افسانہ: سراپ

06 مارچ 2020

ای میل

ایسا لگتا ہے جیسے زندگی میں سب کچھ اینٹی کلائیمکس کی جانب بڑھ رہا ہو۔ ہماری محبتیں، رفاقتیں، انسانیت، احساسات، جذبات، سُکھ چین، سبھی کچھ اینٹی کلائیمکس کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

ہم کیوں نہیں سمجھ پاتے کہ کسی کی طویل خاموشی، کسی کا سالوں پر بندھا ہوا صبر کسی کے لیے دائمی سزا کا مؤجب بن سکتا ہے۔

صبح سے برسنے والی ہلکی پھوار اب موسلادھار بارش میں بدل چکی تھی۔ کمرے میں موجود کھڑکی کے اُس پار گلیڈی اوس کے لمبے پتے باؤنڈری وال کے برابر میں تیز ہوا کے جھونکوں سے اٹکھیلیاں کر رہے تھے۔

موسلادھار بارش کی وجہ سے برائے نام لان تالاب سا نظر آنے لگا تھا۔

ساری زندگی ایک لاحاصل دوڑ میں شامل رہا۔ اس کشمکش کی برزخ سے فرار کا کوئی راستہ ہی نہیں سوجھا تھا۔ بس دوڑتا ہی رہا۔ دولت کے نشے اور اس کے بے وفا پیمانے کے پیچھے ساری سوجھ بوجھ نے بیگانہ کرکے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا تھا۔

میں یہ کیوں نہ سمجھ سکا کہ اس دہکتے ہوئے زمین کے گولے پر پیسوں سے پیار، فالتو کی شعبدہ بازی اور نظر کے دھوکے کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ قیمتی تو احساسات پر مبنی وہ رشتے تھے جنہیں میں کھوٹے سکے سمجھ کر پھینک چکا تھا۔ میرے دل پر تو دولت کی مہر لگ چکی تھی۔ کاغذی نوٹوں کو حاصل کرنے کے لیے میں نے کیا کچھ نہیں کیا۔

دھوکہ، فریب، فراڈ، کرپشن اور نہ جانے کیا کچھ! میں ہر جرم بڑی منصوبہ بندی سے کرتا تھا کہ کوئی بھی ثبوت میرے کردار کو مشکوک نہ بنا سکے، تبھی تو آج تک میرے خلاف کوئی بھی ثبوت کسی کے ہاتھ نہیں لگ سکا تھا۔

نجی طبّی مرکز میں نائٹ شفٹ شروع ہوچکی تھی۔ صبح کی شفٹ کی تمام نرسیں اور ڈاکٹر اپنی اپنی ڈیوٹی سے فارغ ہوکر اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوچکے تھے اور نائٹ شفٹ کا اسٹاف آخری راؤنڈ لینے کے بعد گھوڑے بیچ کر سو رہا تھا۔

ہسپتال کا مرکزی دروازہ حسبِ معمول رات کے تقریباً 2 بچے بند کردیا گیا۔

ہسپتال کی چہل پہل، لوگوں کی سرگوشیاں، ہلکے قہقہے اور قدموں کی بے آواز آہٹیں دُور تک پھیلی ہوئی سیاہ کالی رات کی خاموشی میں ڈوب گئی تھیں۔

لگتا ہے آدھی رات گزر چکی ہے۔ صرف میں ہسپتال کی دوسری منزل کے کمرہ نمبر 11 میں جاگ رہا ہوں۔

میں نے ایک نظر کھڑکی میں لگے شفاف شیشے میں سے باہر جھانک کر دیکھا۔ ہسپتال کو جاتے سارے راستوں پر تاحدِ نگاہ ویرانی چھائی ہوئی تھی۔ دکانوں پر لگے سائن بورڈز پر گرتے بارش کے پانی نے ماحول کو کچھ عجیب خوفزدہ سا بنا دیا تھا۔ شہر کی بے حساب بے ترتیب ٹریفک کی بھیڑ نہ جانے کہاں گم ہوچکی تھی۔

