ارشد ملک پی آئی اے اور ایئر فورس میں سے ایک کا انتخاب کریں، سپریم کورٹ

اپ ڈیٹ 20 فروری 2020

ای میل

ارشد ملک کو سی ای او پی آئی اے تعینات کیا گیا تھا — فائل فوٹو: ترجمان پی آئی اے
ارشد ملک کو سی ای او پی آئی اے تعینات کیا گیا تھا — فائل فوٹو: ترجمان پی آئی اے

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایئر مارشل ارشد محمود ملک کی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے سربراہ کے طور پر تعیناتی کو 'غیر قانونی' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایئرفورس یا پی آئی اے میں سے ایک کا انتخاب کریں کیونکہ وہ ایک ساتھ دو عہدے نہیں رکھ سکتے۔

عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بینچ نے پی آئی اے سربراہ کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت کی، اس دوران قومی احتساب بیورو (نیب) کے وکیل، پی آئی اے بورڈ کے وکیل نعیم بخاری، ارشد ملک کے وکیل سلمان اکرم راجا و دیگر حکام پیش ہوئے۔

دوران سماعت پی آئی اے کے گمشدہ جہاز سے متعلق پیش کی گئی رپورٹ کا معاملہ بھی سامنے آیا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ گمشدہ جہاز کے حوالے سے پی آئی اے کی رپورٹ پڑھی ہے۔

اس پر نیب کے وکیل نے کہا کہ پی آئی اے بورڈ نے عدالت کو مکمل حقائق نہیں بتائے، اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں عدالت مزید وقت دے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نیب کو صرف وقت ہی چاہیے ہوتا ہے، (تاہم) نیب اپنی تحقیقات جاری رکھے۔

مزید پڑھیں: بہتر ہے پی آئی اے کو پاکستان ایئرفورس کے حوالے کردیں، چیف جسٹس

عدالت میں سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ جہاز فروخت کرنے کا فیصلہ کب اور کہاں ہوا؟ جس پر وکیل پی آئی اے بورڈ نے کہا کہ جرمن سے تعلق رکھنے والے اداراے کے سی ای او نے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا، اسی دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فیصلہ یہ ہوا تھا کہ جہاز کمرشل مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہوگا۔

اسی دوران وکیل سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ جہاز مالٹا میں فلم کی شوٹنگ کے لیے استعمال ہوا، مالٹا سے شوٹنگ کے بعد جہاز جرمنی گیا۔

وکیل پی آئی اے بورڈ نے بتایا کہ شوٹنگ کی مد میں ادارے کو 2 لاکھ 10 ہزار یورو ملے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پی آئی اے کے لوگوں کے ساتھ کیا معلوم کونسی فلم شوٹ ہوئی ہوگی، فلم بنانے والی کمپنی اسرائیلی ہونا بہت سنجیدہ بات ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جہاز کی قیمت فروخت سے زیادہ ہے تو لگتا ہے کہ جرمنی پہنچانے کی ادائیگی کی گئی، جہاز جرمنی ایئرپورٹ پر پارک ہوا۔

عدالتی ریمارکس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ جائزہ لیا جارہا ہے کہ طیارہ اتنا عرصہ جرمنی میں کیوں کھڑا رہا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نجی کمپنیاں اپنے ادارے کے حوالے سے ایک دن میں فیصلے کرتی ہیں۔

اس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ طیارہ فروخت کرنے کا فیصلہ پی آئی اے بورڈ کا نہیں تھا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پی آئی اے نے چار جہاز گراؤنڈ کیے ہیں، بقیہ تین جہاز کہاں فروخت ہوئے کچھ معلوم نہیں۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا باقی 3 جہاز کھول کر کباڑ خانے میں تو نہیں دے دیے؟ کیا ایسے حالات میں موجودہ انتظامیہ کو کام کرنے دیں؟ کھلی عدالت میں مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا، ساتھ ہی یہ ریمارکس بھی آئے کہ پی آئی اے والے صرف کاغذی کارروائی کرکے آتے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ پی آئی اے کو پروفیشنل (پیشہ ورانہ) انداز میں چلایا جانا چاہیے، پی آئی اے میں سہولیات کا غلط استعمال کیا جاتا ہے، پی آئی اے ملازمین جہازوں کو ذاتی استعمال میں لاتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ارشد محمود ملک کا تقرر حکومت کی غیرسنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے، لگتا ہے کہ حکومت پی آئی اے کو ایڈہاک ازم پر چلانا چاہتی ہے، ساتھ ہی یہ ریمارکس بھی دیے گئے کہ ایئرچیف جب چاہیں ارشد ملک کی خدمات واپس لے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کا طیارہ گم نہیں ہوا اسے فروخت کیا گیا، عدالت میں جواب

سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ پی آئی اے کو مستقل سربراہ کی ضرورت ہے، ایسا چیئرمین جو ادارے کو پروفیشل انداز میں چلا کر پی آئی اے کو منافع بخش بنائے (کیونکہ) عوام کو بہترین سروس مناسب کرایوں پر ملنی چاہیے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ارشد محمود ملک ایک ساتھ دو عہدے نہیں رکھ سکتے، ڈیپوٹیشن پر سربراہ کا تقرر غیرقانونی ہے، ارشد ملک سے پوچھ لیں وہ کون سا عہدہ رکھنا چاہتے ہیں۔

