہو جائے گا۔

خبر ایجنسی رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ گزشتہ ہفتے طالبان سے قطر میں ہونے والے مذاکرات میں ایک ہفتے کے اندر تشدد میں کمی کا اصولی معاہدہ ہوا تھا لیکن 7 دنوں پر مشتمل اس عرصے کا ابھی آغاز نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: افغان صدارتی انتخاب میں اشرف غنی کی کامیابی کا باضابطہ اعلان

افغانستان کے قائم مقام وزیر داخلہ مسعود اندرابی نے کہا کہ تشدد میں کمی کے دور کا آغاز آئندہ پانچ دن میں ہو جائے گا جو طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں طے پایا ہے۔

طالبان نے دو روز قبل افغانستان میں سرکاری فورسز پر حملہ کیا تھا اور ان کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ امریکا سے معاہدے کے حوالے سے تازہ ہدایات موصول ہونے تک وہ حملوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

یاد رہے کہ طالبان افغانستان کی حکومت سے براہ راست مذاکرات سے انکار کر چکے ہیں کیونکہ وہ انہیں امریکا کی کٹھ پتلی سمجھتے ہیں۔

منگل کو طالبان نے صوبہ کپیسہ میں سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں حکومتی ملیشیا کے 9 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے جبکہ طالبان کا کہنا تھا کہ مرنے والے ملیشیا کی تعداد 11 ہے۔

قائم مقام افغان وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ اگر معاہدے کی مدت کے دوران حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو افغانستان میں موجود عالمی افواج اس کا بھرپور جواب دیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: طالبان رواں ماہ کے اختتام تک امریکا سے معاہدہ کیلئے پرامید

دوحہ میں موجود ایک سینئر طالبان رہنما نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ معاہدے پر فروری کے اختتام تک دستخط متوقع ہیں۔

یاد رہے کہ افغانستان میں دو دہائیوں سے جاری جنگ امریکا میں نائن الیون کے القاعدہ کے حملے کے بعد شروع ہوئی تھی اور اب امریکا اپنی تاریخ کی اس طویل ترین جنگ کے جلد از جلد خاتمے کا خواہاں ہے۔

امریکی اعلیٰ حکام پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ امریکی فوج کے انخلا کا معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں بھی وہ افغانستان میں موجود 13ہزار امریکی فوجیوں کی تعداد کم کر کے 8ہزار 600 کردیں گے۔