چاروں طرف کتنا پُراسرار سنّاٹا چھایا ہوا ہے۔ اچانک بہت پہلے دیکھی گئی ہولی وڈ فلم کا ایک ڈراؤنا منظر میرے ذہن میں ابھر آیا۔

ایک ہی پل میں کس طرح منظر بدل جاتے ہیں۔

زندگی بھی تو ایسے ہی اپنے منظر بدلتی رہتی ہے۔

یہ مجھے کیا ہو رہا ہے۔

میرا سانس کیوں گھٹ رہا ہے۔ شاید مجھے ٹھنڈی اور تازہ ہوا کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔

ایک ہی جھٹکے سے میں نے کھڑکی کے دونوں پٹ کھول دیے۔

شاید اندر میں سمائی ہوئی گھٹن نے مجھے بے چین کردیا ہے۔

کھڑکی سے آتی ہوئی سرد ہوا میں لمبے لمبے سانس لے کر میں خود کو پُرسکون محسوس کرنے لگا۔

کچھ تو ہوا ہے، من میں سونامی کیوں مچل رہا ہے۔

تاریکی لمحہ بہ لمحہ گہری ہوتی جا رہی تھی۔

سرد تیز نمناک ہواؤں کا زور بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ میں اسی انداز میں کھلی ہوئی کھڑکی کے آگے کھڑا رہا۔

کچھ تو ہوا ہے۔

سچ ہے کہ روح میں اترتے ہوئے سنّاٹوں کو باہر کی رونقیں متاثر نہیں کرتیں۔ لیکن جو کچھ میں نے چاہا وہی تو ہو رہا ہے۔ تو میں پھر اتنا پریشان کیوں ہوں؟ اتنا پشیمان کیوں ہو رہا ہوں۔

ضمیر کی عدالت میں کوئی بھی دلیل کوئی بھی تاویل کوئی بہانہ کام نہیں آتا۔ کھڑکی سے باہر نظر آنے والے آسمان پر کالی چادر تنی ہوئی تھی۔ موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری تھا۔

راحیل، بے ساختہ میں ہونٹوں میں بڑبڑایا۔

27 سے 28 برس کے اس خوبصورت نوجوان کی آنکھوں میں کوئی تو غیر معمولی بات تھی جس نے مجھے متاثر کیا تھا۔

اس سے ملنے سے 2 دن پہلے میرے انتہائی قریبی دوست کریم نے فون کیا تھا کہ راحیل ایک باصلاحیت لڑکا ہے، مجھے پورا یقین ہے کہ وہ ہمارے لیے ایک بہتر اضافہ ثابت ہوگا۔

میں نے انکار کرتے ہوئے کہا ایسے ایک دم کسی انجان پر اتنا اندھا بھروسہ کرکے کسی مشکل میں نہیں پڑنا چاہتا۔

لیکن کریم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آپ ایک دفعہ اس سے مل تو لو پھر بعد میں فیصلہ کرنا کہ وہ ہمارے لیے بہتر اضافہ ثابت ہوسکتا ہے یا نہیں۔

دوسرے دن میز کی دوسری طرف بیٹھے ہوئے نوجوان نے اپنے ہاتھوں میں پکڑی ہوئی فائل کو میرے آگے رکھتے ہوئے کہا، سر میں راحیل ہوں۔

شاید اپنی ذہنی کیفیت کو نارمل کرنے کے لیے ہلکی سی آواز میں اس نے کہا، سر مجھے آپ کے پاس کریم صاحب نے بھیجا ہے۔

میں فائل میں لگی اسناد و دیگر دستاویزات پر سرسری نظر ڈال کر اس کی مکمل شخصیت کا جائزہ لینے لگا۔

’میں تمہیں اپنے ایک اہم پروجیکٹ کا ہیڈ مقرر کر رہا ہوں، یہ تمہاری جاب کی پہلی آزمائش ہے، مجھے امید ہے کہ تم پوری دیانتداری سے اپنا کام کروگے۔‘

’سر آپ کے ساتھ کام کرنا میرے لیے خوش نصیبی ہے‘، یہ کہتے ہوئے اس نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور دوسرے پل اپنی نظروں کو جھکا لیا۔