ساتھ ہی چیف جسٹس نے یہ ریمارکس دیے کہ ارشد محمود اپنی ائیرفورس کی سروسز سے دستبردار ہو کر پی آئی اے میں آجائیں۔

اس پر وکیل نعیم بخاری نے سی ای او ارشد ملک سے ہدایات لینے کے لیے وقت مانگ لیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سابق وزیراعظم اپنے علاج کے لیے جہاز کو لندن لے گئے، پی آئی اے کا جہاز ان کے علاج تک لندن میں کھڑا رہا، عدالت کو سب معلوم ہے ہمارا حافظہ کمزور نہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم نے جانا ہو تو جہاز ملتا ہے نہ ٹکٹ، ساتھ ہی چیف جسٹس نے کہا کہ فوج نے پاکستان اسٹیل ملز کو سنبھالا تو کچھ ڈیلور نہ کیا، اسٹیل ملز ہر ماہ منافع دیے بغیر اربوں کا خسارہ کررہی ہے۔

اس پر سلمان اکرم راجا نے عدالت میں کہا کہ ایئر مارشل نورخان بھی پی آئی اے میں رہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایئرمارشل نور خان کی بات الگ ہے، وہ بڑے لوگ تھے ان کا کسی سے موزانہ نہ کریں۔

دوران سماعت وکیل نے کہا کہ ایئرفورس سے ریٹائرڈ افسر کو پی آئی اے میں چیف ایگزیکٹو بنایا گیا تو یونین نے انہیں آفس میں بند کردیا، اس پر جسٹس سجاد علی شاہ کا کہنا تھا کہ 'آپ کی دلیل مان لیں تو پھر ساری حکومت دفاتر بند کردے، آپ کی دلیل ہے کہ آرمی کا ڈنڈا نہ ہو تو یونین والے پی آئی اے کو چلنے نہیں دیں گے'، کیا حکومت اتنی ناکام ہوگئی ہے۔

اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سب کچھ ایڈہاک ازم پر چل رہا ہے کچھ تبدیل نہیں ہوا، سی ڈی اے کا چیئرمین قائم مقام لگایا ہوا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے کہا کہ ارشد ملک ایئرفورس یا پی آئی اے میں سے ایک کا انتخاب کریں، ساتھ ہی آئندہ سماعت پر ان سے حتمی جواب بھی طلب کرلیا گیا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ پی آئی اے کو ایسا سربراہ چاہیے جو اسے عالمی معیار کی ایئرلائن بنائے، ارشد ملک کی خدمات ایئرفورس کبھی بھی واپس لے سکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ پی آئی اے کو عارضی نہیں مستقل سربراہ کی ضرورت ہے، پی آئی اے میں عارضی تعیناتی حکومت کی غیرسنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔

ساتھ ہی عدالت نے جہاز گمشدگی سے متعلق پی آئی اے کی رپورٹ مسترد کر دی، جس کے بعد مذکورہ کیس کی سماعت مارچ کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔

پی آئی اے کے سی ای او کا معاملہ

خیال رہے کہ 31 دسمبر 2019 کو سندھ ہائی کورٹ نے قومی ایئر لائن کے چیف ایگزیکٹو افسر ایئر مارشل ارشد ملک کو کام کرنے سے روک دیا تھا اور ادارے میں نئی بھرتیوں، ملازمین کو نکالنے اور تبادلے پر بھی پابندی لگادی تھی۔

سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ایئر مارشل ارشد ملک کو کام کرنے اور پی آئی اے میں خرید و فروخت، پالیسی سازی اور ایک کروڑ سے زائد کے اثاثے بھی فروخت کرنے سے روک دیا تھا۔

علاوہ ازیں عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو 22 جنوری کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا تھا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کی پی آئی اے کو منافع بخش ادارے بنانے کی ہدایت

بعد ازاں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے چیف ایگزیکٹو افسر ایئرمارشل ارشد محمود نے اپنے خلاف سندھ ہائی کورٹ کا عبوری فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

مذکورہ درخواست میں وفاق، کابینہ ڈویژن اور وزارت سول ایوی ایشن کو فریق بنایا گیا تھا اور استدعا کی گئی تھی کہ انہیں عہدے پر بحال کیا جائے۔

واضح رہے کہ ایئر مارشل ارشد ملک کے خلاف ایئر لائنز سینئر اسٹاف ایسوسی ایشن (ساسا) کے جنرل سیکریٹری صفدر انجم نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ اس عہدے کے لیے ایئر مارشل ارشد ملک تعلیمی معیار پر پورا نہیں اترتے اور ان کا ایئر لائن سے متعلق کوئی تجربہ نہیں ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایئر مارشل ارشد ملک نے 1982 میں بی ایس سی کیا اور اس کے بعد وار اسٹیڈیز سے متعلق تعلیم حاصل کی تاہم انہیں ایئر لائن انڈسٹری اور کمرشل فلائٹس سے متعلق سول ایوی ایشن قوانین سے کچھ آگاہی نہیں ہے۔