2019 کے پولیو کیسز سامنے آنے کا سلسلہ اب تک جاری، تعداد 146 ہوگئی

اپ ڈیٹ 17 جولائ 2020

ای میل

نمونوں سے تصدیق ہوگئی کہ دونوں بچے پولیو وائرس کا شکار ہوئے ہیں — فائل فوٹو: انسداد پولیو ویب سائٹ
نمونوں سے تصدیق ہوگئی کہ دونوں بچے پولیو وائرس کا شکار ہوئے ہیں — فائل فوٹو: انسداد پولیو ویب سائٹ

اسلام آباد: پنجاب میں پولیو سے متاثر ہونے کے 2 مزید کیسز سامنے آگئے جس کے بعد سال 2019 کے پولیو کیسز کی تعداد 146 ہوگئی۔

اس سلسلے میں نیشنل مینجر ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے پولیو ڈاکٹر رانا صفدر نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہمیں بڑی تعداد میں مفلوج بچوں کے نمونے موصول ہوتے ہیں لیکن ہر بچہ پولیو کی وجہ سے مفلوج نہیں ہوتا‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’دونوں بچوں کے نمونے 8 دسمبر اور 28 دسمبر کو لیے گئے تھے اس وقت وائرس کے آثار بہت معمولی تھے اس کی وجہ سے ہمیں ان کی افزائش کرنی پڑی جس سے بالآخر یہ تصدیق ہوگئی کہ دونوں بچے پولیو وائرس کا شکار ہوئے ہیں‘۔

ڈاکٹر رانا صفدر نے کہا کہ ’ہم اس وقت سال 2020 میں ہیں لیکن چونکہ نمونے گزشتہ برس اکٹھا کیے گئے تھے اس لیے ان کیسز کو 2019 کی فہرست میں درج کیا جائے گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں 5 روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز

تفصیلات کے مطابق ضلع لاہور کی تحصیل راوی ٹاؤن کی یونین کونسل 13 میں 4 سال 5 ماہ کی بچی پولیو کے باعث معذور ہوئی۔

بچی کو ویکسین دی گئی تھی لیکن وہ غذائیت کی شدید کمی کا شکار تھی جس کی وجہ سے اس میں قوت مدافعت شدید کمی تھی۔

دوسرا پولیو کیس ایک 14 سال کی لڑکی میں سامنے آیا جس کا تعلق ضلع و تحصیل اوکاڑہ کی یونین کونسل 18 سے ہے۔

مزید پڑھیں: پولیو کیسز: بابر بن عطا نے مجرمانہ غفلت کی ہے تو انہیں سزا دی جائے، اعظم سواتی

ڈاکٹر رانا صفدر کا کہنا تھا کہ اس طرح کے کیسز کہ جس میں کوئی ٹین ایجر متاثر ہو اس میں فالج محدود ہوتا ہے اور زیادہ تر وہ معمول کی زندگی گزارتے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس میں جہاں 146 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے اس کے مقابلے 2018 میں 12 اور 2017 میں محض 8 کیسز سامنے آئے۔

دوسری جانب رواں سال اب تک ملک میں 17 بچوں کے پولیو کا شکار بننے کی تصدیق ہوچکی ہے۔

گزشتہ برس سامنے آنے والی کیسز میں 92 خیبر پختونخوا 30 سندھ اور پنجاب اور بلوچستان میں 12، 12 کیسز سامنے آئے تھے۔

خیال رہے کہ پولیو ایک انتہائی معتدی مرض ہے جو زیادہ تر 5 سال تک کی عمر کے بچوں کو اپنا شکار بناتا ہے، یہ اعصابی نظام پر اثر انداز ہو کر معذوری بلکہ موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ اور خیبرپختونخوا سے پولیو کے مزید 4 کیسز رپورٹ

پولیو کا اب تک کوئی علاج دریافت نہیں ہوا البتہ ویکسینیشن بچوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔

ہر مرتبہ جب ایک بچے کو پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں تو وائرس سے اس کی حفاظت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

متعدد مرتبہ ویکسین دینے سے لاکھوں بچوں کو پولیو سے محفوظ کیا جاچکا ہے اور اس طرح دنیا کے تقریباً تمام ممالک پولیو سے پاک ہوچکے ہیں۔


یہ خبر 21 فروری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