کمرے میں ہلکی روشنی ہونے کے باوجود اس کی آنکھوں کی چمک ماند نہیں پڑی تھی۔ وہ خوشی کی ایک عجیب کیفیت میں مبتلا تھا، تبھی تو سامنے پڑے ہوئے کانٹریکٹ پر سائن کرتے وقت اس کی آنکھوں میں نمکین پانی اتر آیا تھا۔

’سب ٹھیک تو ہے؟‘، میں نے مکاری سے اس کی طرف دیکھا۔

وہ شاید میرے لفظوں کی گہرائی کو سمجھ نہیں سکا تھا۔

ہلکی مسکراہٹ ہونٹوں پر لاکر اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے اپنی آنکھوں کو مسل کر ایک بار پھر بے یقینی کی کیفیت میں کانٹریکٹ کی طرف دیکھا۔

’ٹھیک ہے، ٹھیک ہے اب اتنا جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں میں جانتا ہوں کہ تمہیں نوکری کی کتنی ضرورت تھی اور شاید تم اس نوکری سے بہت خوش ہو‘، میں نے ہنستے ہوئے پُرجوش انداز میں کہا۔

اسے قطعی طور پر یہ توقع نہیں تھی کہ میں اتنی باآسانی اور جلدی اسے یہ نوکری دے دوں گا۔

27 سے 28 برس کے اس سادہ اور سانولے سیلف میڈ راحیل میں نہ جانے ایسا کیا تھا۔ اس کا لہجہ اس کے ہونٹوں کی مسکراہٹ اس کا چلنا، اس کے بات کرنے کا انداز اس کی آنکھوں کی چمک کتنی یکسانیت تھی ہم دونوں کی شخصیت میں، ایسا لگتا تھا جیسے تاریخ ایک مرتبہ پھر خود دہرا رہی ہو۔

زندگی کتنی خوبصورت لگنے لگی تھی اسے، ایسے لگتا تھا جیسے بلیک اینڈ وائٹ زندگی میں اچانک کہکشاں کے سارے رنگ سما گئے ہوں۔

میں اپنے پلان کے مطابق اپنے کالے کرتوتوں کو چھپانے کے لیے اس پر میں نے ادارے کی جانب سے ایک بڑے پروجیکٹ کے لیے جاری کردہ ملنے والی رقم کی خورد برد کا الزام لگایا، وہ ایسے جال میں پھنس چکا تھا جہاں کوئی راہِ فرار دستیاب نہ تھی۔

اس پر کرپشن کا الزام ثابت ہوچکا تھا۔ آڈٹ ٹیم کے پاس شک کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہی تھی۔ تمام ثبوت اس کے خلاف تھے۔ تبھی تو وہ خود کو قانونی کارروائی کے گرداب سے خود کو نکال نہیں پایا تھا۔ اس وقت اس کی آواز سننے والا، اس کی مدد کرنے والا کوئی بھی نہیں تھا۔ قانونی کارروائی بربادیوں کا ایسا طوفان ثابت ہوا جس نے اس کا سب تہس نہس کردیا تھا سوائے اس کی آنکھوں میں سمائی ہوئی حیرانی اور بے بسی کے۔ وہ پوری طرح سے قانون کے شکنجے میں تھا، شاید اسی لمحے اس کے لبوں کی خاموشی کی خاموش بددعا سن لی گئی تھی۔

میں تو بس پتھر کا بت بن کر اس کی طرف دیکھتا رہا، نہ جانے کیا تھا اس کی خاموش نظر میں، ایک نرم فطرت، خوش مزاج اور محبت کرنے والے نوجوان کا چہرہ بالکل سرد اور سپاٹ تھا۔ کوئی بھی تکلیفدہ احساس اس کے کسی بھی عمل سے ظاہر نہیں ہو رہا تھا۔ بس اس کی نگاہ میں کوئی تو ایسی غیرمعمولی بات تھی جس نے مجھ جیسے مکار کو خطا اور گناہ کے دوراہے پر لا کھڑا کیا تھا۔

