اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں بھارتی وفد کی شرکت

اپ ڈیٹ 21 فروری 2020

ای میل

بیلاروس نے بطور مبصر ملک اجلاس میں شرکت کی — فائل فوٹو: ڈان
بیلاروس نے بطور مبصر ملک اجلاس میں شرکت کی — فائل فوٹو: ڈان

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے ایکسپرٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں بھارتی وفد نے بھی شرکت کی۔

پاکستان میں منعقدہ 2 روز اجلاس میں دنیا اور خطے کی سلامتی جبکہ امن و استحکام کے تحفظ کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے شنگھائی تعاون کے فریم ورک برائے دفاعی اور تعاون کے اپنی نوعیت کے پہلے اجلاس سے متعلق جاری بیان میں کہا کہ ’ایس سی او کے نویں دفاعی اور سیکیورٹی ماہرین ورکنگ گروپ (ای ڈبلیو جی) کا اجلاس 19 اور 20 فروری 2020 کو اسلام آباد میں منعقد ہوا‘۔

مزید پڑھیں: شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس: وزیر اعظم عمران خان کرغزستان پہنچ گئے

یہ ’ایس سی او دفاعی و سیکیورٹی تعاون پلان-2020‘ کے تحت شنگھائی تعاون تنظیم کا پہلا اجلاس تھا جو خاص طور پر فوجی اہلکاروں کی صلاحیت اور تیاری میں اضافے کے ذریعے رکن ممالک کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون پر غور کرتا ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کا دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کا طریقہ کار جو 2001 سے موجود ہے، یہ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے تعاون، فعال تبادلوں اور مشترکہ مشقوں سمیت متعدد دفاعی اور سیکیورٹی شعبوں میں بھرپور تعاون فراہم کرتا ہے۔

اجلاس میں بھارت سمیت شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام رکن ممالک نے شرکت کی تھی، جو عموما دو طرفہ کشیدگی کے باعث پاکستان میں کثیر الجہتی اجلاسوں میں شرکت سے گریز کرتا ہے۔

علاوہ ازیں بیلاروس نے بطور مبصر ملک شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’میزبان ملک پاکستان کے علاوہ اجلاس میں چین، روس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور بھارت شریک تھے جبکہ بیلاروس نے مبصر ملک کی حیثیت سے شرکت کی‘۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کا مستقل رکن بن گیا

گزشتہ برس پاکستان اور بھارت نے شدید دشمنی اور تنازعات کے باوجود روس میں فوجی مشقوں میں ایک ساتھ شرکت کی تھی۔

آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ’اجلاس میں ایس سی او رکن ممالک کے درمیان تعاون کے مختلف پہلوؤں اور خطے کی سیکیورٹی پر تبادلہ خیال کیا گیا‘۔

بیان کے مطابق اجلاس کے شرکا نے باہمی مفاد سمیت مشترکہ تربیتی اور فوجی مشقوں سمیت اہم معاملات پر معلومات کا تبادلہ کیا اور اپنی رائے بھی پیش کی۔


یہ خبر 21 فروری، 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی