سپریم کورٹ: گیس انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ

20 فروری 2020

ای میل

عدالت عظمیٰ میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی — فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ
عدالت عظمیٰ میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی — فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے گیس انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

عدالت عظمیٰ میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے جی آئی ڈی سی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

اس دوران گیس کمپنیوں کے وکیل سلمان اکرم راجا اور سی این جی اسٹیشنز مالکان کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل مخدوم علی خان شاہ پیش ہوئے جبکہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بھی دلائل دیے۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی حکومت کی جانب سے سیس کی حمایت کی گئی جبکہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے گیس انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس کی مخالفت کی گئی۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: جی آئی ڈی سی کی جانچ پڑتال، فنڈز کے استعمال پر سوالات

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی صنعت پہلے ہی پسی ہوئی ہے، کے پی کے حکومت چاہتی ہے کہ صنعت پر سیس نہ لگایا جائے۔

اس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پوری صنعت کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہونا چاہیے، عدالت فیصلے میں سیس کے قانون سے پہلے وصولی کو بھی مد نظر رکھے۔

اس دوران مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے ایسے سیس کی وصولی کے لیے ایک مخصوص رقم خرچ کرنے کا فیصلہ دیا، ساتھ ہی انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ہماری صنعت کو ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور انڈیا (تاپی) یا پاک ایران گیس پائپ لائن سے کوئی فائدہ نہیں۔

بعد ازاں عدالت نے مذکورہ معاملے پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا لیکن ساتھ ہی کہا کہ تمام وکلا 15 روز میں اپنی معروضات تحریری طور پر جمع کرواسکتے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ محفوظ شدہ فیصلہ مناسب وقت پر سنایا جائے گا۔

یاد رہے کہ جی آئی ڈی سی کے معاملے پر سپریم کورٹ میں کئی درخواستیں دائر ہیں، جن میں سے ایک درخواست پشاور ہائی کورٹ کے 31 مئی 2017 کے احکامات کے خلاف خیبر پختونخوا کے 499 سی این جی اسٹیشنز کی جانب سے مشترکہ طور پر سینئر وکیل مخدوم علی خان نے دائر کی تھی۔

درخواست میں سی این جی اسٹیشنز کو ملنے والی گیس پر جی آئی ڈی سی لاگو کرنے اور اسے اکٹھا کرنے کو روکنے کے احکامات کا مطالبہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: 'حکومت گیس سیس کو انفرا اسٹرکچر پر خرچ نہیں کر رہی'

واضح رہے کہ جی آئی ڈی سی کا معاملہ اس وقت متنازع ہوا جب حکومت نے گزشتہ برس متنازع آرڈیننس جاری کیا تھا، جس کے تحت فرٹلائزر، جنرل انڈسٹری، آئی پی پیز، پاور جنریشن، کے الیکٹرک اور سی این جی سیکٹر وغیرہ جیسے بڑے کاروبار کو 210 ارب روپے کی مالیاتی ایمنسٹی فراہم کی جانی تھی۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے 27 اگست کو صدارتی آرڈیننس جاری کیا تھا جس کے تحت صنعتوں سے 420 ارب روپے کے جی آئی ڈی سی تنازع کے حوالے سے تصفیے کی پیشکش کی گئی تھی۔

آرڈیننس میں بتایا گیا تھا کہ صنعت، فرٹلائزر اور سی این جی کے شعبے 50 فیصد بقایاجات کو 90 روز میں جمع کرواکر مستقبل کے بلوں میں 50 فیصد تک رعایت حاصل کرسکتے ہیں جبکہ انہیں اس حوالے سے عدالتوں میں موجود کیسز بھی ختم کرنے ہوں گے۔