بھارتی حکام کا مقبوضہ کشمیر میں وی پی این کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز

اپ ڈیٹ 19 فروری 2020

ای میل

2018 میں دنیا میں انٹرنیٹ بند کرنے والے ممالک میں بھارت سب سے آگے تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی
2018 میں دنیا میں انٹرنیٹ بند کرنے والے ممالک میں بھارت سب سے آگے تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی

بھارتی حکام نے مقبوضہ کشمیر میں سوشل میڈیا پر مہینوں سے جاری پابندی کے باعث ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) ایپلی کیشنز کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا۔

برطانوی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کی ر پورٹ کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں محدود موبائل ڈیٹا سروس اور انٹرنیٹ بحال کرنے کے بعد سوشل میڈیا نیٹ ورکس جیسا کہ فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام تاحال بلاک ہیں لہذا رہائشی افراد پابندیوں کی وجہ سے وی پی اینز یا پراکسی سرورز استعمال کررہے ہیں۔

پولیس نے کہا کہ اکثر وی پی این صارفین مقبوضہ کشمیر میں افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کررہے تھے اور انہیں کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔

سائبر پولیس کے سربراہ طاہر اشرف نے کہا کہ ’ہم نے 100 سوشل میڈیا صارفین کی نشاندہی کی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال، جعلی اور جھوٹی علیحدگی پسند اور بھارت مخالف پروپیگنڈا کرنے پر مزید صارفین کی شناخت کی جارہی ہے‘۔

مزید پڑھیں: 5 اگست 2019 سے 5 فروری 2020 تک مقبوضہ کشمیر کی آپ بیتی

ایک ترجمان نے کہا کہ پولیس نے میسجنگ نیٹ ورکس تک رسائی کے لیے پراکسی سرورز استعمال کرنے والے اور بھارت مخالف پروپیگنڈا پھیلانے والے سوشل میڈیا صارفین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

خیال رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے گزشتہ برس اگست میں مقبوضہ کشمیر سے خصوصی اختیارات واپس لے لیے تھے۔

بھارتی حکومت نے سیکڑوں افراد کو حراست میں لے لیا تھا اور مواصلاتی بلیک آؤٹ نافذ کرتے ہوئے کہا تھا کہ لوگوں کو سڑکوں پر احتجاج سے روکنے کی ضرورت ہے۔

وی پی اینز کے ذریعے صارفین اسمارٹ فون یا لیپ ٹاپ کے ڈیٹا کنیکشن کو مقامی انٹرنیٹ کے سروس پرووائیڈر نیٹ ورک کے بجائے نجی شعبے سے منسلک کرسکتے ہیں جس سے صارف کو ان سائٹس تک رسائی حاصل ہوجاتی ہے جو مقامی سطح پر بلاک ہوں۔

سری نگر کے کاروباری شخص 37 سالہ عادل الطاف نے کہا کہ انہوں نے اپنے موبائل فون میں درجنوں وی پی این ایپس ڈاؤن لوڈ کی ہیں، وہ بلاک کرتے جائیں گے میں دیگر وی پی اینز پر منتقل کرتا جاؤں گا۔

مقبوضہ کشمیر کی رہائشی سلیمہ جان نے کہا کہ انہوں نے اپنے بیٹے سے ویڈیو چیٹ کے لیے پراکسی سرور استعمال کیا تھا جو بھارت کے شمالی شہر چندی گڑھ کے کالج میں پڑھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آرٹیکل 370 کی منسوخی، مقبوضہ کشمیر آج دو حصوں میں تقسیم ہوجائے گا

نریندر مودی کی حکومت نے نئے شہریت قانون کے خلاف بڑھتے ہوئے مظاہروں کے باعث مقبوضہ کشمیر سمیت ملک کے مختلف حصوں اور دارالحکومت نئی دہلی میں بھی کچھ مقامات پر انٹرنیٹ رسائی پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔

انٹرنیٹ ایڈووکیسی گروپ ایکسیس ناؤ کی رپورٹ 2018 میں دنیا میں انٹرنیٹ بند کرنے والے ممالک میں بھارت سب سے آگے تھا۔

جموں و کشمر ٹیلی کام عہدیدار نے کہا کہ سافٹ انجینئرز کی ٹیمیں مقبوضہ کشمیر میں وی پی این کے استعمال میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کررہی ہیں۔