بے چینی و بے کلی حد سے زیادہ بڑھ گئی تھی۔ میں بنا کسی مقصد کے مختلف راستوں پر چکر کاٹتا رہا کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ دماغ مفلوج ہوچکا تھا۔ نہ جانے کس خیال کے تحت میں نے گاڑی کا رُخ کچی کالونی کی طرف موڑ دیا جہاں راحیل رہتا تھا۔

رات کے اس پہر کچی کالونی کے تمام چھوٹے چھوٹے کوارٹروں میں ساٹھ والٹ کے زرد روشنی پھیلاتے بلب جل رہے تھے۔

راحیل کی بوڑھی ماں اپنے بوسیدہ پُرانے کوارٹر کے آدھے کھلے ہوئے دروازے میں آنکھیں گاڑے بیٹھی تھی۔ مجھے اس طرح اچانک اپنے سامنے دیکھ کر ایک جھٹکے سے میرے سامنے آ کر کھڑی ہوگئی۔

صاحب، کچھ خبر ملی میرے راحیل کی، وہ جس درد کو بڑے ضبط سے اپنے سینے میں سما کر بیٹھی تھی وہ آنسوؤں کی صورت اختیار کرگیا۔ صاحب وہ۔۔ وہ میرے احساس میرے حوصلے کا مرکز ہے۔

میرا بیٹا میرا راحیل میری زندگی ہے۔

اس وقت اس کا بوڑھا وجود سراپا احتجاج بنا ہوا تھا۔

میرے آگے تو کسی کا درد کوئی بھی معنی نہیں رکھتا تھا میں نے ہمیشہ اپنے کام کو اپنے مقصد کو ترجیح دی تھی، تو پھر آج اس کے بہتے ہوئے آنسوؤں میں ایسا کیا تھا جو میں ریت کے ذرات کی طرح بکھرنے لگا تھا۔

صاحب، میں نے اس ظالم سنسار میں اسے اپنی سانسوں میں سما کر پالا پوسا ہے۔ وہ میری کُل کائنات میرا جسم میری روح ہے۔ میں بدنصیب اس کے سوا کچھ بھی نہیں ہوں۔ اسے تو ابھی اس بے وڑے ظالم سماج میں چلنے کا ہنر بھی نہیں معلوم۔ صاحب وہ جلدباز اور سادہ ضرور ہے لیکن کسی کے یقین کو ٹھیس نہیں پہنچا سکتا، کسی کے بارے میں بُرا سوچ بھی نہیں سکتا نہ ہی کسی کے ساتھ بُرا کرسکتا ہے۔ وہ اپنے بوڑھے کانپتے ہوئے دونوں ہاتھ باندھ کر مجھ جیسے رہزن و سے رحم مانگ رہی تھی۔

صاحب مجھ بچاری بدنصیب بیواہ نمانی پر رحم کرو۔

اس رات اس پسماندہ کچی کالونی کی کچی گلیوں میں سے گزرتے ہوئے مجھے اپنا وجود کسی راکشس کی طرح لگ رہا تھا کسی خون آشام راکشس کی طرح۔

زندگی میں پہلی دفعہ مجھے خود سے خوف محسوس ہو رہا تھا۔ شاید اس کے ہونٹوں کی خاموشی اس کی دی ہوئی خاموش بددعا اس کا صبر اثر کرگیا تھا تبھی تو اسی ہفتے شدید دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے اس میڈیکل سینٹر میں ایڈمٹ ہوں، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ میرے دل کے تین شریانیں بند ہیں۔

بارش زور و شور سے برس رہی تھی۔ طبی مرکز کے آس پاس واقع مساجد کے اسپیکرز سے بلند ہوتی فجر کی آذان کی آوازیں کھڑکی سے گزر کر کمرے میں گونج رہی تھیں۔

نیم تاریک کمرے میں آذان میری سماعتوں تک پہنچ رہی تھی اور میرے آنسوں رواں تھے۔

دنیا کے اس گورکھ دھندے میں کچھ ہاتھ نہ آیا تھا کچھ بھی پلے نہیں پڑا تھا، سوائے خسارے کے۔